🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب رفع العلم وقبضه وظهور الجهل والفتن في آخر الزمان:
باب: آخر زمانہ میں علم کی کمی ہونا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2672 ترقیم شاملہ: -- 6788
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبِي ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ وَالْهَرْجُ الْقَتْلُ ".
وکیع اور عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں اعمش نے ابووائل سے حدیث بیان کی، کہا: میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان دونوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے کچھ عرصہ پہلے وہ ایام ہوں گے جن میں علم اٹھ جائے گا، جہل طاری ہو جائے گا اور ان دنوں ہرج کی کثرت ہو جائے گی اور ہرج (سے مراد) لوگوں کا قتل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6788]
ابووائل بیان کرتے ہیں، میں حضرت عبداللہ اور حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، دونوں نے بتایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے کچھ ایسے دن ہیں جن میں علم اٹھا لیا جائے گا اور ان میں جہالت اتر آئے گی اور ان میں قتل بکثرت ہوں گے۔ «هَرَجٌ» قتل کو کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6788]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2672
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسعود ← عبد الله بن قيس الأشعري
صحابي
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود
مخضرم
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ إمام
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عبد الله بن سعيد الكندي
ثقة حافظ
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ إمام
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7063
بين يدي الساعة لأياما ينزل فيها الجهل يرفع فيها العلم يكثر فيها الهرج والهرج القتل
صحيح البخاري
7066
بين يدي الساعة أيام الهرج يزول فيها العلم يظهر فيها الجهل
صحيح مسلم
6788
بين يدي الساعة أياما يرفع فيها العلم ينزل فيها الجهل يكثر فيها الهرج والهرج القتل
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6788 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6788
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
دن بہ دن قتل و غارت اور دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے اور قیامت کے قریب مرد بہت ہی کم رہ جائیں گے،
اس لیے علم کم ہوتے ہوئے تقریبا ختم ہو جائے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6788]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7063
7063. حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک قیامت سے کچھ وقت پہلے جہالت عام ہو جائے گی اور علم اٹھا لیا جائے گا۔ اس زمانے میں ہرج بکثرت ہوگا۔ اور ہرج قتل ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7063]
حدیث حاشیہ:
ان احادیث میں قیامت کی چند ایک نشانیاں بیان کی گئی ہیں جن کی مختصر تشریح حسب ذیل ہے:
۔
تقارب زمان:
لوگوں کے عیش وعشرت میں پڑ جانے کی بنا پر وقت سے برکت اٹھالی جائے گی یہاں تک کہ سال مہینے کی طرح، مہینہ، ہفتے کی طرح، ہفتہ دن کی طرح اور دن ایک گھڑی کی طرح گزرے گا کیونکہ لذت وسرور میں وقت گزرنے کا پتا نہیں چلتا۔
۔
عمل کی کمی:
دنیا پرستی کی وجہ سے لوگوں کا اپنی آخرت سنوارنے کی طرف خیال نہیں ہوگا۔
نیک اعمال کی کمی ہوگی، لوگ بُرے اعمال میں دلچسپی لیں گے، پھر نقص عمل حسی، نقص دین کے باعث ہوگا، پھر وہ نقص عمل معنوی کا سبب بنے گا۔
کھانا پینا اچھا نہ ہوگا اور اچھے اعمال کرنے میں کوئی ان کے موافق نہ ہوگا، یعنی نفس راحت وآرام کی طرف مائل ہوں گے۔
۔
لالچ کی کثرت:
لوگوں کے حالات مختلف ہونے کی بنا پران کے دلوں میں بخل، طمع اور لالچ جیسی بیماریاں جنم لیں گی۔
اصل طمع ولالچ تو ہر وقت موجود رہتا ہے، یہاں اس سے مراد ان کا غلبہ اور کثرت ہے جو دنیا میں فساد اور فتنوں کا باعث ہوگا۔
اس لالچ کی وجہ سے حرام وحلال کی تمیز ختم ہو جائے گی۔
۔
قتل وغارت کی بہتات:
انسانی جان کی کوئی قدر وقیمت نہ ہوگی بلکہ انھیں گاجر مولی کی طرح کاٹا جائے گا۔
قاتل کو پتہ نہیں ہوگا کہ میں نے کیوں قتل کیا اور مقتول کو بھی علم نہ ہوگا کہ مجھے کس جرم کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
آج کل بم دھماکے، خود کش حملے اسی نوعیت کے ہیں۔
۔
جہالت کا دوردورہ:
۔
لوگ دینی مسائل سے لا علم ہوں گے۔
سائنسی علوم کی ترقی کے دور میں دین کے متعلق کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
ہمارا خود مشاہدہ ہے کہ خاوند پندرہ دفعہ طلاق دے کر اپنی بیوی سے صلح کر لیتا ہے اور اسے برادری والے اس پر مجبور کر دیتے ہیں۔
جہالت کی وجہ سے بہنوں، بیٹیوں کے مقدس رشتوں کو اپنی نفسانی خواہش کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔
۔
رفع علم:
اہل علم، ایک ایک کر کے اٹھ جائیں گے۔
اسی طرح ان کے چلے جانے سے علم بھی اٹھا لیا جائے گا۔
لوگ ایسے حالات میں جاہلوں سے مسائل دریافت کریں گے۔
وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔
اس دور میں بھی صحیح اہل علم کے متعلق قحط الرجال ہے۔
۔
فتنوں کا غلبہ:
۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے فتنوں کا غلبہ ثابت کرنے کے لیے یہ احادیث بیان کی ہیں۔
آج کل ہر طرف فتنوں کا غلبہ ہے۔
اقتدار کا فتنہ، دولت کا فتنہ، بے حیائی کا فتنہ، اباحیت پسندی کا فتنہ، روشن خیالی کا فتنہ اور اولاد کا فتنہ۔
بہرحال اس وقت فتنوں کی بہتات ہے۔
کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔
ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے:
(اللهم إني أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ)
اے اللہ! میں فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔
والله المستعان۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7063]

Sahih Muslim Hadith 6788 in Urdu