🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب توقيره صلى الله عليه وسلم وترك إكثار سؤاله عما لا ضرورة إليه او لا يتعلق به تكليف وما لا يقع ونحو ذلك:
باب: بے ضرورت مسئلے پوچھنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2360 ترقیم شاملہ: -- 6125
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَشْيَاءَ كَرِهَهَا، فَلَمَّا أُكْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: سَلُونِي عَمَّ شِئْتُمْ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ أَبِي؟ قَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ، فَقَامَ آخَرُ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ ".
عبداللہ بن براد اشعری اور (ابوکریب) محمد بن علاء ہمدانی نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے یزید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چند (ایسی) چیزوں کے بارے میں سوال کیے گئے جو آپ کو پسند نہ آئیں جب زیادہ سوال کیے گئے تو آپ غصے میں آگئے، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: "جس چیز کے بارے میں بھی چاہو مجھ سے پوچھو۔" ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ حذافہ ہے۔" دوسرے شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ شیبہ کا آزاد کردہ غلام سالم ہے۔" جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے تو کہا: اللہ کے رسول! ہم اللہ سے توبہ کرتے ہیں۔ ابوکریب کی روایت میں ہے کہ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ شیبہ کا مولیٰ سالم ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6125]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال کیا گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزریں، جب سوالات زیادہ ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: مجھ سے جو مرضی ہے پوچھ لو۔ تو ایک آدمی نے کہا: میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ حذافہ ہے۔ ایک اور آدمی کھڑا ہوا، اس نے بھی پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ شیبہ کا آزاد کردہ غلام سالم ہے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناراضی کے آثار دیکھے تو کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم اللہ سے توبہ کرتے ہیں اور اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ ابو کریب کی روایت میں ہے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ شیبہ کا آزاد کردہ غلام سالم ہے۔ یعنی پہلی روایت میں «فَقَالَ» کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6125]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2360
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥بريد بن عبد الله الأشعري، أبو بردة
Newبريد بن عبد الله الأشعري ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← بريد بن عبد الله الأشعري
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ
👤←👥عبد الله بن براد الأشعري، أبو عامر
Newعبد الله بن براد الأشعري ← محمد بن العلاء الهمداني
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7291
أبوك حذافة ثم قام آخر فقال يا رسول الله من أبي فقال أبوك سالم مولى شيبة فلما رأى عمر ما بوجه رسول الله من الغضب قال إنا نتوب إلى الله
صحيح البخاري
92
سلوني عما شئتم قال رجل من أبي قال أبوك حذافة فقام آخر فقال من أبي يا رسول الله فقال أبوك سالم مولى شيبة فلما رأى عمر ما في وجهه قال يا رسول الله إنا نتوب إلى الله
صحيح مسلم
6125
من أبي قال أبوك حذافة فقام آخر فقال من أبي
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6125 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6125
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ دوسرا سوال کرنے والا،
سعد بن سالم مولیٰ شیبہ بن ربیعہ ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6125]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 92
بےجا سوالات پر استاد کا ناراض ہونا
«. . . قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَشْيَاءَ كَرِهَهَا، فَلَمَّا أُكْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ:" سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ایسی باتیں دریافت کی گئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا معلوم ہوا اور جب (اس قسم کے سوالات کی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت زیادتی کی گئی تو آپ کو غصہ آ گیا . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 92]
تشریح:
لغو اور بے ہودہ سوال کسی صاحب علم سے کرنا سراسر نادانی ہے۔ پھر اللہ کے رسول سے اس قسم کا سوال کرنا تو گویا بہت ہی بے ادبی ہے۔ اسی لیے اس قسم کے بے جا سوالات پر آپ نے غصہ میں فرمایاکہ جو چاہو دریافت کرو۔ اس لیے کہ اگرچہ بشر ہونے کے لحاظ سے آپ غیب کی باتیں نہیں جانتے تھے۔ مگر اللہ کا برگزیدہ پیغمبر ہونے کی بنا پر وحی و الہام سے اکثر احوال آپ کو معلوم ہو جاتے تھے، یا معلوم ہو سکتے تھے جن کی آپ کو ضرورت پیش آتی تھی۔ اسی لیے آپ نے فرمایا کہ تم لوگ نہیں مانتے ہو تو اب جو چاہو پوچھو، مجھ کو اللہ کی طرف سے جو جواب ملے گا تم کو بتلاؤں گا۔ آپ کی خفگی دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیگر حاضرین کی نمائندگی فرماتے ہوئے ایسے سوالات سے باز رہنے کا وعدہ فرمایا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 92]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7291
7291. سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چند اشیاء کے متعلق سوال کیا گیا جنہیں آپ نے پسند نہ فرمایا۔ جب لوگوں نے بہت زیادہ سوالات کرنا شروع کر دیے تو آپ ناراض ہوئے اور فرمایا: مجھ سے جو پوچھنا ہے پوچھو۔ تب ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ نےفرمایا: تیرا باپ حذافہ ہے۔ پھر ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا اور اس نے سوال کیا: میرے والد کون ہیِں؟ تو آپ نےفرمایا: تمہارے والد شیبہ کے آزاد کردہ غلام سالم ہیں۔ جن سیدنا عمر ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر غصے کے آثار محسوس کیے تو کہا: ہم اللہ عزوجل کے حضور (آپ کو غصہ دلانے سے) توبہ کرتے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7291]
حدیث حاشیہ:
کسی نے پوچھا میری اونٹنی اس وقت کہا ہے؟ کسی نے پوچھا قیامت کب آئے گی؟ کسی نے پوچھا کیا ہر سال حج فرض ہے وغیرہ وغیرہ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7291]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:92
92. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چند ایسی باتیں پوچھی گئیں جو آپ کے مزاج کے خلاف تھی۔ جب اس قسم کے سوالات کی آپ کے سامنے تکرار کی گئی تو آپ کو غصہ آ گیا، پھر لوگوں سے فرمایا: اچھا جو چاہو مجھ سے پوچھو۔ اس پر ایک شخص نے عرض کیا: میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرا باپ حذافہ ہے۔ پھر دوسرے شخص نے کھڑے ہو کر کہا: یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرا باپ سالم ہے جو شیبہ کا غلام ہے۔ پھر جب حضرت عمر ؓ نے آپ کے چہرہ مبارک پر آثار غضب دیکھے تو کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:92]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں منافقین بھی ہوتے تھے۔
وہ آپ سے ناگفتہ بہ سوالات کرتے۔
ایک دن بے تکے سوالات شروع ہوئے توآپ نے فرمایا کہ آج تمہیں جو کچھ پوچھنا ہے پوچھ لو۔
آپ نے یہ بات غصے میں فرمائی، اس لیے ہرسوال پر غصہ بڑھتا گیا۔
حضرت عبداللہ بن حذافہ کو لوگ ان کے نسب کے متعلق بہت چڑایا کرتے تھے۔
انھوں نے اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے سوال کردیا کہ میرا باپ کون ہے؟ پھر حضرت سعد بن سالم مولی شیبہ نے بھی اس قسم کا سوال کرڈالا۔
اگرچہ بشر ہونے کی حیثیت سے آپ غیب دان نہیں تھے لیکن اللہ کے برگزیدہ رسول ہونے کی حیثیت سے وحی کے ذریعے سے ایسے احوال سے آگاہی ہوجاتی جن کی آپ کو ضرورت پیش آتی۔
جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کے چہرہ انورسے غصے کا اندازہ لگایا تودیگر حاضرین کی نمائندگی کرتے ہوئے ایسے سوالات سے بازرہنے کا وعدہ فرمایا۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بحالت غصہ دیکھ کر دوزانو بیٹھ گئے اور کہنے لگے:
ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں۔
(صحیح البخاري، العلم، حدیث: 93)
ان احادیث میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے معذرت کی جیسا کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے اور دوزانو بیٹھ کر مذکورہ الفاظ بھی کہے جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 247/1)
۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کثرت سوالات اور لایعنی تکلفات ایک مکروہ عمل ہے، نیز کسی صاحب علم سے لغو اوربے ہودہ سوالات کرنا سراسر نادانی اور جہالت ہے کیونکہ اس قسم کے سوالات کا انسان کی عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 92]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7291
7291. سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چند اشیاء کے متعلق سوال کیا گیا جنہیں آپ نے پسند نہ فرمایا۔ جب لوگوں نے بہت زیادہ سوالات کرنا شروع کر دیے تو آپ ناراض ہوئے اور فرمایا: مجھ سے جو پوچھنا ہے پوچھو۔ تب ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ نےفرمایا: تیرا باپ حذافہ ہے۔ پھر ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا اور اس نے سوال کیا: میرے والد کون ہیِں؟ تو آپ نےفرمایا: تمہارے والد شیبہ کے آزاد کردہ غلام سالم ہیں۔ جن سیدنا عمر ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر غصے کے آثار محسوس کیے تو کہا: ہم اللہ عزوجل کے حضور (آپ کو غصہ دلانے سے) توبہ کرتے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7291]
حدیث حاشیہ:

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کے وقت مسجد میں تشریف لائے، نماز سے فراغت کے بعد منبرپرچڑھے اور قیامت کا ذکر فرمایا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوالات کرنے کی اجازت دی تو لوگوں نے بے فائدہ قسم کے سوال پوچھنے شروع کر دیے، مثلاً:
میری گم شدہ اونٹنی کہاں ہے؟ قیامت کب آئے گی؟ کیا حج ہرسال فرض ہے؟ کیا صفا پہاڑی سونا بن سکتی ہے؟ میرا باپ کون ہے؟ میرا انجام کیا ہوگا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کے بلامقصد سوالوں پر غصہ آیا۔
چونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج شناس تھے۔
اس لیے انھوں نے معذرت کی اور عرض کی:
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہم سے درگزر فرمائیں، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہوگئے۔
(صحیح البخاري، الاعتصام بالکتاب والسنة، حدیث 7294 و فتح الباري: 331/13)

ایک روایت میں ہے کہ جب عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے باپ کے متعلق سوال کیا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بتایا:
تیرا باپ حذافہ ہے۔
وہ اپنے گھر آیا اور اپنی ماں سے اس کا ذکر کیا تو اس کی ماں اسے کہنے لگی:
تجھے معلوم ہے کہ ہم نے دور جاہلیت گزارا ہے۔
شاید تو میری رسوائی کا باعث بن جاتا، اس نے جواب دیا:
میں اپنے باپ کے متعلق جاننا چاہتا تھا خواہ وہ کوئی ہوتا۔
(مسند أحمد: 503/2)

اس قسم کے سوالات پر پابندی لگانا ضروری تھی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ایمان والو! ایسی چیزوں کے متعلق سوال نہ کرو کہ اگر انھیں ظاہر کردیا جائے تو تمھیں ناگوار گزرے۔
(المآئده: 101)
اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے معذرت کی اور کہا:
ہم اس قسم کے فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔
(فتح الباري: 331/13)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7291]

Sahih Muslim Hadith 6125 in Urdu