علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
49. باب من فضائل نساء قريش:
باب: قریشی عورتوں کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2527 ترقیم شاملہ: -- 6456
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وَعَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ "، قَالَ أَحَدُهُمَا: صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ، وقَالَ الْآخَرُ: نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى يَتِيمٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ.
ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے حدیث بیان کی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور ابن طاوس نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان عورتوں میں سے بہترین جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں۔“ ان دونوں (اعرج اور طاوس) میں سے ایک نے کہا: قریش کی نیک عورتیں ہیں اور دوسرے نے کہا: قریش کی عورتیں ہیں۔ جو یتیم بچے کی کم عمری میں اس پر سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں اور اپنے شوہر کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6456]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بہترین عورتیں،جو اونٹوں پر سواری کرتی ہیں،وہ قریش کی پارساعورتیں ہیں،یا قریشی عورتیں ہیں،جو یتیم پر بچپن میں بہت شفقت کرتی ہیں اور خاوند کے ہاتھ کی چیزوں کی بہت حفاظت کرتی ہیں۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6456]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2527
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6456 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6456
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
خير نساء ركبن الابل:
اونٹ سوار عورتوں میں سب سے بہتر،
یعنی عرب عورتوں میں سب سے بہتر،
کیونکہ عربی عورتیں ہی اونٹ پر سواری کرتی تھیں،
گویا،
اپنے دور میں سب سے بہتر قریش کی باصلاحیت عورتیں تھیں،
اس لیے مریم علیہا السلام کو نکالنے کی ضرورت نہیں ہے،
وہ اس دور میں تھی ہی نہیں اور اس فضیلت و خیریت کی سبب دو خوبیاں ہیں:
(1)
احناه علي يتيم،
جو بچہ پر بچپن میں انتہائی شفقت کرتی ہیں،
حتی کہ اگر بیوہ ہو جائیں تو اولاد کی خاطر،
نئی شادی کرنے سے گریز کرتی ہیں،
تاکہ ان کی پرورش و پرداخت یکسوئی سے کر سکیں۔
(2)
ارعاه علي زوج في ذات يده:
خاوند کی ہاتھ کی چیز یعنی اس کے مال و دولت کی خوب حفاظت کرتی ہیں،
اسراف و تبذیر یا فضول خرچی سے اس کو ضائع نہیں کرتیں،
ظاہر ہے،
جب وہ مال و دولت کی حفاظت کرتی ہیں تو اس کی عزت و ناموس جو انمول شئی ہے،
اس کی بالاولیٰ حفاظت کریں گی۔
مفردات الحدیث:
خير نساء ركبن الابل:
اونٹ سوار عورتوں میں سب سے بہتر،
یعنی عرب عورتوں میں سب سے بہتر،
کیونکہ عربی عورتیں ہی اونٹ پر سواری کرتی تھیں،
گویا،
اپنے دور میں سب سے بہتر قریش کی باصلاحیت عورتیں تھیں،
اس لیے مریم علیہا السلام کو نکالنے کی ضرورت نہیں ہے،
وہ اس دور میں تھی ہی نہیں اور اس فضیلت و خیریت کی سبب دو خوبیاں ہیں:
(1)
احناه علي يتيم،
جو بچہ پر بچپن میں انتہائی شفقت کرتی ہیں،
حتی کہ اگر بیوہ ہو جائیں تو اولاد کی خاطر،
نئی شادی کرنے سے گریز کرتی ہیں،
تاکہ ان کی پرورش و پرداخت یکسوئی سے کر سکیں۔
(2)
ارعاه علي زوج في ذات يده:
خاوند کی ہاتھ کی چیز یعنی اس کے مال و دولت کی خوب حفاظت کرتی ہیں،
اسراف و تبذیر یا فضول خرچی سے اس کو ضائع نہیں کرتیں،
ظاہر ہے،
جب وہ مال و دولت کی حفاظت کرتی ہیں تو اس کی عزت و ناموس جو انمول شئی ہے،
اس کی بالاولیٰ حفاظت کریں گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6456]
Sahih Muslim Hadith 6456 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← أبو هريرة الدوسي