صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب في إنشاد الاشعار وبيان اشعر الكلمة وذم الشعر
باب: شعر پڑھنے، بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2255 ترقیم شاملہ: -- 5886
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ أَوْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّرِيدِ ، قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
زہیر بن حرب اور احمد بن عبدہ دونوں نے ابن عیینہ سے، انہوں نے ابراہیم بن میسرہ سے، انہوں نے عمرو بن شرید یا یعقوب بن عاصم سے، انہوں نے حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ سوار کیا، اس کے بعد اسی کے مانند حدیث بیان کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5886]
یہی روایت امام صاحب کو دو اور اساتذہ نے سنائی کہ شرید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے سوار کر لیا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5886]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2255
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5886 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5886
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اچھے اشعار کا سننا جائز ہے،
کیونکہ امیہ بن ابی صلت ایک جاہلی شاعر ہے،
جو کتب مقدسہ کی تلاوت کرتا تھا،
بت پرستی سے بیزار تھا اور ایک نبی کی آمد کی خبر دیتا تھا،
بلکہ خود نبوت کا امیدوار تھا،
اس لیے توحید اور فکر آخرت پر مشتمل شعر کہتا تھا،
اس لیے ایسے اشعار جو توحید،
نعت رسول مقبول،
مدح صحابی،
دین اور اہل دین کے دفعاع،
فکرت آخرت اور اخلاق حسنہ کی تعلیم،
نیکی کی ترغیب اور برائی سے نفرت دلانے والے ہوں،
ان کا سننا اور سنانا جائز ہے،
لیکن فحش اور بے حیائی کی تعلیم دینے والے،
دین اور اہل دین کی مذمت اور اخلاق باختہ اشعار سننا اور سنانا جائز نہیں ہے،
اس طرح اپنے اوپر شعروشاعری کو سوار کر لینا کہ انسان فرائض کی پابندی،
قرآن و سنت کے علم کی تحصیل اور یاد الٰہی سے ہی بیگانہ ہو جائے اور اسے آخرت کی فکر ہی نہ رہے تو یہ جائز نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اچھے اشعار کا سننا جائز ہے،
کیونکہ امیہ بن ابی صلت ایک جاہلی شاعر ہے،
جو کتب مقدسہ کی تلاوت کرتا تھا،
بت پرستی سے بیزار تھا اور ایک نبی کی آمد کی خبر دیتا تھا،
بلکہ خود نبوت کا امیدوار تھا،
اس لیے توحید اور فکر آخرت پر مشتمل شعر کہتا تھا،
اس لیے ایسے اشعار جو توحید،
نعت رسول مقبول،
مدح صحابی،
دین اور اہل دین کے دفعاع،
فکرت آخرت اور اخلاق حسنہ کی تعلیم،
نیکی کی ترغیب اور برائی سے نفرت دلانے والے ہوں،
ان کا سننا اور سنانا جائز ہے،
لیکن فحش اور بے حیائی کی تعلیم دینے والے،
دین اور اہل دین کی مذمت اور اخلاق باختہ اشعار سننا اور سنانا جائز نہیں ہے،
اس طرح اپنے اوپر شعروشاعری کو سوار کر لینا کہ انسان فرائض کی پابندی،
قرآن و سنت کے علم کی تحصیل اور یاد الٰہی سے ہی بیگانہ ہو جائے اور اسے آخرت کی فکر ہی نہ رہے تو یہ جائز نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5886]
يعقوب بن عاصم الثقفي ← الشريد بن سويد الثقفي