🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب صفات المنافقين واحكامهم
باب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2781 ترقیم شاملہ: -- 7040
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ، وَكَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّى لَحِقَ بِأَهْلِ الْكِتَابِ، قَالَ: فَرَفَعُوهُ، قَالُوا: هَذَا قَدْ كَانَ يَكْتُبُ لِمُحَمَّدٍ، فَأُعْجِبُوا بِهِ فَمَا لَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللَّهُ عُنُقَهُ فِيهِمْ، فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا، ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا، ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا فَتَرَكُوهُ مَنْبُوذًا ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: ہم بنو نجار میں سے ایک شخص تھا، اس نے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھی (یاد کی) ہوئی تھی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتابت کیا کرتا تھا، وہ بھاگ کر چلا گیا اور اہل کتاب کے ساتھ شامل ہو گیا، انہوں نے اس کو بہت اونچا اٹھایا اور کہا: یہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتابت کرتا تھا وہ اس کے آنے سے بہت خوش ہوئے، تھوڑے ہی دن گزرے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بیچ میں (ہوتے ہوئے) اس کی گردن توڑ دی۔ انہوں نے اس کے لیے قبر کھودی اور اسے دفن کر دیا۔ صبح ہوئی تو زمین نے اسے اپنی سطح کے اوپر پھینک دیا تھا۔ انہوں نے دوبارہ وہی کیا، اس کی قبر کھودی اور اسے دفن کر دیا۔ پھر صبح ہوئی تو زمین نے اسے باہر پھینک دیا تھا، انہوں نے پھر (تیسری بار) اسی طرح کیا، اس کے لیے قبر کھودی اور اسے دفن کر دیا، صبح کو زمین نے اسے باہر پھینک دیا ہوا تھا تو انہوں نے اسے اسی طرح پھینکا ہوا چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7040]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم بنو نجار میں سے ایک آدمی تھا جو سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران پڑھ چکا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لکھا کرتا تھا، وہ بھاگ گیا، حتیٰ کہ اہل کتاب سے جا ملا اور انہوں نے اسے بلند مقام دیا۔ کہنے لگے یہ محمد کے لیے لکھا کرتا تھا، چنانچہ وہ اس پر فریفتہ ہو گئے، تھوڑے عرصہ کے بعد اللہ نے ان میں اس کی گردن توڑ دی (اسے ہلاک کر دیا) تو انہوں نے اس کے لیے گڑھا کھود کر اسے چھپا دیا (دفن کر دیا) سو زمین نے اسے اپنی سطح پر باہر پھینک دیا (اسے قبول نہ کیا)، پھر انہوں نے اس کے لیے دوبارہ گڑھا کھودا اور اسے دفن کر دیا۔ زمین نے پھر اسے اپنے اوپر باہر پھینک دیا، چنانچہ انہوں نے اسے باہر پھینکا ہوا ہی چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7040]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2781
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥سليمان بن المغيرة القيسي، أبو سعيد
Newسليمان بن المغيرة القيسي ← ثابت بن أسلم البناني
ثقة ثقة
👤←👥هاشم بن القاسم الليثي، أبو النضر
Newهاشم بن القاسم الليثي ← سليمان بن المغيرة القيسي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله
Newمحمد بن رافع القشيري ← هاشم بن القاسم الليثي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3617
يكتب للنبي فعاد نصرانيا فكان يقول ما يدري محمد إلا ما كتبت له
صحيح مسلم
7040
يكتب لرسول الله فانطلق هاربا حتى لحق بأهل الكتاب قال فرفعوه قالوا هذا قد كان يكتب لمحمد فأعجبوا به فما لبث أن قصم الله عنقه فيهم فحفروا له فواروه فأصبحت الأرض قد نبذته على وجهها ثم عادوا فحفروا له فواروه فأصبحت الأرض قد نبذته على وجهها
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7040 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7040
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اہل کتاب نے ارتداداختیار کرنے والے منافق کو بہت عزت و احترام دیا،
لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا ہی میں سامان عبرت بنادیا،
اس کو عبرتناک موت سے دوچارکیا،
پھر اسے زمین نے قبول کرنے سےانکار کردیا،
تین دفعہ گہرا گڑھا کھود کر دفن کیا،
کیونکہ وہ سمجھتے تھے،
مسلمان اس کو باہر پھینکتے ہیں،
آخرانہیں احساس ہوگیا،
یہ تو اللہ کی طرف سے سزاہے،
پھر اسے باہر ہی پڑارہنے دیا اور وہ لوگوں کے لیے عبرت بنا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7040]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3617
3617. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ایک نصرانی (عیسائی)شخص نے مسلمان ہو کر سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھ لی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی کی کتابت کرنے لگا۔ اس کے بعد وہ پھر نصرانی ہو گیا اور کہنے لگا: محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )تو صرف وہ کچھ جانتے ہیں جو میں نے ان کے لیے لکھ دیا ہے، چنا نچہ اللہ نے اسے موت دے دی تو لوگوں نے اسے دفن کردیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ زمین نے اس کی لاش باہر پھینک دی ہے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )اور اس کے ساتھیوں کاکام ہے کیونکہ یہ ان کے پاس سے بھاگ آیا تھا، اس لیے ہمارے ساتھی کی قبر انھوں نے کھود ڈالی ہے۔ پھر انھوں نےاسے قبر میں رکھ کر بہت گہرائی میں دفن کردیا مگر صبح کو زمین نے اس کی لاش پھر باہر پھینک دی۔ اس پر لوگوں نے یہی کہا کہ یہ تو محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )اور اس کے ساتھیوں کا فعل ہے۔ انھوں نے ہمارے ساتھی کی قبر اکھاڑی ہے کیونکہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3617]
حدیث حاشیہ:
یہ اس کے ارتداد کی سزا تھی اور توہین رسالت کی کہ زمین نے اس کے بدترین لاشہ کو بحکم خدا باہر پھینک دیا۔
آج بھی گستاخان رسول کو ایسی ہی سزائیں ملتی رہتی ہیں۔
لوکانوا یعلمون۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3617]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3617
3617. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ایک نصرانی (عیسائی)شخص نے مسلمان ہو کر سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھ لی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی کی کتابت کرنے لگا۔ اس کے بعد وہ پھر نصرانی ہو گیا اور کہنے لگا: محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )تو صرف وہ کچھ جانتے ہیں جو میں نے ان کے لیے لکھ دیا ہے، چنا نچہ اللہ نے اسے موت دے دی تو لوگوں نے اسے دفن کردیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ زمین نے اس کی لاش باہر پھینک دی ہے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )اور اس کے ساتھیوں کاکام ہے کیونکہ یہ ان کے پاس سے بھاگ آیا تھا، اس لیے ہمارے ساتھی کی قبر انھوں نے کھود ڈالی ہے۔ پھر انھوں نےاسے قبر میں رکھ کر بہت گہرائی میں دفن کردیا مگر صبح کو زمین نے اس کی لاش پھر باہر پھینک دی۔ اس پر لوگوں نے یہی کہا کہ یہ تو محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )اور اس کے ساتھیوں کا فعل ہے۔ انھوں نے ہمارے ساتھی کی قبر اکھاڑی ہے کیونکہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3617]
حدیث حاشیہ:

