🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب النهي عن ابتداء اهل الكتاب بالسلام وكيف يرد عليهم:
باب: یہود اور نصاریٰ کو خود سلام نہ کرے اگر وہ کریں تو کیسے جواب دے، اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2165 ترقیم شاملہ: -- 5659
حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَفَطِنَتْ بِهِمْ عَائِشَةُ، فَسَبَّتْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَهْ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ "، وَزَادَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ سورة المجادلة آية 8 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
یعلیٰ بن عبید نے ہمیں خبر دی کہا: ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی بات سمجھ لی (انہوں نے سلام کے بجائے سام کا لفظ بولا تھا) اور انہیں برا بھلا کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! بس کرو، اللہ تعالیٰ برائی اور اسے اپنانے کو پسند نہیں فرماتا۔ اور یہ اضافہ کیا تو اس پر اللہ عزوجل نے «وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ» نازل فرمائی: اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس طرح سلام نہیں کہتے جس طرح اللہ آپ کو سلام کہتا ہے۔ آیت کے آخر تک (اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں جو کچھ ہم کہتے ہیں اللہ اس پر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا؟ ان کے لیے دوزخ کافی ہے جس میں وہ جلیں گے اور وہ لوٹ کر جانے کا بدترین ٹھکانا ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5659]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے یوں بیان کرتے ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ان کی بات سمجھ لی اور انہیں برا بھلا کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رک جا، باز رہ اے عائشہ! کیونکہ اللہ تعالیٰ بدگوئی اور بدزبانی کو آغاز اور جواب میں پسند نہیں کرتا۔ اور اس میں یہ اضافہ ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں، آپ کو اس طرح سلام کہتے ہیں، جس طرح اللہ نے آپ کو سلام نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5659]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2165
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمدثقة حافظ
👤←👥يعلى بن عبيد الطناقسي، أبو يوسف
Newيعلى بن عبيد الطناقسي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة إلا في حديثه عن الثوري ففيه لين
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← يعلى بن عبيد الطناقسي
ثقة حافظ إمام
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5659 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5659
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
الفحش:
برا قول وفعل اورحدود سے تجاوز کرنا۔
(2)
التحفش:
جواباً فحش گوئی کرنا۔
(3)
مه:
اپنی بات سے رک جا،
باز رہ۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5659]