صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلاَمِ وَكَيْفَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ:
باب: یہود اور نصاریٰ کو خود سلام نہ کرے اگر وہ کریں تو کیسے جواب دے، اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2163 ترقیم شاملہ: -- 5652
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ ".
عبیداللہ بن ابی بکر نے اپنے دادا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل کتاب تم کو سلام کریں تو تم ان کے جواب میں «وعليكم» اور تم پر، کہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5652]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2163
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2163 ترقیم شاملہ: -- 5653
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟، قَالَ: قُولُوا: وَعَلَيْكُمْ ".
شعبہ نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں۔ ہم ان کو کیسے جواب دیں، آپ نے فرمایا: ”تم لوگ «وعليكم» اور تم پر، کہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5653]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اہل کتاب ہمیں سلام کہتے ہیں تو ہم انہیں کیسے جواب دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو، وعلیکم [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5653]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2163
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2164 ترقیم شاملہ: -- 5654
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي بْنِ يَحْيَي، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَر ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ ".
اسماعیل بن جعفر نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب یہود تم کو سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کوئی شخص «اَلسَامُ عَلَيكُم» تم پر موت نازل ہو، کہتا ہے۔“ (اس پر) تم «عَلَيكُم» تجھ پر ہو کہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5654]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود جب تمہیں سلام کہتے ہیں تو ان میں سے ایک کہتا ہے، تم پر موت آئے تو تم کہو، علیک۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5654]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2164
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2164 ترقیم شاملہ: -- 5655
وحدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقُولُوا وَعَلَيْكَ.
سفیان نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مانند روایت کی مگر اس میں ہے: ”تو تم کہو: «وعليكم» تم پر ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5655]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے، اس فرق سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے ”فقل عليك [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5655]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2164
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2165 ترقیم شاملہ: -- 5656
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ: " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ "، قَالَتْ: أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟، قَالَ: " قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ ".
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: یہودیوں کی ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے اجازت طلب کی اور انہوں نے کہا «اَلسَامُ عَلَيكُم» آپ پر موت ہو! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلکہ تم پر موت ہو اور لعنت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی پسند فرماتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے «وَعَلَيكُم» اور تم پر ہو، کہہ دیا تھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5656]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، یہود کے ایک گروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہا، السام عليكم، [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5656]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2165
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2165 ترقیم شاملہ: -- 5657
وحدثنا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا الْوَاوَ.
صالح اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، دونوں کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے «عليكم» کہہ دیا تھا۔“ اور انہوں نے اس کے ساتھ واؤ (اور) نہیں لگایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5657]
امام صاحب کو یہی روایت اور اساتذہ نے بھی اپنی اپنی سند سے سنائی، اس میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کہہ چکا ہوں، عليكم، [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5657]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2165
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2165 ترقیم شاملہ: -- 5658
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، قَالَ: " وَعَلَيْكُمْ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: قُلْتُ بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ: " لَا تَكُونِي فَاحِشَةً "، فَقَالَتْ: مَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا؟ فَقَالَ: " أَوَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمُ الَّذِي قَالُوا قُلْتُ: وَعَلَيْكُمْ ".
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے مسلم سے انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہود میں سے کچھ لوگ آئے، انہوں نے آ کر کہا: «اَلسَامُ عَلَيكَ يا أَبَا الْقَاسِم» ابوالقاسم! آپ پر موت ہو، آپ نے فرمایا: ”وَعَلَیکُم (تم لوگوں پر ہو!)“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”بلکہ تم پر موت بھی ہو ذلت بھی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! زبان بری نہ کرو۔“ انہوں نے (عائشہ رضی اللہ عنہا) کہا: آپ نے نہیں سنا، انہوں نے کیا کہا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے جو کہا تھا میں نے ان کو لوٹا دیا، میں نے کہا: تم پر ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5658]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ یہودی لوگ آئے اور کہا، السام عليك، [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5658]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2165
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2165 ترقیم شاملہ: -- 5659
حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَفَطِنَتْ بِهِمْ عَائِشَةُ، فَسَبَّتْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَهْ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ "، وَزَادَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ سورة المجادلة آية 8 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
یعلیٰ بن عبید نے ہمیں خبر دی کہا: ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی بات سمجھ لی (انہوں نے سلام کے بجائے سام کا لفظ بولا تھا) اور انہیں برا بھلا کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! بس کرو، اللہ تعالیٰ برائی اور اسے اپنانے کو پسند نہیں فرماتا۔“ اور یہ اضافہ کیا تو اس پر اللہ عزوجل نے «وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ» نازل فرمائی: ”اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس طرح سلام نہیں کہتے جس طرح اللہ آپ کو سلام کہتا ہے۔“ آیت کے آخر تک (اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں جو کچھ ہم کہتے ہیں اللہ اس پر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا؟ ان کے لیے دوزخ کافی ہے جس میں وہ جلیں گے اور وہ لوٹ کر جانے کا بدترین ٹھکانا ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5659]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے یوں بیان کرتے ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ان کی بات سمجھ لی اور انہیں برا بھلا کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رک جا، باز رہ اے عائشہ! کیونکہ اللہ تعالیٰ بدگوئی اور بدزبانی کو آغاز اور جواب میں پسند نہیں کرتا۔“ اور اس میں یہ اضافہ ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، ”جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں، آپ کو اس طرح سلام کہتے ہیں، جس طرح اللہ نے آپ کو سلام نہیں کہا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5659]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2165
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2166 ترقیم شاملہ: -- 5660
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قالا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ يَهُودَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ: " وَعَلَيْكُمْ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: " بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا ".
ابوزبیر نے کہا: انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا: یہود میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کہا «اَلسَامُ عَلَيكَ يا أَبَا الْقَاسِم» ابوالقاسم! آپ پر موت ہو! اس پر آپ نے فرمایا: ”تم پر ہو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں اور وہ غصے میں آگئی تھیں۔ کیا آپ نے نہیں سنا، جو انہوں نے کہا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں! میں نے سنا ہے اور میں نے ان کو جواب دے دیا ہے اور ان کے خلاف ہماری دعا قبول ہوتی ہے اور ہمارے خلاف ان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5660]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، کچھ یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، السّام عليك، [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5660]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2166
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2167 ترقیم شاملہ: -- 5661
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَلَا النَّصَارَى بِالسَّلَامِ، فَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِهِ ".
عبدالعزیز دراوردی نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ کو سلام کہنے میں ابتدا نہ کرو اور جب تم ان میں سے کسی کو راستے میں ملو (تو بجائے اس کے وہ یہ کام کرے) تم اسے راستے کے تنگ حصے کی طرف جانے پر مجبور کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5661]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود اور نصاریٰ کو پہلے سلام نہ کہو اور جب تم راستہ میں ان میں سے کسی کو ملو تو اس کے لیے راستہ تنگ کر دیا کرو تنگ راستہ پر مجبور کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5661]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2167
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة