یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
58. باب ذكر كذاب ثقيف ومبيرها:
باب: ثقیف کے جھوٹے اور ہلاکو کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2545 ترقیم شاملہ: -- 6496
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيَّ ، أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ ، رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى عَقَبَةِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَجَعَلَتْ قُرَيْشٌ تَمُرُّ عَلَيْهِ وَالنَّاسُ حَتَّى مَرَّ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا، أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كُنْتَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا وَصُولًا لِلرَّحِمِ، أَمَا وَاللَّهِ لَأُمَّةٌ أَنْتَ أَشَرُّهَا لَأُمَّةٌ خَيْرٌ، ثُمَّ نَفَذَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ مَوْقِفُ عَبْدِ اللَّهِ وَقَوْلُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَأُنْزِلَ عَنْ جِذْعِهِ، فَأُلْقِيَ فِي قُبُورِ الْيَهُودِ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَبَتْ أَنْ تَأْتِيَهُ فَأَعَادَ عَلَيْهَا الرَّسُولَ لَتَأْتِيَنِّي أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكِ مَنْ يَسْحَبُكِ بِقُرُونِكِ، قَالَ: فَأَبَتْ، وَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَا آتِيكَ حَتَّى تَبْعَثَ إِلَيَّ مَنْ يَسْحَبُنِي بِقُرُونِي، قَالَ: فَقَالَ: أَرُونِي سِبْتَيَّ فَأَخَذَ نَعْلَيْهِ، ثُمَّ انْطَلَقَ يَتَوَذَّفُ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: كَيْفَ رَأَيْتِنِي صَنَعْتُ بِعَدُوِّ اللَّهِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُكَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ، وَأَفْسَدَ عَلَيْكَ آخِرَتَكَ بَلَغَنِي أَنَّكَ، تَقُولُ لَهُ: يَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ، أَنَا وَاللَّهِ ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكُنْتُ أَرْفَعُ بِهِ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَعَامَ أَبِي بَكْرٍ مِنَ الدَّوَابِّ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَنِطَاقُ الْمَرْأَةِ الَّتِي لَا تَسْتَغْنِي عَنْهُ، أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا " أَنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا، وَمُبِيرًا، فَأَمَّا الْكَذَّابُ: فَرَأَيْنَاهُ، وَأَمَّا الْمُبِيرُ: فَلَا إِخَالُكَ إِلَّا إِيَّاهُ، قَالَ: فَقَامَ عَنْهَا، وَلَمْ يُرَاجِعْهَا ".
ہمیں اسود بن شیبان نے ابونوافل سے خبر دی، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ (کے جسد خاکی) کو شہر کی گھاٹی میں (کھجور کے ایک تنے سے لٹکا ہوا) دیکھا، کہا: تو قریش اور دوسرے لوگوں نے وہاں سے گزرنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو وہ ان (ابن زبیر رضی اللہ عنہ) کے پاس کھڑے ہو گئے، اور (انہیں مخاطب کرتے ہوئے) کہا: ابوخبیب! آپ پر سلام! ابوخبیب! آپ پر سلام! ابوخبیب! آپ پر سلام! اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا، اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا، اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا، اللہ کی قسم! آپ، جتنا مجھے علم ہے بہت روزے رکھنے والے، بہت قیام کرنے والے، بہت صلہ رحمی کرنے والے تھے۔ اللہ کی قسم! وہ امت جس میں آپ سب سے بُرے (قرار دیے گئے) ہوں، وہ امت تو پوری کی پوری بہترین ہو گی (جبکہ اس میں تو بڑے بڑے ظالم، قاتل اور مجرم موجود ہیں۔ آپ کسی طور پر اس سلوک کے مستحق نہ تھے۔) پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے۔ حجاج کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے وہاں کھڑے ہونے کی خبر پہنچی تو اس نے کارندے بھیجے، ان (کے جسد خاکی) کو کھجور کے تنے سے اتارا گیا اور انہیں جاہلی دور کی یہود کی قبروں میں پھینک دیا گیا، پھر اس نے (ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ) حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس کارندہ بھیجا۔ انہوں نے اس کے پاس جانے سے انکار کر دیا۔ اس نے دوبارہ قاصد بھیجا کہ یا تو تم میرے پاس آؤ گی یا پھر میں تمہارے پاس ان لوگوں کو بھیجوں گا جو تمہیں تمہارے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے آئیں گے۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے پھر انکار کر دیا اور فرمایا: میں ہرگز تیرے پاس نہ آؤں گی یہاں تک کہ تو میرے پاس ایسے شخص کو بھیجے جو مجھے میرے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے جائے۔ کہا: تو حجاج کہنے لگا: مجھے میرے جوتے دکھاؤ، اس نے جوتے پہنے اور اکڑتا ہوا تیزی سے چل پڑا، یہاں تک کہ ان کے ہاں پہنچا اور کہا: تم نے مجھے دیکھا کہ میں نے اللہ کے دشمن کے ساتھ کیا کیا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے تمہیں دیکھا ہے کہ تم نے اس پر اس کی دنیا تباہ کر دی جبکہ اس نے تمہاری آخرت برباد کر دی، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تو اسے دو پیٹیوں والی کا بیٹا (ابن ذات النطاقین) کہتا ہے۔ ہاں، اللہ کی قسم! میں دو پیٹیوں والی ہوں۔ ایک پیٹی کے ساتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا کھانا سواری کے جانور پر باندھتی تھی اور دوسری پیٹی وہ ہے جس سے کوئی عورت مستغنی نہیں ہو سکتی (سب کو لباس کے لیے اس کی ضرورت ہوتی ہے۔) اور سنو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا کہ بنو ثقیف میں ایک بہت بڑا کذاب ہو گا اور ایک بہت بڑا سفاک ہو گا۔ کذاب (مختار ثقفی) کو تو ہم نے دیکھ لیا اور رہا سفاک تو میں نہیں سمجھتی کہ تیرے علاوہ کوئی اور ہو گا، کہا: تو وہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور انہیں کوئی جواب نہ دے سکا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6496]
ابو نوفل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو (مکہ میں) مدینہ کی گھاٹی پر (سولی پر لٹکے ہوئے دیکھا) وہاں سے قریش اور دوسرے لوگ گزرنے لگے، حتیٰ کہ ان کے پاس سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گزرے تو وہ ان (ابن زبیر رضی اللہ عنہما) کے پاس کھڑے ہو گئے، اور (انہیں مخاطب کرتے ہوئے) کہا: «يَا أَبَا خُبَيْبٍ السَّلَامُ عَلَيْكَ، يَا أَبَا خُبَيْبٍ السَّلَامُ عَلَيْكَ، يَا أَبَا خُبَيْبٍ السَّلَامُ عَلَيْكَ» ”ابو خبیب! آپ پر سلام! ابو خبیب! آپ پر سلام! ابو خبیب! آپ پر سلام!“ اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا، اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا، اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا، اللہ کی قسم! آپ، جتنا مجھے علم ہے بہت روزے رکھنے والے، بہت قیام کرنے والے، بہت صلہ رحمی کرنے والے تھے۔ اللہ کی قسم! وہ امت جس میں آپ سب سے برے (قرار دیے گئے) ہوں، وہ امت تو پوری کی پوری بہترین ہوگی (جبکہ اس میں تو بڑے بڑے ظالم، قاتل اور مجرم موجود ہیں۔ آپ کسی طور پر اس سلوک کے مستحق نہ تھے۔) پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وہاں سے چلے گئے۔ حجاج کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے وہاں کھڑے ہونے کی خبر پہنچی تو اس نے کارندے بھیجے، ان (کے جسدِ خاکی) کو کھجور کے تنے سے اتارا گیا اور انہیں جاہلی دور کی یہود کی قبروں میں پھینک دیا گیا، پھر اس نے (ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی والدہ) حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے پاس کارندہ بھیجا۔ انہوں نے اس کے پاس جانے سے انکار کر دیا۔ اس نے دوبارہ قاصد بھیجا کہ یا تو تم میرے پاس آؤ گی یا پھر میں تمہارے پاس ان لوگوں کو بھیجوں گا جو تمہیں تمہارے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے آئیں گے۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہما نے پھر انکار کر دیا اور فرمایا: میں ہرگز تیرے پاس نہ آؤں گی یہاں تک کہ تو میرے پاس ایسے شخص کو بھیجے جو مجھے میرے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے جائے۔ کہا: تو حجاج کہنے لگا: مجھے میرے جوتے دکھاؤ، اس نے جوتے پہنے اور اکڑتا ہوا تیزی سے چل پڑا، یہاں تک کہ ان کے ہاں پہنچا اور کہا: تم نے مجھے دیکھا کہ میں نے اللہ کے دشمن کے ساتھ کیا کیا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے تمہیں دیکھا ہے کہ تم نے اس پر اس کی دنیا تباہ کر دی جبکہ اس نے تمہاری آخرت برباد کر دی، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تو اسے «ابْنُ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ» ”دو پیٹیوں والی کا بیٹا“ کہتا ہے۔ ہاں، اللہ کی قسم! میں «ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ» ”دو پیٹیوں والی“ ہوں۔ ایک پیٹی کے ساتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا کھانا سواری کے جانور پر باندھتی تھی اور دوسری پیٹی وہ ہے جس سے کوئی عورت مستغنی نہیں ہو سکتی (سب کو لباس کے لیے اس کی ضرورت ہوتی ہے۔) اور سنو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا کہ ”بنو ثقیف میں ایک بہت بڑا کذاب ہوگا اور ایک بہت بڑا سفاک ہوگا۔“ کذاب (مختار ثقفی) کو تو ہم نے دیکھ لیا اور رہا سفاک تو میں نہیں سمجھتی کہ تیرے علاوہ کوئی اور ہوگا، کہا: تو وہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور انہیں کوئی جواب نہ دے سکا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6496]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2545
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6496 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6496
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
عقبة المدينة:
مکہ کی وہ گھاٹی جس سے مدینہ کو جایا جاتا ہے،
جہاں حجاج نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کی شہادت کے بعد سولی پر لٹکا رکھا تھا۔
(2)
السلام عليك ياابا خبيب:
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے کا نام خبیب تھا،
اس لیے ان کو ابو خبیب کے نام سے پکار کر سلام کہا،
جس سے معلوم ہوتا ہے،
میت کے پاس آ کر دفن سے پہلے بھی اس کو سلام کہا جا سکتا ہے۔
(3)
لقد كنت انهاك عن هذا:
میں آپ کو خلافت کے دعویٰ سے روکتا تھا کہ اس سے مسلمانوں میں باہمی خون ریزی ہوتی ہے اور ظالم حکمرانوں کے مدمقابل کھڑا ہونے سے،
نفع کی بجائے نقصان زیادہ ہوتا ہے،
جس طرح آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ ظالم حکمرانوں کے خلاف تحریک پیدا کر کے ان کو اقتدار سے نکالنے کے نتیجہ میں فوائد سے زیادہ نقصانات اٹھانے پڑ رہے ہیں،
اگر ان کے مقابلہ میں آ کر،
ان کو نکالنے کی بجائے انہیں کو قبول کرتے ہوئے اصلاح اور بہتری کی کوشش کی جائے تو اس کے نتائج زیادہ بہتر نکلیں گے،
اس لیے ابن عمر رضی اللہ عنہ اقتدار کی خواہش کیے بغیر،
حکمرانوں کو ٹوکتے تھے،
جس طرح یہاں انہوں نے بغیر کسی خوف اور خطرہ کے حضرت ابن زبیر کی خوبیاں اور کمالات بیان کیے اور اس کی پرواہ نہیں کی کہ حجاج اور اس کے حواری تو ان کو اللہ کا دشمن اور ظالم قرار دیتے ہیں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا،
