🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب في الآدعية
باب: دعاؤں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2723 ترقیم شاملہ: -- 6909
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى قَالَ: " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَسُوءِ الْكِبَرِ وَفِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ "، قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ : وَزَادَنِي فِيهِ زُبَيْدٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَفَعَهُ، أَنَّهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ".
زائدہ نے حسن بن عبیداللہ سے، انہوں نے ابراہیم بن سوید سے، انہوں نے عبدالرحمان بن یزید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت (دعا کرتے ہوئے یہ) فرمایا کرتے تھے: «امسینا وامسی الملک للہ والحمد للہ لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ» ہم نے اور سارے ملک نے اللہ کے (حکم و فرمان کی پابندی کے) لیے شام کی۔ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ حسن بن عبیداللہ نے کہا: زبید نے مجھے ابراہیم بن سوید (نخعی) سے، انہوں نے عبدالرحمان بن یزید سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہوئے مزید یہ بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (جب شام کرتے تو) یہ فرماتے: «لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وہو علیٰ کل شیء قدیر» اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، ساری بادشاہت اسی کی ہے، سب تعریف اسی کو سزاوار ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ «اللہم انی اسألک خیر ہٰذہ اللیلة وخیر ما فیہا، واعوذ بک من شر ہٰذہ اللیلة وشر ما فیہا، اللہم انی اعوذ بک من الکسل ومن سوء العمر والہرم وفتنة الدنیا وعذاب القبر» اے اللہ! میں تجھ سے اس رات کی اور اس میں موجود ہر بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے اس رات کے اور اس میں موجود ہر شر سے پناہ کا طلبگار ہوں۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، سستی طاری ہو جانے سے اور عمر (کے حد سے) بڑھ جانے سے اور بڑھاپے کی خرابی سے اور دنیا کے ہر فتنے اور قبر کے عذاب سے۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6909]
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کرتے۔" یہ شام اس حال میں ہو رہی ہے کہ ہم اور ساری کائنات اللہ ہی کے ہیں اور حمدو شکر اللہ ہی کے لیے ہے۔ اس ایک کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک ساجھی نہیں ہے۔ اے اللہ!میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس رات میں جو کچھ ہونے والا اس کی خیر کا اور اس رات کی خیر کا اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں، اس رات میں جو کچھ ہونے والا ہے۔ اس کے شر سے، اے اللہ!میں تیری پناہ میں آتا ہوں،کاہلی سے انتہائی بڑھاپے سے اور بڑی عمر کے برے اثرات سے اور دنیا کے ہر فتنہ سے اور قبر کے عذاب سے۔" حسن بن عبید اللہ بیان کرتے ہیں۔زبید نے ابراہیم سے اس روایت میں یہ اضافہ مجھے سنایا کہ آپ نے فرمایا: "اللہ کے سوا جو یکتا ہے، کوئی بندگی کے لائق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی اقتدارو بادشاہی کا مالک ہے، وہ حمدو ستائش کے سزا وار ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6909]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2723
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يزيد النخعي، أبو بكر
Newعبد الرحمن بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥إبراهيم بن سويد النخعي
Newإبراهيم بن سويد النخعي ← عبد الرحمن بن يزيد النخعي
ثقة
👤←👥زبيد بن الحارث اليامي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newزبيد بن الحارث اليامي ← إبراهيم بن سويد النخعي
ثقة ثبت
👤←👥الحسن بن عبيد الله النخعي، أبو عروة
Newالحسن بن عبيد الله النخعي ← زبيد بن الحارث اليامي
ثقة
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسعود ← الحسن بن عبيد الله النخعي
صحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يزيد النخعي، أبو بكر
Newعبد الرحمن بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥إبراهيم بن سويد النخعي
Newإبراهيم بن سويد النخعي ← عبد الرحمن بن يزيد النخعي
ثقة
👤←👥الحسن بن عبيد الله النخعي، أبو عروة
Newالحسن بن عبيد الله النخعي ← إبراهيم بن سويد النخعي
ثقة
👤←👥زائدة بن قدامة الثقفي، أبو الصلت
Newزائدة بن قدامة الثقفي ← الحسن بن عبيد الله النخعي
ثقة ثبت
👤←👥الحسين بن علي الجعفي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newالحسين بن علي الجعفي ← زائدة بن قدامة الثقفي
ثقة متقن
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← الحسين بن علي الجعفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
6909
أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله لا إله إلا الله وحده لا شريك له اللهم إني أسألك من خير هذه الليلة وخير ما فيها وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم وسوء الكبر وفتنة الدنيا وعذاب القبر
صحيح مسلم
6909
أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير رب أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر ما في هذه الليلة وشر ما بعدها رب أعوذ بك من الكسل وسوء الكبر رب أعوذ بك من عذاب في النار وع
صحيح مسلم
6908
أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم أسألك خير هذه الليلة وأعوذ بك من شر هذه الليلة وشر ما بعدها اللهم إني أعوذ بك من الكسل وسوء الكبر اللهم إني أعوذ بك من عذاب في النار وعذاب في ال
جامع الترمذي
3390
إذا أمسى قال أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله ولا إله إلا الله وحده لا شريك له أراه قال فيها له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر هذه الليلة وشر ما بعدها وأعوذ بك من الكسل وسوء الكبر وأعوذ بك من ع
سنن أبي داود
5071
إذا أمسى أمسينا وأمسى الملك لله لا إله إلا الله وحده لا شريك له
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
6909
أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله لا إله إلا الله وحده لا شريك له اللهم إني أسألك من خير هذه الليلة وخير ما فيها وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم وسوء الكبر وفتنة الدنيا وعذاب القبر
صحيح مسلم
6909
أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير رب أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر ما في هذه الليلة وشر ما بعدها رب أعوذ بك من الكسل وسوء الكبر رب أعوذ بك من عذاب في النار وع
صحيح مسلم
6908
أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم أسألك خير هذه الليلة وأعوذ بك من شر هذه الليلة وشر ما بعدها اللهم إني أعوذ بك من الكسل وسوء الكبر اللهم إني أعوذ بك من عذاب في النار وعذاب في ال
جامع الترمذي
3390
إذا أمسى قال أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله ولا إله إلا الله وحده لا شريك له أراه قال فيها له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر هذه الليلة وشر ما بعدها وأعوذ بك من الكسل وسوء الكبر وأعوذ بك من ع
سنن أبي داود
5071
إذا أمسى أمسينا وأمسى الملك لله لا إله إلا الله وحده لا شريك له
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6909 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6909
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس دعا میں اپنی ذات اور ساری کائنات کے اوپر اللہ کی حاکمیت و مالکیت کا اقرار اور اعتراف ہے اور اس کی حمدو شکر کے ساتھ،
اس کی وحدانیت و یکتائی کا اعلان ہے،
پھر رات یا دن میں جو خیر اور برکتیں ہیں،
ان کی درخواست ہے اور رات یا دن میں جو شروروفساد ہیں،
ان سے پناہ طلب کی گئی ہے اور جو کمزوریاں خیروسعادت سے محرومی کا باعث بنتی ہیں،
ان سے پناہ طلب کی گئی ہے اور آخر میں دنیا کے ہر فتنہ اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگی گئی ہے،
اس طرح اس میں اپنی بندگی اور نیاز مندی کا بھر پور اظہار کیا گیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6909]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5071
صبح کے وقت کیا پڑھے؟
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب شام کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله لا إله إلا الله وحده لا شريك له» ہم نے شام کی، اور ملک نے شام کی جو اللہ تعالیٰ کا ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی اس کا شریک ہے۔ جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: زبید کہتے تھے کہ ابراہیم بن سوید کی روایت میں ہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير رب أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر ما في هذه الليلة وشر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5071]
فوائد ومسائل:

