🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب قوله تعالى: {إن الحسنات يذهبن السيئات}:
باب: اللہ تعالی کا فرمان: ”نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں“۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2765 ترقیم شاملہ: -- 7007
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، وَنَحْنُ قُعُودٌ مَعَهُ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَسَكَتَ عَنْهُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: فَاتَّبَعَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ، وَاتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْظُرُ مَا يَرُدُّ عَلَى الرَّجُلِ، فَلَحِقَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ حِينَ خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ أَلَيْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ، فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوءَ؟ "، قَالَ: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " ثُمَّ شَهِدْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا؟ "، فَقَالَ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ حَدَّكَ أَوَ قَالَ ذَنْبَكَ ".
شداد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور ہم بھی آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا تو کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے حد (کے قابل گناہ) کا ارتکاب کر دیا ہے، لہٰذا آپ مجھ پر حد قائم کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، اس نے دوبارہ کہا: اللہ کے رسول! میں حد کا مستحق ہو گیا ہوں، آپ مجھ پر حد قائم کیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، اس نے تیسری بار (یہی) کہا تو (اس وقت) نماز کی اقامت کہہ دی گئی۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے (فارغ ہو کر) واپس ہوئے تو وہ شخص آپ کے پیچھے چل پڑا، میں (بھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا کہ دیکھوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کیا جواب دیتے ہیں۔ وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملا اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے حد (کے قابل گناہ) کا ارتکاب کیا ہے، آپ مجھ پر حد قائم فرمائیں۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ذرا دیکھو: جب تم اپنے گھر سے نکلے تھے تو تم نے وضو کیا تھا اور اچھی طرح وضو کیا تھا؟ اس نے عرض کی: ہاں، اللہ کے رسول! (اچھی طرح وضو کیا تھا۔) فرمایا: اس کے بعد تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی؟ اس نے عرض کی: جی ہاں، اللہ کے رسول! (حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: تو یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہاری حد۔۔ یا فرمایا۔۔ تمہارے گناہ کو معاف کر دیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 7007]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فر تھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اس دوران اچانک ایک آدمی آیا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں قابل حد گناہ کا مرتکب ہوا ہوں، لہٰذا آپ مجھ پر حد قائم فرمائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب دینے سے خاموشی اختیار کی، اس نے اپنی بات کا پھر اعادہ کیا اور کہا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں پہنچ گیا ہوں، اس لیے آپ مجھ پر حد قائم کریں، آپ نے اس کو جواب دینے سے سکوت اختیار کیا اور نماز کھڑی ہو گئی چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کو لوٹے تو اس آدمی نے آپ کا پیچھا کیا اور میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا تاکہ دیکھوں، آپ اس آدمی کو کیا جواب دیتے ہیں، وہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملا اور کہا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حد کو پہنچ چکا ہوں،آپ مجھے حد لگائیں،ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا:" بتاؤ جب تم گھر سے نکلے تو کیا تونے وضو اچھی طرح نہیں کیا تھا، جب وضو کیا تھا؟"اس نے کہا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے فرمایا:"پھر تو نماز میں ہمارے ساتھ شریک ہوا؟" تو اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا:" تو اللہ نے تمھیں،تمھاری حد یا گناہ بخش دیا۔" [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 7007]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2765
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامةصحابي
👤←👥شداد بن عبد الله القرشي، أبو عمار
Newشداد بن عبد الله القرشي ← صدي بن عجلان الباهلي
ثقة
👤←👥عكرمة بن عمار العجلي، أبو عمار
Newعكرمة بن عمار العجلي ← شداد بن عبد الله القرشي
صدوق يغلط
👤←👥عمر بن يونس الحنفي، أبو حفص
Newعمر بن يونس الحنفي ← عكرمة بن عمار العجلي
ثقة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← عمر بن يونس الحنفي
ثقة ثبت
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو
Newنصر بن علي الأزدي ← زهير بن حرب الحرشي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
7007
أليس قد توضأت فأحسنت الوضوء قال بلى يا رسول الله قال ثم شهدت الصلاة معنا فقال نعم يا رسول الله قال فقال له رسول الله فإن الله قد غفر لك
سنن أبي داود
4381
توضأت حين أقبلت قال نعم قال هل صليت معنا حين صلينا قال نعم قال اذهب فإن الله قد عفا عنك
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7007 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7007
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
روایات سے مجموعی طور پر یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہاں سے حد سے مراد گناہ ہی ہے،
جس کو اس نے اپنی ایمانی پختگی کی وجہ سے بڑا خیال کیا اور آپ نے فرمایا،
"وضو اور نماز میں،
ایک مسلمان جو اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہے،
وضو کے بعد اللهم اغفرلی کہتا ہے تو یہی دعا اس کے لیے بخشش کا باعث بن جاتی ہے،
کیونکہ یہ دعائیں اگر شعور و احساس کے ساتھ،
معنی پر نظر رکھتے ہوئے پڑھی جائیں تو یہ توبہ پر مشتمل ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7007]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4381
آدمی یہ اعتراف کرے کہ وہ حد کا مستحق ہے لیکن جرم نہ بتائے اس کے حکم کا بیان۔
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حد کا مرتکب ہو گیا ہوں تو آپ مجھ پر حد جاری کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جس وقت تم آئے تو وضو کیا؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس وقت ہم نے نماز پڑھی تم کیا تو نے بھی نماز پڑھی؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اللہ نے تمہیں معاف کر دیا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4381]
فوائد ومسائل:
1) جرم کی صراحت کے بغیر کسی حد کا اقرار کرنے سے کوئی حدلاگو نہیں ہوسکتی۔

2) جب کسی کے دل میں ایمان جاگزیں ہوجاتا ہے اور اسے اپنی آخرت کی فکر ہوتی ہے تو وہ ہر طرح کی کوشش کرتا ہے کہ اس دنیا سے پاک صاف ہوکراللہ کے حضور پیش ہو۔

3) وضو نماز باجماعت اور ہرطرح کے اعمال صالحہ انسان کی چھوٹی موٹی تفصیرات کا کفارہ بنتے رہتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4381]