صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
21. باب استحباب الرقية من العين والنملة والحمة والنظرة:
باب: نظر لگنے، پھوڑے پھنسی، زہریلے ڈنگ وغیرہ کی تکلیف میں دم کرانے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 2199 ترقیم شاملہ: -- 5729
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: كَانَ لِي خَالٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى، قَالَ: فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى، وَأَنَا أَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ، فَقَالَ: " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ ".
وکیع نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میرے ایک ماموں تھے وہ بچھو کے کاٹے پر دم کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عمومی طور پر ہر طرح کے) دم کرنے سے منع فرمایا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے دم کرنے سے منع فرما دیا ہے۔ میں بچھو کے کاٹے سے دم کرتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو کوئی اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ ایسا کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5729]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میرا ایک ماموں بچھو ڈسنے کا دم کرتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کرنے سے روک دیا تو وہ آپ کے پاس آ کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے دموں سے منع فرما دیا ہے اور میں بچھو ڈسنے کا کام کرتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو بھی اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہو، پہنچائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5729]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2199
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
طلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري