صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب من فضائل عبد الله بن مسعود وامه رضي الله تعالى عنهما:
باب: سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2461 ترقیم شاملہ: -- 6330
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ: " كُنَّا فِي دَارِ أَبِي مُوسَى مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُمْ يَنْظُرُونَ فِي مُصْحَفٍ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالُ أَبُو مَسْعُودٍ ، مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَرَكَ بَعْدَهُ أَعْلَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْقَائِمِ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَمَا لَئِنْ، قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ كَانَ يَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا وَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا ".
قطبہ بن عبدالعزیز نے اعمش سے، انہوں نے مالک بن حارث سے، انہوں نے ابواحوص سے روایت کی، کہا: ہم حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے چند ساتھیوں (شاگردوں) کے ہمراہ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے۔ وہ سب ایک مصحف (قرآن مجید کا نسخہ) دیکھ رہے تھے، اس اثنا میں حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے تو حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد اس شخص سے، جو (ابھی) اٹھا ہے، زیادہ اللہ کے نازل کردہ قرآن کو جاننے والا کوئی اور آدمی چھوڑا ہو! حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ نے یہ کہا ہے تو (اس کی وجہ یہ ہے کہ) یہ اس وقت حاضر رہتے جب ہم موجود نہ ہوتے اور انہیں (اس وقت بھی) حاضری کی اجازت دی جاتی جب ہمیں اجازت نہ ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6330]
ابواحوص رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے چند ساتھیوں کے ہمراہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے، وہ سب ایک «مُصْحَف» (قرآن مجید کا نسخہ) دیکھ رہے تھے، اس اثنا میں حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے تو حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد اس شخص سے، جو (ابھی) اٹھا ہے، زیادہ اللہ کے نازل کردہ قرآن کو جاننے والا کوئی اور آدمی چھوڑا ہو! حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر آپ نے یہ کہا ہے تو (اس کی وجہ یہ ہے کہ) یہ اس وقت حاضر رہتے جب ہم موجود نہ ہوتے اور انہیں (اس وقت بھی) حاضری کی اجازت دی جاتی جب ہمیں اجازت نہ ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6330]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2461
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6330 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6330
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابو موسیٰ اور حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہما نے جو بات ان کی زندگی میں کی تھی،
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر،
پھر اس کو دہرایا اور اس سے معلوم ہوا،
جتنا کوئی آدمی استاد کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا ہے اور اس کی مجالس میں شریک ہوتا ہے،
اتنا ہی اس سے زیادہ فیض حاصل کرتا ہے،
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ قرآن کے علم میں اس لیے زیادہ مہارت رکھتے تھے کہ وہ آپ کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے تھے اور آپ کے خادم تھے۔
فوائد ومسائل:
حضرت ابو موسیٰ اور حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہما نے جو بات ان کی زندگی میں کی تھی،
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر،
پھر اس کو دہرایا اور اس سے معلوم ہوا،
جتنا کوئی آدمی استاد کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا ہے اور اس کی مجالس میں شریک ہوتا ہے،
اتنا ہی اس سے زیادہ فیض حاصل کرتا ہے،
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ قرآن کے علم میں اس لیے زیادہ مہارت رکھتے تھے کہ وہ آپ کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے تھے اور آپ کے خادم تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6330]
Sahih Muslim Hadith 6330 in Urdu
عبد الله بن قيس الأشعري ← أبو مسعود الأنصاري