صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب نزول الفتن كمواقع القطر:
باب: فتنوں کا بارش کے قطروں کی طرح نازل ہونے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2886 ترقیم شاملہ: -- 7247
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ َعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ: أَخْبَرَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أن أبا هريرة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفُهُ، وَمَنْ وَجَدَ فِيهَا مَلْجَأً فَلْيَعُذْ بِهِ "،
ابن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب فتنے ہوں گے، ان میں بیٹھا رہنے والا کھڑے رہنے والے سے بہتر ہو گا اور ان میں کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، جو ان کی طرف جھانکے گا بھی وہ اسے اوندھا کر دیں گے اور جس کو ان (کے دوران) میں کوئی پناہ گاہ مل جائے وہ اس کی پناہ حاصل کر لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7247]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جلد ہی فتنوں کا آغاز ہوگا۔ بیٹھنے والا ان میں کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور ان میں کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا، جو بھی ان کو دیکھنے کی کوشش کرے گا وہ اس کو اپنی طرف کھینچ لیں گے، جس شخص کو ان سے پناہ مل سکے وہ اس پناہ کو حاصل کر لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7247]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2886
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7247 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7247
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو فتنوں سے دور رہنا چاہیے،
ان کو دیکھنا یا ان کا جائزہ لینا بھی تباہی و ہلاکت میں گرفتار ہونے کا باعث بن سکتا ہے،
انسان ان سے جس قدر زیادہ دور رہے گا اور ان سے بچنے کی کوشش کرے گا،
اتنا ہی اس کے حق میں بہتر ہوگا اور جتنا ان کے قریب ہوتا جائے گا،
اتنا ہی زیادہ نقصان اٹھائے گا۔
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو فتنوں سے دور رہنا چاہیے،
ان کو دیکھنا یا ان کا جائزہ لینا بھی تباہی و ہلاکت میں گرفتار ہونے کا باعث بن سکتا ہے،
انسان ان سے جس قدر زیادہ دور رہے گا اور ان سے بچنے کی کوشش کرے گا،
اتنا ہی اس کے حق میں بہتر ہوگا اور جتنا ان کے قریب ہوتا جائے گا،
اتنا ہی زیادہ نقصان اٹھائے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7247]
Sahih Muslim Hadith 7247 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي