🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب تحريم قتل الهرة:
باب: بلی کے مارنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2243 ترقیم شاملہ: -- 5856
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا رَبَطَتْهَا، وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ حَشَرَاتِ الْأَرْضِ،
ابومعاویہ اور خالد بن حارث نے ہمیں حدیث سنائی کہا: ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، ان دونوں کی حدیث میں ہے:اس عورت نے اسے باندھ دیا۔اور ابومعاویہ کی حدیث میں ہے:حشرات الارض (زمین کے کیڑے مکوڑے) (کھا لیتی)۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5856]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں، اسے باندھے رکھا۔ اور ابو معاویہ کی روایت میں «خَشَاشِ» (کا لفظ ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5856]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2243
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكرثقة إمام في الحديث
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← محمد بن المثنى العنزي
ثقة
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5856 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5856
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
کسی جاندار کو باندھ کر کھانے پینے سے محروم رکھنا جائز نہیں ہے،
اگر باندھا ہے تو اس کے کھانے پینے کا انتظام کرنا چاہیے تاکہ وہ بھوکا پیاسا نہ مر جائے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے جو مطلقا بلی کو مارنے کی حرمت کا باب باندھا ہے،
وہ اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔
اگر وہ موذی ہے تو مار سکتا ہے بشرطیکہ ظلم نہ کرے اور بھوکی پیاسی رکھ کر نہ مارے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5856]

Sahih Muslim Hadith 5856 in Urdu