یہ اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی تھی جو اس نے نصرانی کے مرتد ہونے پر لوگوں کو دکھائی کہ زمین نے اسے بار بار باہر پھینکا تاکہ دیکھنے والے عبرت حاصل کریں کہ مرتد کا یہ حال ہوتا ہے کہ اسے زمین بھی اپنے اندر جگہ نہیں دیتی۔

یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور آپ کی نبوت کی دلیل ہے۔
آج بھی گستاخان رسول کو ایسی سزائیں ملتی رہتی ہیں۔
ایک روایت کے مطابق حضرت انس ؓ فرماتے ہیں۔
وہ ہمارے بنو نجار قبیلے سے تھا۔
جب وہ مرتد ہوا۔
تو لوگوں نے اس بات کو بہت اچھالا کہ یہ تو کاتب وحی تھا بالآخر اپنے حواریوں میں رہتے ہوئے اچانک گردن ٹوٹنے سے اس کی موت واقع ہوئی تو اس کے ساتھ مذکورہ واقعہ پیش آیا کہ اسے زمین نے قبول نہ کیا۔
(صحیح مسلم، صفات المنافقین، حدیث: 7040(2781)

بعض شارحین نے صحیح مسلم کے حوالے سے اس مرتد کا نام عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح لکھا ہے لیکن صحیح مسلم میں مجھے اس کی صراحت نہیں مل سکی۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3617]

Sahih Muslim Hadith 7040 in Urdu