🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب استحباب تحنيك المولود عند ولادته وحمله إلى صالح يحنكه وجواز تسميته يوم ولادته واستحباب التسمية بعبد الله وإبراهيم وسائر اسماء الانبياء عليهم السلام:
باب: بچہ کے منہ میں کچھ چبا کر ڈالنے کا اور دوسری چیزوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2149 ترقیم شاملہ: -- 5621
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قال: أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ، فَوَضَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِهِ، وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ فَلَهِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ، فَاحْتُمِلَ مِنْ عَلَى فَخِذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْلَبُوهُ فَاسْتَفَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَيْنَ الصَّبِيُّ؟ "، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أَقْلَبْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " مَا اسْمُهُ؟ "، قَالَ: فُلَانٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " لَا، وَلَكِنْ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ "، فَسَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِر َ.
حضرت سہل بن سعد (بن مالک رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، کہا: کہ ابواسید رضی اللہ عنہ کا بیٹا منذر، جب پیدا ہوا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی ران پر رکھا اور (اس کے والد) ابواسید بیٹھے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز میں اپنے سامنے متوجہ ہوئے تو ابواسید نے حکم دیا تو وہ بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ران پر سے اٹھا لیا گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا تو فرمایا کہ بچہ کہاں ہے؟ سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم نے اس کو اٹھا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا نام کیا ہے؟ ابواسید نے کہا کہ فلاں نام ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اس کا نام منذر ہے۔ پھر اس دن سے انہوں نے اس کا نام منذر ہی رکھ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5621]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، جب منذر بن ابی اسید پیدا ہوئے تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی ران پر بٹھا لیا اور ابو اسید رضی اللہ تعالی عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سامنے پڑی ہوئی کسی چیز میں مشغول ہو گئے تو حضرت اسید رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بیٹے کے بارے میں حکم دیا، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران پر بٹھا لیا گیا اور اسے گھر لوٹا دیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مشغولیت سے بیدار ہوئے تو پوچھا "بچہ کہاں ہے؟" تو حضرت ابو اسید رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا، ہم نے اسے واپس بھیج دیا ہے، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے پوچھا اس کا نام کیا ہے؟ اس نے جواب دیا، فلاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، لیکن اس کا نام منذر ہے۔ تو اسی دن آپ نے اس کا نام منذر رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5621]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيىصحابي
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم
Newسلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي
ثقة
👤←👥محمد بن مطرف الليثي، أبو غسان
Newمحمد بن مطرف الليثي ← سلمة بن دينار الأعرج
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← محمد بن مطرف الليثي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن إسحاق الصاغاني، أبو بكر
Newمحمد بن إسحاق الصاغاني ← سعيد بن أبي مريم الجمحي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن سهل التميمي، أبو بكر
Newمحمد بن سهل التميمي ← محمد بن إسحاق الصاغاني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6191
ما اسمه قال فلان قال ولكن أسمه المنذر فسماه يومئذ المنذر
صحيح مسلم
5621
أتي بالمنذر بن أبي أسيد إلى رسول الله حين ولد فوضعه النبي على فخذه وأبو أسيد جالس فلهي النبي بشيء بين يديه فأمر أبو أسيد بابنه فاحتمل من على فخذ رسول الله فأقلبوه فاستفاق رسول الله فقال أين الصبي فقال أبو أسيد أقلبناه يا رسول الله فقال ما اسمه قال فلان يا
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5621 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5621
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
لهي بشئي:
آپ کسی چیز میں مشغول ہوگئے اور آپ کی سہولت کی خاطر بچے کو آپ کی ران سے اٹھا لیا گیا اور کسی دوسرے وقت گھٹی دلوانے کی نیت پر واپس بھیج دیا گیا۔
(2)
استفاق:
آپ اپنی سوچ اور فکر سے بیدار ہوئے تو بچہ کو دیکھا اور اس کے بارے میں پوچھا۔
فوائد ومسائل:
بچے کے باپ کا چچا زاد منذر بن عمرو،
بئر معونہ کے واقعہ میں شہید ہو چکا تھا،
اس لیے آپ نے نیک شگون کے لیے بچہ کا نام منذر رکھا،
تاکہ وہ بھی شہید ہونے والے منذر کے نقش قدم پر چلے،
یا اس کو انذار کے لیے علم نصیب ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5621]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6191
6191. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ منذر بن ابو اسید ؓ جب پیدا ہوئے تو انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی رانوں پر رکھ لیا اور حضرت ابو اسید ؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول ہو گئے تو حضرت ابو اسید ؓ نے اپنے بیٹے کے متعلق حکم دیا کہ اسےاٹھا لیا جائے، چنانچہ بچے کو آپ کی ران سے اٹھا لیا گیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کام سے فارغ ہوئے تو فرمایا: بچہ کہاں ہے؟ حضرت ابو اسید ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے اسے گھر بھیج دیا ہے۔ آپ نے پوچھا: اس کا نام کیا ہے؟ عرض کی: فلاں ہے۔ آپ نے فرمایا: لیکن اس کا نام منذر ہے۔ چنانچہ اسی دن آپ نے اس کا نام منذر رکھ دیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6191]
حدیث حاشیہ:
منذر گنہگار وں کو عذاب الہٰی سے ڈرانے والا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6191]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6191
6191. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ منذر بن ابو اسید ؓ جب پیدا ہوئے تو انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی رانوں پر رکھ لیا اور حضرت ابو اسید ؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول ہو گئے تو حضرت ابو اسید ؓ نے اپنے بیٹے کے متعلق حکم دیا کہ اسےاٹھا لیا جائے، چنانچہ بچے کو آپ کی ران سے اٹھا لیا گیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کام سے فارغ ہوئے تو فرمایا: بچہ کہاں ہے؟ حضرت ابو اسید ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے اسے گھر بھیج دیا ہے۔ آپ نے پوچھا: اس کا نام کیا ہے؟ عرض کی: فلاں ہے۔ آپ نے فرمایا: لیکن اس کا نام منذر ہے۔ چنانچہ اسی دن آپ نے اس کا نام منذر رکھ دیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6191]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک فالی کے طور پر بچے کا نام منذر رکھا تاکہ اللہ تعالیٰ اسے علم کی دولت عطا فرمائے اور وہ اپنی قوم کو برے انجام سے آگاہ کرے۔
(2)
روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بئر معونہ میں اس کے خاندان کے ایک بزرگ منذر بن عمرو ساعدی رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تھے تو انہی کے نام پر ان کا نام رکھ دیا گیا تھا۔
(صحیح البخاري،المغازي، حدیث: 4093)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6191]