جس امت میں تیرے جیسا آدمی دشمنوں کے بقول بدترین ہے،
وہ امت بہت ہی بہتر اور افضل ہے۔
(4)
يتوذف:
تیز چلتے ہوئے یا اکڑ کر تنجر کے ساتھ چلے ہوئے۔
(5)
ذات النطاقين:
نطاق اس پٹکے کو کہتے ہیں،
جسے عورت کام کاج کرتے وقت کمر پر باندھتی ہے،
سفر ہجرت کے وقت،
سفری کھانے کو باندھنے کے لیے،
انہوں نے اپنے کمر بند کے دو حصے کر لیے تھے،
ایک کے ساتھ سفری کھانا باندھا اور دوسرے کے ساتھ مشکیزہ کا منہ باندھ دیا،
(فتح الباری:
ج7 ص 294)
لیکن مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے،
انہوں نے اقامت مکہ کے دوران بھی کیڑوں مکوڑوں سے بچانے کے لیے کھونٹی پر باندھنے کے لیے اپنا کمر بند دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔
(6)
كذاب:
جھوٹا،
اس سے مراد مختار ثقفی ہے،
جس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میرے پاس وحی آتی ہے۔
(7)
مبير:
ظالم و سفاک،
اس سے مراد،
حضرت اسماء نے حجاج کو لیا اور علمائے امت نے ان کے قول کو قبول کیا۔
مفردات الحدیث:
(1)
عقبة المدينة:
مکہ کی وہ گھاٹی جس سے مدینہ کو جایا جاتا ہے،
جہاں حجاج نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کی شہادت کے بعد سولی پر لٹکا رکھا تھا۔
(2)
السلام عليك ياابا خبيب:
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے کا نام خبیب تھا،
اس لیے ان کو ابو خبیب کے نام سے پکار کر سلام کہا،
جس سے معلوم ہوتا ہے،
میت کے پاس آ کر دفن سے پہلے بھی اس کو سلام کہا جا سکتا ہے۔
(3)
لقد كنت انهاك عن هذا:
میں آپ کو خلافت کے دعویٰ سے روکتا تھا کہ اس سے مسلمانوں میں باہمی خون ریزی ہوتی ہے اور ظالم حکمرانوں کے مدمقابل کھڑا ہونے سے،
نفع کی بجائے نقصان زیادہ ہوتا ہے،
جس طرح آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ ظالم حکمرانوں کے خلاف تحریک پیدا کر کے ان کو اقتدار سے نکالنے کے نتیجہ میں فوائد سے زیادہ نقصانات اٹھانے پڑ رہے ہیں،
اگر ان کے مقابلہ میں آ کر،
ان کو نکالنے کی بجائے انہیں کو قبول کرتے ہوئے اصلاح اور بہتری کی کوشش کی جائے تو اس کے نتائج زیادہ بہتر نکلیں گے،
اس لیے ابن عمر رضی اللہ عنہ اقتدار کی خواہش کیے بغیر،
حکمرانوں کو ٹوکتے تھے،
جس طرح یہاں انہوں نے بغیر کسی خوف اور خطرہ کے حضرت ابن زبیر کی خوبیاں اور کمالات بیان کیے اور اس کی پرواہ نہیں کی کہ حجاج اور اس کے حواری تو ان کو اللہ کا دشمن اور ظالم قرار دیتے ہیں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا،
جس امت میں تیرے جیسا آدمی دشمنوں کے بقول بدترین ہے،
وہ امت بہت ہی بہتر اور افضل ہے۔
(4)
يتوذف:
تیز چلتے ہوئے یا اکڑ کر تنجر کے ساتھ چلے ہوئے۔
(5)
ذات النطاقين:
نطاق اس پٹکے کو کہتے ہیں،
جسے عورت کام کاج کرتے وقت کمر پر باندھتی ہے،
سفر ہجرت کے وقت،
سفری کھانے کو باندھنے کے لیے،
انہوں نے اپنے کمر بند کے دو حصے کر لیے تھے،
ایک کے ساتھ سفری کھانا باندھا اور دوسرے کے ساتھ مشکیزہ کا منہ باندھ دیا،
(فتح الباری:
ج7 ص 294)
لیکن مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے،
انہوں نے اقامت مکہ کے دوران بھی کیڑوں مکوڑوں سے بچانے کے لیے کھونٹی پر باندھنے کے لیے اپنا کمر بند دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔
(6)
كذاب:
جھوٹا،
اس سے مراد مختار ثقفی ہے،
جس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میرے پاس وحی آتی ہے۔
(7)
مبير:
ظالم و سفاک،
اس سے مراد،
حضرت اسماء نے حجاج کو لیا اور علمائے امت نے ان کے قول کو قبول کیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6496]
Sahih Muslim Hadith 6496 in Urdu
عمرو بن مسلم بن أبي عقرب ← أسماء بنت أبي بكر القرشية