صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب تحريش الشيطان وبعثه سراياه لفتنة الناس وان مع كل إنسان قرينا:
باب: شیطان کا فساد مسلمانوں میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2815 ترقیم شاملہ: -- 7110
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا، قَالَتْ: فَغِرْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ، فَرَأَى مَا أَصْنَعُ، فَقَالَ: " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ؟ "، فَقُلْتُ: وَمَا لِي لَا يَغَارُ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ؟ "، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْ مَعِيَ شَيْطَانٌ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " نَعَمْ، وَلَكِنْ رَبِّي أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ ".
عروہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے پاس سے اٹھ کر باہر نکل گئے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: مجھے آپ کے معاملے میں شدید غیرت محسوس ہوئی، پھر آپ واپس آئے اور دیکھا کہ میں کیا کر رہی ہوں (شدید غصے کے عالم میں ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تمھیں کیا ہوا ہے، کیا تم غیرت میں مبتلا ہو گئی ہو؟“ میں نے کہا: مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ جیسی عورت کو (جو ایک عظیم خاتون ہو) آپ جیسے مرد پر (جو ایک سے بڑھ کر محبوب ہو) غیرت نہ آئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمھارے پاس تمھارا شیطان آیا تھا (اور اس نے تمھیں شک میں مبتلا کیا)؟“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے ساتھ شیطان بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“۔ میں نے کہا: ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں لیکن میرے رب نے اس پر (قابوپانے میں) میری مدد فرمائی اور وہ اسلام لے آیا ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7110]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے ہاں سے نکلے تو مجھے اس پر غیرت آگئی (کیونکہ میں نے سمجھا آپ کسی دوسری بیوی کے ہاں تشریف لے گئے ہیں) آپ آئے تو آپ نے دیکھا میں کس طرح پیچ و تاب کھا رہی ہوں، چنانچہ آپ نے فرمایا: ”تمھیں کیا ہو گیا ہے؟ اے عائشہ رضی اللہ عنہا! کیا تم غیرت کھا گئی ہو؟“ سو میں نے کہا، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میرے جیسی آپ جیسے کے بارے میں ایسی غیرت نہ کھائے، میری جیسی آپ پر غیرت کیوں نہیں کھائے گی؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمھارے پاس تمھارا شیطان آ چکا ہے؟“ میں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میرے ساتھ شیطان ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے کہا اور ہر انسان کے ساتھ؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے کہا اور آپ کے ساتھ بھی؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن میرے رب نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی ہے، حتی کہ میں محفوظ ہو گیا ہوں، یا وہ فرمانبردار مسلمان ہو گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7110]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2815
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 7110 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق