🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب من فضائل ابي بكر الصديق رضي الله عنه:
باب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بزرگی کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2384 ترقیم شاملہ: -- 6177
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ عَائِشَةُ: قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: أَبُوهَا: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: عُمَرُ، فَعَدَّ رِجَالًا ".
ابوعثمان سے روایت ہے، کہا: حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ذات السلاسل کے لشکر کا سالار بنا کر بھیجا۔ میں (ہدایات لینے کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور (اس موقع پر) میں نے (یہ بھی) پوچھا: آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ رضی اللہ عنہا۔ میں نے کہا: مردوں میں سے؟ آپ نے فرمایا: ان کے والد۔ میں نے کہا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر۔ پھر آپ نے کئی لوگوں کے نام لیے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6177]
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ذات السلاسل کے لشکر کاامیر مقرر کیا تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا،آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟آپ نے فرمایا،"عائشہ"میں نے پوچھا،"مردوں میں سے۔"فرمایا:"اس کاباپ"میں نے پوچھا،پھرکون؟فرمایا:"عمر" اس طرح آپ نے چند نام لیے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6177]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2384
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن العاص القرشي، أبو محمد، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥أبو عثمان النهدي، أبو عثمان
Newأبو عثمان النهدي ← عمرو بن العاص القرشي
ثقة ثبت
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله
Newخالد الحذاء ← أبو عثمان النهدي
ثقة
👤←👥خالد بن عبد الله الطحان، أبو محمد، أبو الهيثم
Newخالد بن عبد الله الطحان ← خالد الحذاء
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا
Newيحيى بن يحيى النيسابوري ← خالد بن عبد الله الطحان
ثقة ثبت إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3662
أي الناس أحب إليك قال عائشة ف قلت من الرجال فقال أبوها قلت ثم من قال ثم عمر بن الخطاب فعد رجالا
صحيح البخاري
4358
عائشة قلت من الرجال قال أبوها قلت ثم من قال عمر
صحيح مسلم
6177
أي الناس أحب إليك قال عائشة قلت من الرجال قال أبوها قلت ثم من قال عمر فعد رجالا
جامع الترمذي
3885
عائشة قلت من الرجال قال أبوها
جامع الترمذي
3886
عائشة قال من الرجال قال أبوها
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6177 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6177
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
ذات السلاسل:
یہ 7ھ کا واقعہ ہے اور اس میں مشرکوں نے اپنے آپ کو ایک دوسرے سے باندھ لیا تھا،
تاکہ میدان نہ چھوڑیں یا وہاں سلسل نامی چشمہ تھا یا وہاں ریت کے ٹیلے تہ در تہ تھے۔
فوائد ومسائل:
اس جنگ میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی موجودگی کے باوجود حضرت عمرو بن عاص کو امیر مقرر کیا گیا،
اس لیے ان کے دل میں خیال گزرا کہ شاید آپ کو سب سے زیادہ پیار مجھ ہی سے ہے،
اس لیے یہ سوال کیا اور جب چند ناموں میں ان کا نام نہ آیا تو خاموش ہو گئے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6177]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3885
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لشکر ذات السلاسل کا امیر مقرر کیا، وہ کہتے ہیں: تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: عائشہ، میں نے پوچھا: مردوں میں کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ان کے باپ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3885]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
پیچھے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب میں گزرا ہے کہ عورتوں میں فاطمہ اورمردوں میں ان کے شوہرعلی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب تھے،
لیکن وہ حدیث ضعیف منکر ہے،
اور یہ حدیث صحیح ہے،
اور دونوں عورتوں اور دونوں مردوں کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ محبوب ہونے میں تضاد ہی کیا ہے،
یہ سب سے زیادہ محبوب تھے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3885]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4358
4358. حضرت ابو عثمان نہدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن عاص ؓ کو غزوہ ذات سلاسل کے لیے امیر بنا کر روانہ کیا۔ عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ میں (واپسی پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے عرض کی: آپ کو سب سے زیادہ عزیز کون شخص ہے؟ آپ نے فرمایا: عائشہ۔ میں نے پوچھا: مردوں میں سے کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ان کے والد گرامی۔ میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون؟ تو آپ نے فرمایا: عمر۔ اس طرح درجہ بدرجہ آپ نے کئی آدمیوں کے نام لیے۔ اس کے بعد میں خاموش ہو گیا، مبادا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سب سے آخر میں کر دیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4358]
حدیث حاشیہ:
اس لڑائی میں تین سو مہاجرین اور انصار مع تیس گھوڑے آپ نے بھیجے تھے۔
عمرو بن عاص ؓ کو ان کا سردار بنایا تھا۔
جب عمرو ؓ دشمن کے ملک کے قریب پہنچے تو انہوں نے اور مزید فوج طلب کی۔
آپ ا نے ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو سردار مقرر کر کے دوسو آدمی اور بھیجے۔
ان میں حضرت ابوبکر اور عمر ؓ بھی تھے۔
ابو عبیدہ ؓ جب عمرو ؓ سے ملے تو انہوں نے امام بننا چاہا لیکن عمرو بن عاص ؓ نے کہا آنحضرت انے آپ کو میری مدد کے لیے بھیجا ہے، سردار تو میں ہی رہوں گا۔
ابو عبیدہ نے اس معقول بات کو مان لیا اور عمر وبن عاص ؓ امامت کرتے رہے۔
حاکم کی روایت میں ہے کہ عمرو بن عاص ؓ نے لشکر میں انگار روشن کر نے سے منع کیا، حضرت عمر ؓ نے اس پر انکا ر فرمایا تو حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے کہا چپ رہو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمرو کو سردار مقرر کیا ہے تو اس وجہ سے کہ وہ لڑائی کے فن سے خوب واقف کار ہے۔
بیہقی کی روایت میں ہے کہ عمروبن عاص ؓ جب لوٹ کر آئے تو اپنے دل میں یہ سمجھے کہ میں حضرت ابو بکر وحضرت عمر ؓ سے زیادہ درجہ رکھتا ہوں۔
اسی لیے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، جس کا روایت میں تذکرہ ہے۔
جس کو سن کر انہیں حقیقت حال کا علم ہوگیا۔
اس حدیث سے یہ بھی نکلا کہ مفضول کی امامت بھی افضل کے لیے جا ئز ہے کیونکہ حضرات شیخین اور ابو عبیدہ ؓ حضرت عمرو ؓ سے افضل تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4358]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3662
3662. حضرت عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں غزوہ ذات السلاسل میں امیر بنا کر بھیجا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں (واپس) آپ کے پاس آیا تو میں نے عرض کیا: سب لوگوں میں کون شخص آپ کو زیادہ محبوب ہے؟ آپ نے فرمایا: عائشہ ؓ۔ میں نے عرض کیا: مردوں میں سے کون؟ آپ نے فرمایا: ان کے والد گرامی۔ میں نے پوچھا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: پھر عمر بن خطاب ؓ ۔ اسی طرح درجہ بدرجہ آپ نے کئی آدمیوں کے نام لیے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3662]
حدیث حاشیہ:

