صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب وجوب الغسل على المراة بخروج المني منها:
باب: عورت سے منی نکلے پر غسل واجب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 310 ترقیم شاملہ: -- 709
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: قَالَ إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: " جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَهِيَ جَدَّةُ إِسْحَاق إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَهُ وعَائِشَةُ عِنْدَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْمَرْأَةُ تَرَى مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي الْمَنَامِ، فَتَرَى مِنْ نَفْسِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ مِنْ نَفْسِهِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، فَضَحْتِ النِّسَاءَ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَقَالَ لِعَائِشَةَ: بَلْ أَنْتِ، فَتَرِبَتْ يَمِينُكِ، نَعَم، فَلْتَغْتَسِلْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِذَا رَأَتْ ذَاكِ.
اسحاق بن ابی طلحہ نے کہا کہ مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا جو (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ اور) اسحاق کی دادی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے کہنے لگیں جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی آپ کے پاس موجود تھیں، اے اللہ کے رسول! عورت بھی نیند کے عالم میں اسی طرح خواب دیکھتی ہے جس طرح مرد دیکھتا ہے، وہ اپنے آپ سے وہی چیز (نکلتی ہوئی) دیکھتی ہے جو مرد اپنے حوالے سے دیکھتا ہے (تو وہ کیا کرے؟) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ام سلیم! تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو (ان کا یہ کہنا کہ تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو، بری نہیں بلکہ اچھی بات تھی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”بلکہ تمہارا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو۔ ہاں ام سلیم! جب وہ یہ دیکھے تو غسل کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 709]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا (جو اسحاق کی دادی ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! عورت نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد اپنے بارے میں دیکھتا ہے (تو وہ کیا کرے) تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ام سلیم! تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تیرا ہاتھ خاک آلود ہو، ہاں اے ام سلیم! جب وہ یہ منظر دیکھے تو غسل کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 709]
ترقیم فوادعبدالباقی: 310
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
195
| إذا أنزلت الماء فلتغتسل |
صحيح مسلم |
711
| إذا كان منها ما يكون من الرجل فلتغتسل |
صحيح مسلم |
709
| المرأة ترى ما يرى الرجل في المنام فترى من نفسها ما يرى الرجل من نفسه فقالت عائشة يا أم سليم فضحت النساء تربت يمينك فقال لعائشة بل أنت فتربت يمينك نعم فلتغتسل يا أم سليم إذا رأت ذاك |
صحيح مسلم |
710
| إذا رأت ذلك المرأة فلتغتسل فقالت أم سليم واستحييت من ذلك قالت وهل يكون هذا فقال نبي الله نعم فمن أين يكون الشبه إن ماء الرجل غليظ أبيض وماء المرأة رقيق أصفر فمن أيهما علا أو سبق يكون منه الشبه |
سنن ابن ماجه |
601
| المرأة ترى في منامها ما يرى الرجل فقال رسول الله إذا رأت ذلك فأنزلت فعليها الغسل فقالت أم سلمة يا رسول الله أيكون هذا قال نعم ماء الرجل غليظ أبيض وماء المرأة رقيق أصفر فأيهما سبق أو علا أشبهه |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 709 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 709
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
فَضِحْتِ النِّسَاء:
(تو نے ایسی بات کر کے جس کے اظہار میں شرم محسوس کی جاتی ہے)
انہیں رسوا کر دیا ہے،
کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے،
ان کے اندر،
مرد کے پاس جانے کی شدید خواہش ہے۔
(2)
تَرِبَتْ يَمِيْنُكِ:
عربی محاورہ کی رو سے یہ کلمہ ایسے وقت بولتے ہیں جب کسی کی بات پسند نہ ہو،
یا اس پر ناراض اور ناگواری کا اظہار کرنا مقصود ہو یا اس بات کا انکار اور اس پر زجروتوبیخ کرنی ہو یا حیرت وتعجب کا اظہار مقصود ہو،
لفظی معنی یا بددعا مقصود نہیں ہوتی،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے انہیں الفاظ کو استعمال فرمایا،
کہ تیری بات قابل انکار ہے،
اس نے تو ایک ایسا دینی مسئلہ پوچھا ہے،
جو پوچھنا ہی چاہیے تھا۔
فوائد ومسائل:
جس طرح احتلام کی صورت میں مرد کے لیے غسل لازم ہے اگر کبھی عورت کو احتلام ہو جائے تو اسے بھی نہانا پڑے گا محض مخصوص جگہ کے دھونے اور وضو کرنے پر کفایت نہیں کر سکے گی۔
مفردات الحدیث:
(1)
فَضِحْتِ النِّسَاء:
(تو نے ایسی بات کر کے جس کے اظہار میں شرم محسوس کی جاتی ہے)
انہیں رسوا کر دیا ہے،
کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے،
ان کے اندر،
مرد کے پاس جانے کی شدید خواہش ہے۔
(2)
تَرِبَتْ يَمِيْنُكِ:
عربی محاورہ کی رو سے یہ کلمہ ایسے وقت بولتے ہیں جب کسی کی بات پسند نہ ہو،
یا اس پر ناراض اور ناگواری کا اظہار کرنا مقصود ہو یا اس بات کا انکار اور اس پر زجروتوبیخ کرنی ہو یا حیرت وتعجب کا اظہار مقصود ہو،
لفظی معنی یا بددعا مقصود نہیں ہوتی،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے انہیں الفاظ کو استعمال فرمایا،
کہ تیری بات قابل انکار ہے،
اس نے تو ایک ایسا دینی مسئلہ پوچھا ہے،
جو پوچھنا ہی چاہیے تھا۔
فوائد ومسائل:
جس طرح احتلام کی صورت میں مرد کے لیے غسل لازم ہے اگر کبھی عورت کو احتلام ہو جائے تو اسے بھی نہانا پڑے گا محض مخصوص جگہ کے دھونے اور وضو کرنے پر کفایت نہیں کر سکے گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 709]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 195
احتلام ہونے پر عورت کے غسل کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق دریافت کیا جو اپنے خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ انزال کرے تو غسل کرے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 195]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق دریافت کیا جو اپنے خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ انزال کرے تو غسل کرے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 195]
195۔ اردو حاشیہ: خواب مرد اور عورت دونوں کو آ سکتا ہے۔ خواب میں جماع والا عمل بھی نظر آ سکتا ہے مگر غسل تب واجب ہوتا ہے جب منی نکلے، خواہ مرد ہو یا عورت۔ اگر منی نہ نکلے تو، خواہ خواب میں اس نے مکمل جماع بھی کیا ہو، غسل واجب نہ ہو گا۔ اور اگر خواب کے بغیر بلاشہوت سوتے میں منی نکل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے، مرد ہو یا عورت۔ گویا احتلام میں غسل کا سبب منی کا نکلنا ہی ہے، چاہے منی مرد کی نکلے یا عورت کی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 195]
إسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري