صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب إثبات حوض نبينا صلى الله عليه وسلم وصفاته:
باب: حوض کوثر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2300 ترقیم شاملہ: -- 5989
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا آنِيَةُ الْحَوْضِ؟، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ وَكَوَاكِبِهَا، أَلَا فِي اللَّيْلَةِ الْمُظْلِمَةِ الْمُصْحِيَةِ آنِيَةُ الْجَنَّةِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهَا لَمْ يَظْمَأْ، آخِرَ مَا عَلَيْهِ يَشْخَبُ فِيهِ مِيزَابَانِ مِنَ الْجَنَّةِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ، عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ مَا بَيْنَ عَمَّانَ إِلَى أَيْلَةَ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ".
عبداللہ بن صامت نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! حوض کے برتن کیسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اس حوض کے برتن آسمان کے چھوٹے اور بڑے (تمام ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں)۔ یاد رکھو! جو اندھیری صاف مطلع کی رات میں ہوتے ہیں وہ جنت کے برتن ہیں کہ جو ان سے (شراب کوثر) پی لے گا وہ اپنے ذمے (جنت میں جانے کے دورانیے) کے آخر تک کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ اس میں جنت (کی باران رحمت) کے دو پرنالے آکر گرتے ہیں جو اس میں سے پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے جیسے عمان سے ایلہ تک (کا فاصلہ) ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5989]
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! حوض کے برتن کتنے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اس کے برتن سیاہ رات جس میں بادل نہ ہوں، کے نجوم و کواکب (ستارے و سیارے) کی تعداد سے زیادہ ہیں وہ جنت کے برتن ہوں گے جو ان سے پیے گا آخر تک پیاسا نہیں ہو گا۔ اس میں جنت کے دو پر نالے بہیں گے، جو اس میں سے پیے گا اسے پیاس نہیں لگے گی، اس کا عرض اور طول برابر ہے، عمان سے ایلہ کے فاصلہ کی مانند، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شریں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5989]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2300
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5989
| آنيته أكثر من عدد نجوم السماء وكواكبها ألا في الليلة المظلمة المصحية من آنية الجنة من شرب منها لم يظمأ آخر ما عليه يشخب فيه ميزابان من الجنة من شرب منه لم يظمأ عرضه مثل طوله ما بين عمان إلى أيلة ماؤه أشد بياضا من اللبن أحلى من العسل |
جامع الترمذي |
2445
| آنيته أكثر من عدد نجوم السماء وكواكبها في ليلة مظلمة مصحية من آنية الجنة من شرب منها شربة لم يظمأ آخر ما عليه عرضه مثل طوله ما بين عمان إلى أيلة ماؤه أشد بياضا من اللبن أحلى من العسل |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5989 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5989
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عمان:
یہ آج کل اردن کا دارالحکومت ہے،
جسے عمان بلقاء کہتے ہیں،
اگر عمان ہو تو یہ خلیج کا شہر ہے اور مسقط کا دارالحکومت ہے،
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کو ترجیح دی ہے۔
فوائد ومسائل:
عمان:
یہ آج کل اردن کا دارالحکومت ہے،
جسے عمان بلقاء کہتے ہیں،
اگر عمان ہو تو یہ خلیج کا شہر ہے اور مسقط کا دارالحکومت ہے،
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کو ترجیح دی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5989]
عبد الله بن الصامت الغفاري ← أبو ذر الغفاري