🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب إخبار النبي صلى الله عليه وسلم فيما يكون إلى قيام الساعة:
باب: قیام قیامت تک پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خبر دینے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2891 ترقیم شاملہ: -- 7262
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ كَانَ، يَقُولُ: قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِكُلِّ فِتْنَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ السَّاعَةِ، وَمَا بِي إِلَّا أَنْ يَكُونَ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَرَّ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يُحَدِّثْهُ غَيْرِي، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِ عَنِ الْفِتَنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَعُدُّ الْفِتَنَ: " مِنْهُنَّ ثَلَاثٌ لَا يَكَدْنَ يَذَرْنَ شَيْئًا، وَمِنْهُنَّ فِتَنٌ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ مِنْهَا صِغَارٌ، وَمِنْهَا كِبَارٌ "، قَالَ حُذَيْفَةُ: فَذَهَبَ أُولَئِكَ الرَّهْطُ كُلُّهُمْ غَيْرِي.
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہ ابوادریس خولانی کہا کرتے تھے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: اللہ کی قسم! میں اب سے لے کر قیامت تک وقوع پذیر ہونے والے تمام فتنوں کے بارے میں باقی سب لوگوں کی نسبت زیادہ جانتا ہوں۔ اور (انھیں بیان کرنے میں) میرے لیے اس کے سوا اور کوئی (مانع) نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کوئی چیز راز کے طور پر مجھے بتائی تھی جو آپ نے میرے علاوہ کسی اور کو نہیں بتائی تھی۔ (ایسی باتیں میں کبھی بیان نہیں کروں گا) البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں جہاں میں موجود تھا فتنوں کو شمار کر رہے تھے: ان میں سے تین (فتنے) ایسے ہیں جو تقریباً کسی چیز کو باقی نہیں چھوڑیں گے اور ان میں سے کچھ فتنے ایسے ہیں جو موسم گرما کی آندھیوں کی طرح ہیں ان میں کچھ چھوٹے ہیں اور کچھ بڑے ہیں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے سوا وہ سب لوگ (جو اس مجلس میں موجود تھے) رخصت ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7262]
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم میں سب لوگوں سے زیادہ ہر اس فتنہ سے آگاہ ہوں، جو میرے اور قیامت کے درمیان واقع ہونے والا ہے اور یہ حالت صرف اس بنا پر ہے میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں کچھ راز کی باتیں صرف مجھے بتائیں میرے سوا کسی اور کو وہ باتیں نہیں بتائیں لیکن کچھ باتیں ایسی ہیں کہ اپ نے ایک مجلس میں فتنوں کے بارے میں فرمائیں اور میں بھی اس مجلس میں موجود تھا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کا شمار کرتے ہوئے فرمایا:"ان میں سے تین فتنے ایسے ہیں جو تقریباً کسی چیز کو نہیں چھوڑیں گے اور ان سے کچھ فتنے گرمیوں کی آندھیوں کی طرح ہیں(جو انتہائی تکلیف دہ ہوں گے جس طرح گرمی کی آندھی جھلس کر رکھ دیتی ہے) ان میں سے کچھ چھوٹے ہوں گے اور کچھ بڑے۔"حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میرے سو اس مجلس کے تمام حاضرین فوت ہو چکے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7262]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2891
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥أبو إدريس الخولاني، أبو إدريس
Newأبو إدريس الخولاني ← حذيفة بن اليمان العبسي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أبو إدريس الخولاني
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7262 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7262
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے فتنوں سے زیادہ آگاہ ہونے کے دو جہیں ہیں،
(1)
کچھ راز کی کی باتیں تو ایسی تھیں کے آپ نے ان سے صرف حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو آگاہ فرمایا تھا۔
(2)
کچھ فتنوں سے آپ نے دوسرں کو بھی آگاہ فرمایا تھا،
لیکن کچھ لوگوں نے یاد رکھا اور کچھ نے بھلا دیا،
پھر آہستہ آہستہ وہ سب فوت ہوگئے اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ہی باقی رہ گئے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7262]