🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب الاستطابة:
باب: استنجاء کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 263 ترقیم شاملہ: -- 608
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ، أَوْ بِبَعْرٍ ".
ابوزبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہڈی یا لید کے ذریعے سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 608]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی یا مینگنی (لیڈنا) سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 608]
ترقیم فوادعبدالباقی: 263
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداؤد في ((سننه)) في الطهارة، باب: ما ينهی عنه ان يستنجي به برقم (38) انظر ((التحفة)) برقم (2709)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥زكريا بن إسحاق المكي
Newزكريا بن إسحاق المكي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← زكريا بن إسحاق المكي
ثقة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← روح بن عبادة القيسي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
608
يتمسح بعظم أو ببعر
سنن أبي داود
38
أن نتمسح بعظم أو بعر
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 608 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 608
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
خِرَاءَةٌ:
قضائے حاجت کی ہئیت و کیفیت اور اگر خراء ہو تو پاخانہ کو کہیں گے۔
(2)
غَائِطٌ:
نشیبی زمین کو کہتے ہیں،
مراد پاخانہ ہے۔
(3)
رَجِيعٌ:
گوبر۔
(4)
عَظْمٌ:
ہڈی۔
(5)
بَعْرٌ:
مینگنی۔
فوائد ومسائل:
جس طرح کھانا پینا،
پہننا انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہیں،
اس طرح بول وبراز انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے،
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح زندگی کے دوسرے کاموں اور دوسرے شعبوں کے بارے میں ہدایات وتعلیمات دی ہیں،
اس طرح پیشاب،
پاخانہ اور طہارت واستنجا کے بارے میں بھی مندرجہ ذیل ہدایات دی ہیں،
جو اسلام کے کامل ضابطہ زندگی ہونے کا بین ثبوت ہیں:
(1)
دایاں ہاتھ جس کو ہمارے خالق نے پیدائشی طور پر بائیں ہاتھ کے مقابلہ میں زیادہ قوت وطاقت اور صلاحیت کار بخشی ہے،
اس کو استنجے کی گندگی وپلیدی کی صفائی کےلیے استعمال نہ کیا جائے۔
(2)
قضائے حاجت کے لیے اس طرح نہ بیٹھا جائے،
کہ انسان کا رخ یا پشت قبلہ کی طرف ہو،
کیونکہ قبلہ کے ادب واحترام کا تقاضا یہی ہے۔
تفصیل آگے آرہی ہے۔
(3)
بول وبراز کی صفائی کے لیے کم از کم تین پتھر یا ڈھیلے استعمال کیے جائیں گے۔
(4)
کسی جانور کی گری ہڈی یا اس کےخشک فضلے،
لید،
گوبر وغیرہ سے استنجا نہ کیاجائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 608]