صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
57. باب فضل اهل عمان:
باب: عمان والوں کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2544 ترقیم شاملہ: -- 6495
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ جَابِرِ بْنِ عَمْرٍو الرَّاسِبِيِّ ، سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَسَبُّوهُ وَضَرَبُوهُ، فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَنَّ أَهْلَ عُمَانَ أَتَيْتَ مَا سَبُّوكَ وَلَا ضَرَبُوكَ ".
جابر بن عمرو راسبی نے کہا: میں نے حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو قبائل عرب میں سے ایک قبیلے کے پاس بھیجا تو ان لوگوں نے ان کو گالیاں دیں اور مارا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو خبر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اہل عمان کے پاس جاتے تو وہ تمہیں گالیاں نہ دیتے نہ مارتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6495]
حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو قبائل عرب میں سے ایک قبیلے کے پاس بھیجا تو ان لوگوں نے ان کو گالیاں دیں اور مارا،وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کوخبر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اگر تم اہل عمان کے پاس جاتے تو وہ تمھیں گالیاں دیتے نہ مارتے۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6495]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2544
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6495 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6495
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عُمَان سے مراد وہ علاقہ ہے جس کا دارالحکومت مسقط ہے،
جو اصل میں یمن میں داخل ہے،
اس سے مراد اُردن کا علاقہ عمان نہیں ہے،
اس طرح آپ نے ان لوگوں کے حسن معاملہ کی تعریف کی۔
فوائد ومسائل:
عُمَان سے مراد وہ علاقہ ہے جس کا دارالحکومت مسقط ہے،
جو اصل میں یمن میں داخل ہے،
اس سے مراد اُردن کا علاقہ عمان نہیں ہے،
اس طرح آپ نے ان لوگوں کے حسن معاملہ کی تعریف کی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6495]
جابر بن عمرو الراسبي ← نضلة بن عمرو الأسلمي