دعا کے الفاظ مرتب طور پر درج زیل ہیں:  «لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَمِنْ سُوءِ الْكِبَرِ، أَوِ الْكُفْرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ، وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ» اور صبح کے وقت دو جملے یوں بدلنے ہوں گے۔
(أصبحنا و أصبح الملك لله) اور آگے (رب أسالك خير ما في هذ اليوم وخير ما بعده واعوذبك من شر ما في هذا اليوم وشر ما بعده)

الكبر با جزم کے ساتھ ہو تو بمعنی غرور ہے۔
اور اگر با پرزبر پڑھی جائے۔
تو معنی ہیں بڑھاپا

ترجمہ۔
ہم نے شام کی اور اللہ کے ملک نے شام کی۔
اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔
وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کا ہے تعریف اسی کی ہے اور وہ ہرچیز کا مل قدرت رکھتا ہے۔
اے میرے رب میں تجھ سے اس خیر کا سوال کرتا ہوں۔
جو اس رات میں ہے۔
اور اس خیر کا بھی جو اس کے بعد ہے۔
اور اس شر سے پناہ چاہتا ہوں۔
جو اس رات میں ہے اور اس شر سے بھی جو اس کے بعد ہے۔
اے میرے رب! میں سستی غرور(یا بڑھاپے) یا کفر کی بُرائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
اے میرے رب! میں دوزخ اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5071]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3390
صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے «أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله ولا إله إلا الله وحده لا شريك له أراه قال فيها له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر هذه الليلة وشر ما بعدها وأعوذ بك من الكسل وسوء الكبر وأعوذ بك من عذاب النار وعذاب القبر» ہم نے شام کی اور ساری بادشاہی نے شام کی اللہ کے حکم سے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ وحدہ لاشریک لہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر ق۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3390]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ہم نے شام کی اور ساری بادشاہی نے شام کی اللہ کے حکم سے،
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں،
اللہ وحدہ لاشریک له کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،
اسی کے لیے بادشاہت ہے اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،
اس رات میں جو خیر ہے،
اس کا میں طالب ہوں،
اور رات کے بعد کی بھی جو بھلائی ہے اس کا بھی میں خواہاں ہوں،
اور اس رات کی برائی اور رات کے بعد کی بھی برائی سے میں پناہ مانگتاہوں،
اور پناہ مانگتا ہوں میں سستی اور کاہلی سے،
اور پناہ مانگتا ہوں بوڑھاپے کی تکلیف سے،
اور پناہ مانگتاہوں آگ کے عذاب سے اور پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3390]

Sahih Muslim Hadith 6909 in Urdu