ایک روایت کے آخر میں ہے حضرت عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں اس کے بعد میں خاموش ہو گیا کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے سب سے آخر میں ذکر کریں۔
(صحیح البخاري، المغازی، حدیث: 4358)

غزوہ ذات السلاسل 7ہجری میں ہوا۔
اس غزوے میں کفار نے اپنے آپ کو زنجیروں سے باندھ رکھا تھا تاکہ وہ اجتماعی طور پر فرارنہ اختیار کر سکیں۔
مسلمانوں کے لشکر کی کمان حضرت عمرو بن عاص ؓ کر رہے تھے۔
ان میں حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ بھی موجود تھے۔
اس بنا پر حضرت عمرو بن عاص ؓ کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ شاید وہ ان سب سے افضل ہیں اس لیے انھیں امیر بنایا گیا ہے۔
اسی لیے انھوں نے مذکورہ سوالات کیے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابو بکر ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب تھے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جس دستے میں افضل لوگ موجود ہوں۔
ان پر کسی مصلحت کے پیش نظر مفضول کو امیر بنایا جا سکتا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3662]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4358
4358. حضرت ابو عثمان نہدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن عاص ؓ کو غزوہ ذات سلاسل کے لیے امیر بنا کر روانہ کیا۔ عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ میں (واپسی پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے عرض کی: آپ کو سب سے زیادہ عزیز کون شخص ہے؟ آپ نے فرمایا: عائشہ۔ میں نے پوچھا: مردوں میں سے کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ان کے والد گرامی۔ میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون؟ تو آپ نے فرمایا: عمر۔ اس طرح درجہ بدرجہ آپ نے کئی آدمیوں کے نام لیے۔ اس کے بعد میں خاموش ہو گیا، مبادا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سب سے آخر میں کر دیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4358]
حدیث حاشیہ:

غزوہ ذات سلاسل کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو مہاجرین وانصار کا دستہ روانہ فرمایا۔
ان کے امیر حضرت عمرو بن عاص ؓ تھے، پھر ان کی امداد کے لیے حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ کی سرکردگی میں دوسومجاہدین مزید روانہ کیے۔
اس جنگ میں حضرت عمرو بن عاص ؓ نے مجاہدین کو آگ جلانے سے منع کردیا۔
حضرت عمر ؓ نے اس پر اعتراض کیا توحضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ انھیں اپنے حال پر چھوڑدوکیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ہمارا امیر بنایا ہے کیونکہ وہ جنگی فنون میں ماہر ہے۔
پھر حضرت عمر ؓ خاموش ہوگئے۔
جب دشمن کو شکست ہوئی تومجاہدین نے ان کا پیچھا کرنا چاہا لیکن حضرت عمرو بن عاص ؓ نے اس سے بھی روک دیا۔
جب فتح یاب ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں کا ذکر کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن عاص ؓ سے اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نے عرض کی کہ میں نے انھیں آگ روشن کرنے سے اس لیے منع کیا تھاکہ دشمن کو ہماری فوج کی کمی کا علم نہ ہوسکے۔
اوردشمن کا پیچھا کرنے سے اس بنا پر روکاتھا کہ آگے دشمن کے مددگار موجود تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر پر عمروبن عاص ؓ کی تحسین فرمائی۔

حضرت عمرو بن عاص ؓ کے دل میں خیال آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسے لشکر کا امیر بنایا ہے جس میں حضرت ابوبکر ؓ اورحضرت عمر ؓ جیسے جلیل القدر صحابی موجود ہیں، لہذاآپ کے نزدیک میرا مقام بہت بلند ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر سوال کیا کہ آپ کوتمام لوگوں میں سے کون زیادہ پیارا ہے؟ 3۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مفضول کو فاضل پر امیربنانا جائز ہے جبکہ مفضول میں کوئی ایسا وصف ہو جس کے باعث وہ دوسروں سے ممتاز ہو۔
(فتح الباري: 94/8)

اس جنگ میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کو احتلام ہوگیا۔
چونکہ سخت سردی تھی، اس لیے انھوں نے تیمم کرکے نماز پڑھائی اور دلیل کے طورپریہ آیت تلاوت فرمائی:
اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔
(النساء: 29/4)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کا ذکر ہوا تو آپ نے انھیں کچھ نہ کہا۔
امام بخاری ؒ نے تعلیقاً اس واقعے کا تذکرہ کیا ہے۔
(صحیح البخاري، التیمم، باب: 7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4358]