🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب حجاج آدم وموسى عليهما السلام:
باب: سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا مباحثہ۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2653 ترقیم شاملہ: -- 6749
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي هَانِئٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا: وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ.
حیوہ اور نافع بن یزید نے ابوہانی سے اسی سند کے ساتھ اسی حدیث کے مانند حدیث بیان کی مگر ان دونوں نے یہ نہیں کہا: اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6749]
امام صاحب یہی روایت دو اساتذہ کی سندوں سے ابو ہانی ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں،لیکن اس میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ اس کا عرش پانی پر تھا۔" [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6749]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2653
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حميد بن هانئ الخولاني، أبو هانئصدوق حسن الحديث
👤←👥نافع بن يزيد الكلاعي، أبو يزيد
Newنافع بن يزيد الكلاعي ← حميد بن هانئ الخولاني
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← نافع بن يزيد الكلاعي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن سهل التميمي، أبو بكر
Newمحمد بن سهل التميمي ← سعيد بن أبي مريم الجمحي
ثقة
👤←👥حيوة بن شريح التجيبي، أبو زرعة
Newحيوة بن شريح التجيبي ← محمد بن سهل التميمي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن يزيد العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد العدوي ← حيوة بن شريح التجيبي
ثقة
👤←👥محمد بن أبي عمر العدني، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي عمر العدني ← عبد الله بن يزيد العدوي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6749 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6749
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام مخلوقات جن کو آسمان و زمین کے اندر پیدا کرنا تھا،
ان کے بارے میں ہر قسم کی تفصیلات کہ ان کی بناوٹ،
شکل و صورت،
رنگ و روغن،
ان کا مقصد،
ان کا طریق کار اور ان کا عمل،
جو اللہ کے علم ازلی میں پہلے سے معلوم تھیں،
ان کو لکھ بھی دیا گیا اور ان کو طے اور مقرر بھی کر دیا گیا اور پچاس ہزار سے مراد ایک طویل عرصہ ہے اور عربی زبان میں کسی چیز کے طے کر دینے اور معین و مقرر کر دینے کے لیے بھی کتابت کا لفظ استعمال ہو جاتا،
جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے،
كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ،
اللہ نے اپنے بارے میں یہ طے فرمایا ہے کہ وہ مخلوق سے رحمت کا برتاؤ کرے گا،
(حجۃ اللہ ج 1 ص 166)
۔
شاہ صاحب نے،
كتب کا معنی مقرر کرنا کیا ہے اور بعض روایات میں كتب کی جگہ قدر کا لفظ بھی اس معنی کا قرینہ ہے اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا،
اس وقت عرش اور پانی پیدا کیے جا چکے تھے اور اس سے مراد پچاس ہزار کی معینہ مدت بھی لی جا سکتی ہے کہ اگر ماہ و سال ہوتے تو اتنا عرصہ بنتا،
کیونکہ ماہ و سال کا آغاز تو آسمان و زمین کی تخلیق کے بعد ہوا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6749]