🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب من فضائل عبد الله بن مسعود وامه رضي الله تعالى عنهما:
باب: سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2462 ترقیم شاملہ: -- 6332
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: " وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 161، ثُمَّ قَالَ عَلَى: قِرَاءَةِ مَنْ تَأْمُرُونِي، أَنْ أَقْرَأَ، فَلَقَدْ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَلَقَدْ عَلِمَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَعْلَمُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا أَعْلَمُ مِنِّي لَرَحَلْتُ إِلَيْهِ، قَالَ شَقِيقٌ: فَجَلَسْتُ فِي حَلَقِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرُدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَلَا يَعِيبُهُ ".
شقیق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے پڑھا: «وَمَنْ یَغْلُلْ یَأْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ» (سورۃ آل عمران: 161) پھر کہا کہ تم مجھے کس شخص کی قرآت کی طرح قرآن پڑھنے کا حکم کرتے ہو؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ستر سے زیادہ سورتیں پڑھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سب میں اللہ کی کتاب کو زیادہ جانتا ہوں اور اگر میں جانتا کہ کوئی مجھ سے زیادہ اللہ کی کتاب کو جانتا ہے تو میں اس شخص کی طرف سفر اختیار کرتا۔ شفیق نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے حلقوں میں بیٹھا ہوں، میں نے کسی کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس بات کو رد کرتے یا ان پر عیب لگاتے نہیں سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6332]
شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن خیانت کردہ چیز کو لے کر حاضر ہوگا ﴿وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [سورة آل عمران: 161] ، پھر کہا کہ تم مجھے کس شخص کی قرأت کی طرح قرآن پڑھنے کا حکم کرتے ہو؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ستر سے زیادہ سورتیں پڑھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سب میں اللہ کی کتاب کو زیادہ جانتا ہوں اور اگر میں جانتا کہ کوئی مجھ سے زیادہ اللہ کی کتاب کو جانتا ہے تو میں اس شخص کی طرف سفر اختیار کرتا۔ شقیق رحمہ اللہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے حلقوں میں بیٹھا ہوں، میں نے کسی کو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس بات کو رد کرتے یا ان پر عیب لگاتے نہیں سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6332]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2462
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود
مخضرم
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة حافظ إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5000
أخذت من في رسول الله بضعا وسبعين سورة
صحيح مسلم
6332
قرأت على رسول الله بضعا وسبعين سورة
المعجم الصغير للطبراني
872
عندك لبن ؟ ، فقلت : نعم ، ولكني مؤتمن قال : فهل عندك شاة لم ينز عليها الفحل ؟ ، قلت : نعم ، فأتيته بشاة شطور ، قال سلام : والشطور التى ليس لها ضرع ، فمسح النبى صلى الله عليه وسلم مكان الضرع ، وما كان لها ضرع ، فإذا الضرع حافل مملوء لبنا ، فأتيت النبى صلى الله عليه وسلم بصخرة منقورة ، فحلب ، ثم سقى أبا بكر وسقاني ، ثم قال للضرع : اقلص فقلص ، فرجع كما كان ، فأنا رأيت هذا من رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ، فقلت : يا رسول الله علمني ، فمسح رأسي ، وقال : بارك الله فيك ، فإنك غلام معلم ، فأسلمت وأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فبينما نحن عنده على حراء إذ أنزلت عليه سورة والمرسلات عرفا فأخذتها ، وإنها رطبة من فيه ، فأخذت من فى رسول الله صلى الله عليه وسلم سبعين سورة وأخذت بقية القرآن من أصحابه
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6332 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6332
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں جب اسلام عرب سے نکل کر روم اور ایران کے دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا اور مختلف صحابہ کرام،
مختلف علاقوں میں پہنچے اور انہوں نے وہاں کے لوگوں کو اپنی اپنی قراءت کے مطابق قرآن مجید کی تعلیم دی تو لوگوں میں قرآن کریم کی قراءتوں کے بارے میں اختلاف رونما ہونے لگا،
جس کی اطلاع حضرت حذیفہ بن یمان نے حضرت عثمان کو دی تو حضرت عثمان نے جلیل القدر صحابہ کرام کے مشورہ سے اس اختلاف سے بچنے کا یہ حل نکالا کہ تمام لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کر دیا جائے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں جمع کردہ صحیفوں کو ایک مصحف میں منتقل کر کے،
اس کی مختلف نقلیں تیار کروائیں اور یہ مکمل معیاری نسخہ مختلف مقامات پر رکھوا دیا اور لوگوں کو کہا،
اپنے نسخے اس نسخہ کے مطابق تیار کریں اور اپنے انفرادی مصحف جن کی ترتیب الگ الگ ہے،
وہ نذر آتش کر دیں،
تاکہ مصحف کی ترتیب اور رسم الخط یکساں ہو جائے،
لیکن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار نہیں ہوئے،
کیونکہ وہ کہتے تھے،
میں نے ستر (70)
سے زیادہ سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی ہیں،
اس لیے میں اپنا مصحف کیوں ختم کروں اور اس کے لیے انہوں نے اپنے کوفی تلامذہ کو بھی یہی ترغیب دی کہ وہ اپنے مصحف چھپا لیں اور حضرت عثمان کے حوالہ نہ کریں اور اس کے لیے مذکورہ بالا آیت پیش کی کہ خلیفہ کو مصحف حوالہ نہ کرنا خیانت ہو گی اور ہم یہی خیانت قیامت کے دن حاضر کریں گے،
بہرحال امت نے حضرت عثمان کے رسم الخط اور ترتیب کو قبول کیا،
آج وہی رسم الخط اور ترتیب قائم ہے،
اگرچہ عجمیوں کی سہولت کے لیے اس میں نقطوں اور حرکات و سکنات رکوع،
پارے اور رموز اوقاف کا اضافہ کیا گیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6332]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5000
5000. سیدنا شقیق بن سلمہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے ستر سے زیادہ سورتیں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن کر یاد کی ہیں۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام‬ ؓ ک‬و یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ میں ان سب سے زیادہ قرآن کریم کا جاننے والا ہوں۔ حالانکہ میں ان سے بہتر نہیں ہوں۔ شقیق کہتے ہیں کہ میں لوگوں کے مجمع میں بیٹھتا تا کہ لوگوں کے تاثرات معلوم کروں لیکن میں نے کسی سے اس بات کی تردید نہیں سنی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5000]
حدیث حاشیہ:
حضرت عبداللہ بن مسعود نے یہ اپنا واقعی حال بیان فرمایا گو اس میں فضیلت نکلی ان کی نیت غرور اور تکبر کی نہ تھی ہاں فخر و غرور سے ایسا کہنا منع ہے۔
إنمَا الأعمالُ بِالنیاتِ۔
شقیق کا قول محل غور ہے کیونکہ ابن ابی داؤد نے زہری سے نکالا ہے انہوں نے کہا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس قول کو مجاہد نے پسند نہیں کیا (وحیدی)
سچ ہے۔
﴿و فَوقَ کُل ذِی عِلم عَلِیم﴾
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5000]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5000
5000. سیدنا شقیق بن سلمہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے ستر سے زیادہ سورتیں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن کر یاد کی ہیں۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام‬ ؓ ک‬و یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ میں ان سب سے زیادہ قرآن کریم کا جاننے والا ہوں۔ حالانکہ میں ان سے بہتر نہیں ہوں۔ شقیق کہتے ہیں کہ میں لوگوں کے مجمع میں بیٹھتا تا کہ لوگوں کے تاثرات معلوم کروں لیکن میں نے کسی سے اس بات کی تردید نہیں سنی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5000]
حدیث حاشیہ:

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا حال واقعی بیان کیا ہے۔
ان کی نیت میں فخر و غرور کا اظہار نہ تھا جیسا کہ خود انھوں نے وضاحت فرمائی ہے کہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے افضل نہیں ہوں۔
البتہ شقیق رحمۃ اللہ علیہ کا قول محل نظر ہے کیونکہ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس بات کو پسند نہ کیا ممکن ہے کہ جہت اختلاف کی وجہ سے ایسا ہو۔

یقیناً حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن کریم کے عالم اور بہترین قاری تھے لیکن انھوں نے مصحف عثمانی کے مقابلے میں اپنے مصحف کو باقی رکھنے پر اصرار کیا۔
اس بات کو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پسند نہیں فرمایا:
حالانکہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مصحف پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا اتفاق ہو چکا تھا۔
(فتح الباري: 62/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5000]

Sahih Muslim Hadith 6332 in Urdu