🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. باب مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا:
باب: سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2459 ترقیم شاملہ: -- 6325
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَ سَهْلٌ وَمِنْجَابٌ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا سورة المائدة آية 93، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قِيلَ لِي: أَنْتَ مِنْهُمْ ".
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: «جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے ان پر انہوں نے کھایا پیا اس میں کوئی گناہ نہیں جبکہ وہ تقویٰ پر تھے اور ایمان لائے تھے» آیت کے آخر تک۔ (تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے بتایا گیا ہے کہ تم بھی انہی میں سے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6325]
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب یہ آیت اتری: ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا﴾ [سورة المائدة: 93] ان لوگوں پر سے، جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کیے، کوئی گناہ نہیں ہے، اس سلسلہ میں جو انہوں نے کھایا پیا، جبکہ انہوں نے پرہیزگاری اختیار کی اور وہ ایمان لائے (آخر تک)، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے بتایا گیا ہے کہ تو (عبداللہ) ان میں سے ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6325]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2459
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2460 ترقیم شاملہ: -- 6326
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ، فَكُنَّا حِينًا وَمَا نُرَى ابْنَ مَسْعُودٍ وَأُمَّهُ إِلَّا مِنْ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ كَثْرَةِ دُخُولِهِمْ وَلُزُومِهِمْ لَهُ ".
ابوزائدہ نے ابواسحاق سے، انہوں نے اسود بن یزید سے، انہوں نے حضرت ابوموسی (اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں اور میرا بھائی یمن سے آئے تو کچھ عرصہ ہم حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر بکثرت آنے جانے اور آپ کے ساتھ لگے رہنے کی وجہ سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے سمجھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6326]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اور میرا بھائی یمن سے آئے تو کچھ عرصہ ہم یہ سمجھتے رہے کہ ابن مسعود اور ان کی والدہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے افراد ہیں، کیونکہ وہ کثرت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6326]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2460
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2460 ترقیم شاملہ: -- 6327
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْأَسْوَدَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى ، يَقُولُ: لَقَدْ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
یوسف نے ابواسحاق سے روایت کی کہ انہوں نے اسود کو یہ کہتے ہوئے سنا، میں نے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں اور میرا بھائی یمن سے آئے، پھر اسی کے مانند بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6327]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں اور میرا بھائی یمن سے آئے، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6327]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2460
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2460 ترقیم شاملہ: -- 6328
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أُرَى أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ، أَوْ مَا ذَكَرَ مِنْ نَحْوِ هَذَا.
سفیان نے ابواسحاق سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں یہ سمجھتا تھا کہ حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ اہل بیت میں سے ہیں یا انہوں نے اسی طرح (کے الفاظ میں) بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6328]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں یہ سمجھتا تھا کہ عبداللہ (ابن مسعود رضی اللہ عنہما) اہل بیت کا ایک فرد ہے یا اس قسم کے جو الفاظ انہوں نے بیان کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6328]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2460
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2461 ترقیم شاملہ: -- 6329
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ ، قَالَ: " شَهِدْتُ أَبَا مُوسَى ، وَأَبَا مَسْعُودٍ حِينَ مَاتَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ أَتُرَاهُ تَرَكَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، فَقَالَ: إِنْ قُلْتَ ذَاكَ إِنْ كَانَ لَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا وَيَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا ".
ابواسحاق سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے ابواحوص سے سنا، انہوں نے کہا: جس وقت حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا میں نے اس وقت حضرت ابوموسی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضری دی تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بعد کوئی ایسا شخص چھوڑ گئے ہیں جو ان جیسا ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جب آپ نے یہ بات کہہ دی تو حقیقت یہ ہے کہ انہیں اس وقت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) حاضری کی اجازت ہوتی تھی، جب ہمیں روک لیا جاتا تھا، اور وہ اس وقت بھی حاضر رہتے تھے جب ہم موجود نہ ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6329]
انہوں نے کہا: جس وقت حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، میں نے اس وقت حضرت ابو موسیٰ اور حضرت مسعود رضی اللہ عنہما کے ہاں حاضری دی تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بعد کوئی ایسا شخص چھوڑ گئے ہیں جو ان جیسا ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جب آپ نے یہ بات کہہ دی تو حقیقت یہ ہے کہ انہیں اس وقت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) حاضری کی اجازت ہوتی تھی، جب ہمیں روک لیا جاتا تھا، اور وہ اس وقت بھی حاضر رہتے تھے جب ہم موجود نہ ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6329]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2461
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2461 ترقیم شاملہ: -- 6330
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ: " كُنَّا فِي دَارِ أَبِي مُوسَى مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُمْ يَنْظُرُونَ فِي مُصْحَفٍ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالُ أَبُو مَسْعُودٍ ، مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَرَكَ بَعْدَهُ أَعْلَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْقَائِمِ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَمَا لَئِنْ، قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ كَانَ يَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا وَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا ".
قطبہ بن عبدالعزیز نے اعمش سے، انہوں نے مالک بن حارث سے، انہوں نے ابواحوص سے روایت کی، کہا: ہم حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے چند ساتھیوں (شاگردوں) کے ہمراہ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے۔ وہ سب ایک مصحف (قرآن مجید کا نسخہ) دیکھ رہے تھے، اس اثنا میں حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے تو حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد اس شخص سے، جو (ابھی) اٹھا ہے، زیادہ اللہ کے نازل کردہ قرآن کو جاننے والا کوئی اور آدمی چھوڑا ہو! حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ نے یہ کہا ہے تو (اس کی وجہ یہ ہے کہ) یہ اس وقت حاضر رہتے جب ہم موجود نہ ہوتے اور انہیں (اس وقت بھی) حاضری کی اجازت دی جاتی جب ہمیں اجازت نہ ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6330]
ابواحوص رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے چند ساتھیوں کے ہمراہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے، وہ سب ایک «مُصْحَف» (قرآن مجید کا نسخہ) دیکھ رہے تھے، اس اثنا میں حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے تو حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد اس شخص سے، جو (ابھی) اٹھا ہے، زیادہ اللہ کے نازل کردہ قرآن کو جاننے والا کوئی اور آدمی چھوڑا ہو! حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر آپ نے یہ کہا ہے تو (اس کی وجہ یہ ہے کہ) یہ اس وقت حاضر رہتے جب ہم موجود نہ ہوتے اور انہیں (اس وقت بھی) حاضری کی اجازت دی جاتی جب ہمیں اجازت نہ ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6330]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2461
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2461 ترقیم شاملہ: -- 6331
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا مُوسَى، فَوَجَدْتُ عَبْدَ اللَّهِ، وَأَبَا مُوسَى. ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ حُذَيْفَةَ، وَأَبِي مُوسَى، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَحَدِيثُ قُطْبَةَ أَتَمُّ وَأَكْثَرُ.
ابوعبیدہ نے اعمش سے، انہوں نے زید بن وہب سے روایت کی، کہا: میں حضرت حذیفہ اور ابوموسی رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، اور (یہی) حدیث بیان کی۔ قطبہ کی حدیث مکمل اور زیادہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6331]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2461
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2462 ترقیم شاملہ: -- 6332
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: " وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 161، ثُمَّ قَالَ عَلَى: قِرَاءَةِ مَنْ تَأْمُرُونِي، أَنْ أَقْرَأَ، فَلَقَدْ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَلَقَدْ عَلِمَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَعْلَمُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا أَعْلَمُ مِنِّي لَرَحَلْتُ إِلَيْهِ، قَالَ شَقِيقٌ: فَجَلَسْتُ فِي حَلَقِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرُدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَلَا يَعِيبُهُ ".
شقیق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے پڑھا: «وَمَنْ یَغْلُلْ یَأْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ» (سورۃ آل عمران: 161) پھر کہا کہ تم مجھے کس شخص کی قرآت کی طرح قرآن پڑھنے کا حکم کرتے ہو؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ستر سے زیادہ سورتیں پڑھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سب میں اللہ کی کتاب کو زیادہ جانتا ہوں اور اگر میں جانتا کہ کوئی مجھ سے زیادہ اللہ کی کتاب کو جانتا ہے تو میں اس شخص کی طرف سفر اختیار کرتا۔ شفیق نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے حلقوں میں بیٹھا ہوں، میں نے کسی کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس بات کو رد کرتے یا ان پر عیب لگاتے نہیں سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6332]
شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن خیانت کردہ چیز کو لے کر حاضر ہوگا ﴿وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [سورة آل عمران: 161] ، پھر کہا کہ تم مجھے کس شخص کی قرأت کی طرح قرآن پڑھنے کا حکم کرتے ہو؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ستر سے زیادہ سورتیں پڑھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سب میں اللہ کی کتاب کو زیادہ جانتا ہوں اور اگر میں جانتا کہ کوئی مجھ سے زیادہ اللہ کی کتاب کو جانتا ہے تو میں اس شخص کی طرف سفر اختیار کرتا۔ شقیق رحمہ اللہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے حلقوں میں بیٹھا ہوں، میں نے کسی کو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس بات کو رد کرتے یا ان پر عیب لگاتے نہیں سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6332]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2462
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2463 ترقیم شاملہ: -- 6333
أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، مَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ سُورَةٌ إِلَّا أَنَا أَعْلَمُ حَيْثُ نَزَلَتْ، وَمَا مِنْ آيَةٍ إِلَّا أَنَا أَعْلَمُ فِيمَا أُنْزِلَتْ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا هُوَ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ مِنِّي، تَبْلُغُهُ الْإِبِلُ لَرَكِبْتُ إِلَيْهِ "
مسروق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کتاب اللہ کی کوئی سورت نہیں مگر میں اس کے متعلق جانتا ہوں کہ وہ کب نازل ہوئی، اور کتاب اللہ کی کوئی آیت نہیں مگر مجھے علم ہے کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی، اور اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والا ہے اور اونٹ اس تک پہنچ سکتے ہیں تو میں (اونٹوں پر سفر کر کے) اس کے پاس جاؤں (اور قرآن کا علم حاصل کروں)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6333]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کتاب اللہ کی کوئی سورہ ایسی نہیں مگر میں اس کے متعلق جانتا ہوں کہ وہ کب نازل ہوئی، اور کتاب اللہ کی کوئی آیت ایسی نہیں مگر مجھے علم ہے کہ وہ کس کے بارے میں نازل ہوئی، اور اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والا ہے اور اس کے پاس اونٹ پہنچ سکتے ہوں تو میں سوار ہو کر اس کے پاس پہنچوں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6333]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2463
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2464 ترقیم شاملہ: -- 6334
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: كُنَّا نَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، فَنَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ عِنْدَهُ: فَذَكَرْنَا يَوْمًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: لَقَدْ ذَكَرْتُمْ رَجُلًا لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ شَيْءٍ، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِهِ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے (ابووائل) شقیق سے حدیث بیان کی، انہوں نے مسروق سے روایت کی، کہا: ہم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس جاتے تھے اور ان کے ساتھ (علمی) گفتگو کیا کرتے تھے۔ اور ابن نمیر نے کہا: ان کے پاس (گفتگو کیا کرتے تھے) چنانچہ ایک دن ہم نے (ان کے سامنے) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے اس شخصکا ذکر کیا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سننے کے بعد سے مسلسل اس سے محبت کرتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قرآن چار آدمیوں سے سیکھو: ابن ام عبد(حضرت ابن مسعود) رضی اللہ عنہ سے۔ آپ نے ابتداء ان سے کی۔ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، اور ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم سے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6334]
حضرت مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، ہم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس جاتے تھے اور ان کے ساتھ (علمی) گفتگو کیا کرتے تھے۔ اور ابن نمیر نے کہا: ان کے پاس (گفتگو کیا کرتے تھے)، چنانچہ ایک دن ہم نے (ان کے سامنے) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے اس شخص کا ذکر کیا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سننے کے بعد سے مسلسل اس سے محبت کرتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قرآن چار آدمیوں سے سیکھو: ابن ام عبد (حضرت ابن مسعود) رضی اللہ عنہ سے۔ آپ نے ابتدا ان سے کی۔ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، ابن ابی کعب رضی اللہ عنہ، اور ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم سے۔ بعض راویوں نے «نَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ» کی جگہ «نَتَحَدَّثُ عِنْدَهُ» کہا، مقصد ایک ہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6334]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2464
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں