صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
23. باب جواز اخذ الاجرة على الرقية بالقرآن والاذكار:
باب: قرآن یا دعا سے منتر کر کے اس پر اجرت لینا درست ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2201 ترقیم شاملہ: -- 5733
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا فِي سَفَرٍ، فَمَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَاسْتَضَافُوهُمْ فَلَمْ يُضِيفُوهُمْ، فَقَالُوا لَهُمْ: هَلْ فِيكُمْ رَاقٍ فَإِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ لَدِيغٌ أَوْ مُصَابٌ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: نَعَمْ، فَأَتَاهُ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأُعْطِيَ قَطِيعًا مِنْ غَنَمٍ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، وَقَالَ: حَتَّى أَذْكُرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا رَقَيْتُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَتَبَسَّمَ، وَقَالَ: " وَمَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟ "، ثُمَّ قَالَ: " خُذُوا مِنْهُمْ وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ ".
ہشیم نے ابوبشر سے، انہوں نے ابومتوکل سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سفر میں تھے عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلے کے سامنے سے ان کا گزر ہوا انہوں نے ان (قبیلے والے) لوگوں سے چاہا کہ وہ انہیں اپنا مہمان بنائیں۔ انہوں نے مہمان بنانے سے انکار کر دیا، پھر انہوں نے کہا: کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے کیونکہ قوم کے سردار کو کسی چیز نے ڈس لیا ہے یا اسے کوئی بیماری لاحق ہو گئی ہے۔ ان (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) میں سے ایک آدمی نے کہا: ہاں پھر وہ اس کے قریب آئے اور اسے فاتحہ الکتاب سے دم کر دیا۔ وہ آدمی ٹھیک ہو گیا تو اس (دم کرنے والے) کو بکریوں کا ایک ریوڑ (تیس بکریاں) پیش کی گئیں۔ اس نے انہیں (فوری طور پر) قبول کرنے (کے معاملے میں لانے) سے انکار کر دیا اور کہا: یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماجرا سنا دوں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا آپ کو سنایا اور کہا اے اللہ کے رسول! میں نے فاتحہ الکتاب کے علاوہ اور کوئی دم نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ دم (بھی) ہے؟“ پھر انہیں لے لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5733]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھی سفر پر تھے تو وہ عرب قبائل میں سے ایک قبیلے کے پاس سے گزرے اور ان سے مہمان نوازی چاہی تو انہوں نے ان کی مہمان نوازی نہ کی، (بعد میں) وہ صحابہ سے پوچھنے لگے: کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے؟ کیونکہ قبیلے کا سردار، اسے بچھو نے ڈس لیا ہے یا اس کی عقل میں خرابی پیدا ہو گئی ہے، تو ان میں سے ایک نے کہا: ہاں، سو وہ ان کے سردار کے پاس گیا اور اسے «فَاتِحَةُ الْكِتَابِ» ”فاتحہ الکتاب“ سے دم کیا، وہ آدمی تندرست ہو گیا اور انہوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ دیا، سو اس نے ساتھیوں کی بات ماننے سے انکار کیا اور کہا: یہاں تک کہ میں اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کروں، سو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا تذکرہ کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! میں نے تو صرف سورہ فاتحہ سے دم کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا: ”تمہیں کیسے پتہ چلا کہ یہ دم ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے لے لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5733]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥علي بن داود الناجي، أبو المتوكل علي بن داود الناجي ← أبو سعيد الخدري | ثقة | |
👤←👥جعفر بن أبي وحشية اليشكري، أبو بشر جعفر بن أبي وحشية اليشكري ← علي بن داود الناجي | ثقة | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← جعفر بن أبي وحشية اليشكري | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا يحيى بن يحيى النيسابوري ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة ثبت إمام |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2276
| انطلق نفر من أصحاب النبي في سفرة سافروها حتى نزلوا على حي من أحياء العرب فاستضافوهم فأبوا أن يضيفوهم فلدغ سيد ذلك الحي فسعوا له بكل شيء لا ينفعه شيء فقال بعضهم لو أتيتم هؤلاء الرهط الذين نزلوا لعله أن يكون عند بعضهم شيء فأتوهم فقالوا يا |
صحيح البخاري |
5007
| ما كان يدريه أنها رقية اقسموا واضربوا لي بسهم |
صحيح مسلم |
5735
| ما كان يدريه أنها رقية اقسموا واضربوا لي بسهم معكم |
صحيح مسلم |
5733
| ما أدراك أنها رقية ثم قال خذوا منهم واضربوا لي بسهم معكم |
جامع الترمذي |
2063
| ما علمت أنها رقية اقبضوا الغنم واضربوا لي معكم بسهم |
جامع الترمذي |
2064
| ما يدريك أنها رقية ولم يذكر نهيا منه وقال كلوا واضربوا لي معكم بسهم |
سنن أبي داود |
3418
| من أين علمتم أنها رقية أحسنتم واضربوا لي معكم بسهم |
سنن أبي داود |
3900
| من أين علمتم أنها رقية أحسنتم اقتسموا واضربوا لي معكم بسهم |
سنن ابن ماجه |
2156
| أو ما علمت أنها رقية اقتسموها واضربوا لي معكم سهما |
بلوغ المرام |
773
| إن أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله |
Sahih Muslim Hadith 5733 in Urdu
علي بن داود الناجي ← أبو سعيد الخدري