🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. باب تحريم سب الصحابة رضي الله عنهم:
باب: صحابہ رضی اللہ عنہم کو گالی دینے کی حرمت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2541 ترقیم شاملہ: -- 6488
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَيْءٌ، فَسَبَّهُ خَالِدٌ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ ".
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوسعید (خدری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت خالد بن ولید اور عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان کوئی مناقشہ تھا، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ان کو برا کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو برا نہ کہو، کیونکہ تم میں سے کسی شخص نے اگر احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کیا تو وہ ان میں سے کسی کے دیے ہوئے ایک مد کے برابر بلکہ اس کے آدھے کے برابر بھی (اجر) نہیں پا سکتا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6488]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت خالد بن ولید اور حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہما کے درمیان کچھ تلخی ہوئی تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ان پر تنقید کی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھیوں میں سے کسی کو بُرا نہ کہو، کیونکہ تم میں سے کوئی اگر احد کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ ان کے مد یا نصف مد کو بھی نہیں پا سکے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6488]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2541
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو سعيد الخدري
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← أبو صالح السمان
ثقة حافظ
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3673
لا تسبوا أصحابي لو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه
صحيح مسلم
6488
لا تسبوا أحدا من أصحابي أحدكم لو أنفق مثل أحد ذهبا ما أدرك مد أحدهم ولا نصيفه
جامع الترمذي
3861
لا تسبوا أصحابي لو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما أدرك مد أحدهم ولا نصيفه
سنن أبي داود
4658
لا تسبوا أصحابي لو أنفق أحدكم مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه
سنن ابن ماجه
161
لا تسبوا أصحابي لو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما أدرك مد أحدهم ولا نصيفه
المعجم الصغير للطبراني
725
لا تسبوا أصحابي لو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه
المعجم الصغير للطبراني
902
لا تسبوا أصحابي ، فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6488 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6488
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اگر بعد والے صحابہ کرام پر قدیم الاسلام صحابہ کرام کو یہ شرف حاصل ہے تو پھر عام امت پر انہیں کس قدر شرف و مقام حاصل ہو گا،
کیونکہ حضرت خالد بن ولید بھی فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہو چکے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6488]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث161
اہل بدر کے مناقب و فضائل۔
‏‏‏‏ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کو گالیاں نہ دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں صرف کر ڈالے تو ان میں کسی کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر بھی ثواب نہ پائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 161]
اردو حاشہ:
امام مزی رحمۃ اللہ علیہ تحفۃ الاشرف میں لکھتے ہیں کہ سنن ابن ماجہ کے جن نسخوں میں یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کاتبوں کی غلطی ہے کیونکہ صحاح ستہ میں یہ حدیث حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
بہرحال اس غلطی سے حدیث کی صحت پر اثر نہیں پڑتا کیونکہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔

(2)
اس حدیث میں اہل بدر کی تخصیص نہیں شاید مصنف اس باب میں اس حدیث کو اس لیے لائے ہیں کہ اس عموم میں بدری صحابہ کرام بھی داخل ہیں۔

(3)
اس حدیث میں خطاب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا بظاہر ایک معمولی عمل رکھتا ہے۔

