صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب لا يخبر بتلعب الشيطان به في المنام:
باب: شیطانی خواب بیان کرنے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 2268 ترقیم شاملہ: -- 5925
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ لِأَعْرَابِيٍّ جَاءَهُ: فَقَالَ: " إِنِّي حَلَمْتُ أَنَّ رَأْسِي قُطِعَ، فَأَنَا أَتَّبِعُهُ، فَزَجَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: لَا تُخْبِرْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي الْمَنَامِ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ اعرابی (بدوی) نے، جو آپ کے پاس آیا تھا، آپ سے عرض کی: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر کٹ گیا ہے اور میں اس کے پیچھے بھاگ رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور فرمایا:”نیند کے عالم میں اپنے ساتھ شیطان کے کھیلنے کے بارے میں کسی کو مت بتاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5925]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی کو جس نے آپ کے پاس آکر کہا، میں نے خواب دیکھا ہے، میرا سر کاٹ دیا گیا ہے اور میں اس کا پیچھا کررہا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: ”اپنے ساتھ نیند میں شیطان کی چھیڑ خانی کی خبر کسی کو نہ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5925]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2268
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← محمد بن مسلم القرشي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥محمد بن رمح التجيبي، أبو عبد الله محمد بن رمح التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← محمد بن رمح التجيبي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5926
| لا يحدثن أحدكم بتلعب الشيطان به في منامه |
صحيح مسلم |
5927
| إذا لعب الشيطان بأحدكم في منامه فلا يحدث به الناس |
صحيح مسلم |
5925
| لا تخبر بتلعب الشيطان بك في المنام |
سنن ابن ماجه |
3913
| لا يخبر الناس بتلعب الشيطان به في المنام |
سنن ابن ماجه |
3912
| إذا لعب الشيطان بأحدكم في منامه فلا يحدثن به الناس |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5925 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5925
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
سر کٹنے کی تعبیر،
خواب دیکھنے والے کے حالات کے اختلاف کی بنا پر مختلف ہو سکتی ہے،
امام مازری کہتے ہیں یہ پراگندہ خواب بھی ہو سکتا ہے،
جس کا مقصد انسان کو رنج و الم میں مبتلا کرنا ہوتا ہے اور اس کا مقصد نعمت اور خوشحالی سے محرومی بھی ہو سکتا ہے،
یہ بھی تعبیر ہو سکتی ہے کہ اس کا سردار اور آقا فوت ہو جائے گا،
اس کا اقتدار ختم ہو جائے اور اس کے تمام حالات تبدیل ہو جائیں گے لیکن اگر یہ خواب دیکھنے والا غلام ہو تو یہ تعبیر ہو سکتی ہے کہ وہ آزاد ہو جائے گا اگر بیمار دیکھے تو وہ شفایاب ہو جائے گا،
اگر مقروض دیکھے تو اس کا قرض ادا ہو جائے گا اگر اس نے حج نہیں کیا تو وہ حج کرے گا اگر یہ پریشان حال دیکھے تو اسے مسرت ملے گی،
اگر خوف زدہ دیکھے تو اسے امن حاصل ہو گا ابن قتیبہ نے اپنی کتاب ”اصول العبارة“ میں لکھا ہے کہ ایک آدمی نے کہا،
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر کاٹ دیا گیا ہے اور میں اسے اپنی ایک آنکھ سے دیکھ رہا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا،
کس آنکھ سے دیکھ رہا تھا؟ کچھ عرصہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور لوگوں نے خواب کی تعبیر یہ لگائی کہ سر آپ تھے اور اس کی طرف دیکھنا آپ کی سنت کی پیروی ہے۔
(تکملہ ج 4 ص 455)
۔
فوائد ومسائل:
سر کٹنے کی تعبیر،
خواب دیکھنے والے کے حالات کے اختلاف کی بنا پر مختلف ہو سکتی ہے،
امام مازری کہتے ہیں یہ پراگندہ خواب بھی ہو سکتا ہے،
جس کا مقصد انسان کو رنج و الم میں مبتلا کرنا ہوتا ہے اور اس کا مقصد نعمت اور خوشحالی سے محرومی بھی ہو سکتا ہے،
یہ بھی تعبیر ہو سکتی ہے کہ اس کا سردار اور آقا فوت ہو جائے گا،
اس کا اقتدار ختم ہو جائے اور اس کے تمام حالات تبدیل ہو جائیں گے لیکن اگر یہ خواب دیکھنے والا غلام ہو تو یہ تعبیر ہو سکتی ہے کہ وہ آزاد ہو جائے گا اگر بیمار دیکھے تو وہ شفایاب ہو جائے گا،
اگر مقروض دیکھے تو اس کا قرض ادا ہو جائے گا اگر اس نے حج نہیں کیا تو وہ حج کرے گا اگر یہ پریشان حال دیکھے تو اسے مسرت ملے گی،
اگر خوف زدہ دیکھے تو اسے امن حاصل ہو گا ابن قتیبہ نے اپنی کتاب ”اصول العبارة“ میں لکھا ہے کہ ایک آدمی نے کہا،
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر کاٹ دیا گیا ہے اور میں اسے اپنی ایک آنکھ سے دیکھ رہا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا،
کس آنکھ سے دیکھ رہا تھا؟ کچھ عرصہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور لوگوں نے خواب کی تعبیر یہ لگائی کہ سر آپ تھے اور اس کی طرف دیکھنا آپ کی سنت کی پیروی ہے۔
(تکملہ ج 4 ص 455)
۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5925]
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري