صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب في إنشاد الاشعار وبيان اشعر الكلمة وذم الشعر
باب: شعر پڑھنے، بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2255 ترقیم شاملہ: -- 5887
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: اسْتَنْشَدَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَزَادَ قَالَ: إِنْ كَادَ لِيُسْلِمُ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، قَالَ: فَلَقَدْ كَادَ يُسْلِمُ فِي شِعْرِهِ.
معتمر بن سلیمان اور عبدالرحمن بن مہدی دونوں نے عبداللہ بن عبدالرحمن طائفی سے، انہوں نے عمرو بن شرید سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شعر سنانے کے لیے فرمایا، ابراہیم بن میسرہ کی روایت کے مانند اور مزید یوں کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جاتا۔“اور ابن مہدی کی حدیث میں ہے:”وہ اپنے اشعار میں مسلمان ہونے کے قریب تھا۔“(اس نے تقریباً وہی باتیں کیں جو ایک مسلمان کہہ سکتا ہے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5887]
یہی روایت امام صاحب دو اور اساتذہ کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شعر سننے کے تقاضا فرمایا، اس میں یہ اضافہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جاتا۔“ ابن مہدی کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے اشعار میں اسلام لانے کے قریب تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5887]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2255
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5887 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5887
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
چونکہ وہ خود نبوت کا امیدوار تھا تو جب اس کی آرزو امید بر نہ آئی تو وہ آپ سے حسد کرنے لگا،
اس لیے اسلام کی خوبیوں اور کمالات سے آگاہی کے باوجود مسلمان نہ ہوا،
لیکن اشعار اچھے کہے۔
فوائد ومسائل:
چونکہ وہ خود نبوت کا امیدوار تھا تو جب اس کی آرزو امید بر نہ آئی تو وہ آپ سے حسد کرنے لگا،
اس لیے اسلام کی خوبیوں اور کمالات سے آگاہی کے باوجود مسلمان نہ ہوا،
لیکن اشعار اچھے کہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5887]
عمرو بن الشريد الثقفي ← الشريد بن سويد الثقفي