(4)
صحابہ رضی اللہ عنھم کے اعمال کا مقام اس قدر بلند ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس وقت یہ قربانیاں دی تھیں جب اسلام کی بنیاد رکھی جا رہی تھی اور ان چند نفوس قدسیہ کے سوا پوری دنیا میں اسلام کی مدد کرنے والا کوئی نہ تھا، علاوہ ازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف ایسا عظیم شرف ہے جس کا متبادل بڑے سے بڑا نیک عمل نہیں ہو سکتا۔
بڑے سے بڑا تابعی ادنٰی سے ادنٰی صحابی کا مقام حاصل نہیں کر سکتا۔
مُد، ماپنے کا ایک پیمانہ ہے جو صاع کے چوتھے حصے کے برابر ہوتا ہے اور صاع کی صحیح مقدار دو کلو اور سو گرام ہے، تاہم غلے کی جنس کے اختلاف کی وجہ سے یہ مقدار ڈھائی کلو تک ہو سکتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 161]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3861
صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد بلکہ آدھے مد کے (اجر کے) برابر بھی نہیں پہنچ سکے گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3861]
اردو حاشہ:
1؎: ان اصحاب سے مراد عام صحابہ نہیں بلکہ سابقوں اولون مرادہیں،
اس لیے کہ ایک تو آپ کے اس فرمان کاسبب خالدبن ولید اور عبدالرحمن بن عوف(رضی اللہ عنہما)کے درمیان ایک جھگڑا تھاجس میں خالدنے عبدالرحمن بن عوف کوبرابھلاکہدیاتھا (اور خالد بھی صحابی ہیں)دوسرے آپ کا یہ فرمان ہے ''اگرتم میں سے کوئی...''اورظاہربات ہے کہ اس ''تم''سے صحابہ ہی مخاطب ہیں،
ویسے جب یہ جائز نہیں ہواکہ متاخرصحابہ مقدم صحابہ کوبرابھلا کہیں،
تو یہ بدرجہ اولیٰ ناجائزہوا کہ ایک غیرصحابی صحابہ کرام کو برا بھلا کہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3861]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3673
3673. حضرت ابوسعیدخدری ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اصحاب کو بُرا بھلا نہ کہو کیونکہ تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو وہ ان کے مد یانصف مد کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔ حضرت جریر، عبداللہ بن داود، ابو معاویہ اور محاضر نے اعمش سے روایت کرنے میں شعبہ کی متابعت کی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3673]
حدیث حاشیہ:
اس سے عام طورپر صحابہ كرام ؓ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، یہ وہ بزرگان اسلام ہیں، جن کو دیدار رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم نصیب ہوا، اس لیے ان کی عند اللہ بڑی اہمیت ہے، جریر رضی اللہ عنہ کی روایت کو امام مسلم نے اور محاضر کی روایت کو ابوالفتح نے اپنے فوائد میں اور عبداللہ بن داود کی روایت کو مسدد نے اور ابومعاویہ کی روایت کو امام احمد نے وصل کیا ہے۔
خدمت اسلام میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مالی قربانیوں کو اس لیے فضیلت حاصل ہے کہ انہوں نے ایسے وقت میں خرچ کیا جب سخت ضرورت تھی، کافروں کا غلبہ تھا اور مسلمان محتاج تھے۔
مقصود مہاجرین اولین اور انصار کی فضیلت بیان کرنا ہے، ان میں ابوبکر صدیق ؓ بھی تھے۔
لہذا باب کی مطابقت حاصل ہوگئی۔
یہ حدیث آپ نے اس وقت فرمائی جب خالد بن ولید اور عبدالرحمن بن عوف ؓ میں کچھ تکرار ہوئی۔
خالد نے عبدالرحمن کو کچھ سخت کہا۔
آپ نے خالد ؓ کو مخاطب کرکے یہ فرمایا۔
بعض نے کہا کہ یہ خطاب ان لوگوں کی طرف ہے جو صحابہ کے بعد پیداہوں گے۔
ان کو موجود فرض کرکے ان کی طرف خطاب کیا۔
مگر یہ قول صحیح نہیں ہے کیوں کہ خالد ؓ کی طرف خطاب کرکے آپ نے یہ حدیث فرمائی تھی اور خالد ؓ خود صحابہ میں سے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3673]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3673
3673. حضرت ابوسعیدخدری ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اصحاب کو بُرا بھلا نہ کہو کیونکہ تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو وہ ان کے مد یانصف مد کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔ حضرت جریر، عبداللہ بن داود، ابو معاویہ اور محاضر نے اعمش سے روایت کرنے میں شعبہ کی متابعت کی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3673]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے مہاجرین اولین اور انصار کی فضیلت بیان کرنا مقصود ہے جن میں حضرت ابوبکر ؓ سرفہرست ہیں۔
ان حضرات نے مسلمانوں پر ایسے وقت میں ا پنا مال خرچ کیا جب ہرطرف سے کفار کاغلبہ تھا اور مسلمان مال دولت کے محتاج تھے۔

یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بیان فرمائی جب حضرت خالد بن ولید ؓ اور حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ کے مابین کچھ تلخ کلامی ہوئی۔
حضرت خالد بن ولید نے ؓ نے حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ کو سخت سست کہا تو آپ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کو مخاطب کرے یہ حدیث بیان فرمائی۔
(فتح الباري: 44/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3673]

Sahih Muslim Hadith 6488 in Urdu