🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب مَا يَكُونُ مِنْ فُتُوحَاتِ الْمُسْلِمِينَ قَبْلَ الدَّجَّالِ:
باب: خروج دجال سے پہلے مسلمانوں کی فتوحات ہونے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2900 ترقیم شاملہ: -- 7284
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، قَالَ: فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الصُّوفِ، فَوَافَقُوهُ عِنْدَ أَكَمَةٍ، فَإِنَّهُمْ لَقِيَامٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ، قَالَ: فَقَالَتْ لِي نَفْسِي: ائْتِهِمْ فَقُمْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ لَا يَغْتَالُونَهُ، قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ: لَعَلَّهُ نَجِيٌّ مَعَهُمْ فَأَتَيْتُهُمْ، فَقُمْتُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، قَالَ: فَحَفِظْتُ مِنْهُ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ أَعُدُّهُنَّ فِي يَدِي، قَالَ: " تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ، فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ فَارِسَ، فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ "، قَالَ: فَقَالَ نَافِعٌ: يَا جَابِرُ لَا نَرَى الدَّجَّالَ يَخْرُجُ حَتَّى تُفْتَحَ الرُّومُ.
عبدالملک بن عمیر نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم ایک جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ مغرب کی طرف سے آئے، جو اون کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ٹیلے کے پاس آ کر ملے، وہ لوگ کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ میرے دل نے کہا کہ تو چل اور ان لوگوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں جا کر کھڑا ہو، ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ فریب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مار ڈالیں۔ پھر میرے دل نے کہا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپکے سے کچھ باتیں ان سے کرتے ہوں (اور میرا جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرے)۔ پھر میں گیا اور ان لوگوں کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں کھڑا ہو گیا۔ پس میں نے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چار باتیں یاد کیں، جن کو میں اپنے ہاتھ پر گنتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پہلے تو عرب کے جزیرہ میں (کافروں سے) جہاد کرو گے، اللہ تعالیٰ اس کو فتح کر دے گا۔ پھر فارس (ایران) سے جہاد کرو گے، اللہ تعالیٰ اس پر بھی فتح کر دے گا، پھر نصاریٰ سے لڑو گے روم والوں سے، اللہ تعالیٰ روم کو بھی فتح کر دے گا۔ پھر دجال سے لڑو گے اور اللہ تعالیٰ اس کو بھی فتح کر دے گا (یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا معجزہ ہے)۔ نافع نے کہا کہ اے جابر بن سمرہ! ہم سمجھتے ہیں کہ دجال روم فتح ہونے کے بعد ہی نکلے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7284]
حضرت نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مغرب کی طرف سے ایک قوم آئی جن کے کپڑے اونی تھے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ٹیلے کے پاس پایا۔ چنانچہ وہ کھڑے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، میرے جی میں آیا کہ ان کے پاس جا کر ان کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کھڑا ہو جاؤں کہ وہ دھوکے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ نہ کر دیں، پھر میں نے سوچا شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے سرگوشی فرما رہے ہوں (راز کی بات کر رہے ہوں)، چنانچہ میں ان کے پاس آ کر ان کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کھڑا ہو گیا، سو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چار بول یاد کیے جنہیں میں انگلیوں پر گن رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جزیرہ العرب میں جہاد کرو گے اور اللہ تمہیں اس پر فتح عنایت کرے گا، پھر فارس سے جہاد کرو گے، سو اللہ اس پر فتح دے گا، پھر روم کا رخ کرو گے تو اللہ اس پر فتح دے گا، دجال سے جنگ کر کے سو اللہ اس پر فتح عطا فرمائے گا۔ حضرت نافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اے جابر رضی اللہ عنہ! روم کی فتح سے پہلے ہمارے خیال میں دجال نہیں نکلے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7284]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2900
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نافع بن عتبة الزهريصحابي
👤←👥جابر بن سمرة العامري، أبو خالد، أبو عبد الله
Newجابر بن سمرة العامري ← نافع بن عتبة الزهري
صحابي
👤←👥عبد الملك بن عمير اللخمي، أبو عمرو، أبو عمر
Newعبد الملك بن عمير اللخمي ← جابر بن سمرة العامري
صدوق حسن الحديث
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← عبد الملك بن عمير اللخمي
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
7284
تغزون جزيرة العرب فيفتحها الله فارس فيفتحها الله تغزون الروم فيفتحها الله تغزون الدجال فيفتحه الله
سنن ابن ماجه
4091
ستقاتلون جزيرة العرب فيفتحها الله تقاتلون الروم فيفتحها الله تقاتلون الدجال فيفتحها الله
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7284 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7284
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
لايغتالونه:
وہ بے خبری میں،
اچانک،
دھوکہ سے آپ کو قتل کرنے کی کوشش نہ کریں،
(2)
لعله نجي معهم:
شاید آپ ان سےرازدارانہ بات کررہے ہوں،
لیکن پھروہ خطرہ کے پیش نظر درمیان میں آکھڑے ہوئے کہ اگر راز کی بات ہوگی تو آپ مجھے وہاں سے ہٹا دیں گے۔
فوائد ومسائل:
قتل دجال کے سوا،
باقی پشین گوئیاں پوری ہوچکی ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7284]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4091
اہم حادثات اور فتنوں کا بیان۔
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نافع بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عنقریب جزیرہ عرب والوں سے جنگ کرو گے، اللہ تعالیٰ اس پر فتح دے گا، پھر تم رومیوں سے جنگ کرو گے، ان پر بھی اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا، پھر تم دجال سے جنگ کرو گے، اللہ تعالیٰ اس پر فتح دے گا۔‏‏‏‏ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تک روم فتح نہ ہو گا، دجال کا ظہور نہ ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4091]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جزیرہ عرب (موجودہ سعودی عرب، یمن، حضر موت، قطر، کویت اور کچھ عراق)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں فتح ہوگیا تھا۔
خلاافت راشدہ کے دور میں روم اور ایران سے جنگیں ہوئیں۔
اس وقت روم عیسائیوں کا اہم علاقہ ہے۔
یورپ کا سارا علاقہ تہذیبی طور پر اس کے تابع ہے تاہم اب مسلمانوں کے علاقے آزادی کی کوشش کر رہے ہیں۔

(3)
اس حدیث میں یورپ پر اسلام کے غلبہ کی پیشن گوئی ہے۔
اس کے بعد دجال ظاہر ہوگا۔
اس کا فتنہ جب عروج پر ہوگا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونگے۔
تب پوری دنیا میں اسلام غالب آجائے گا۔

(4)
ان واقعات کی پیشگی خبر دینے کا مقصد یہ ہے کہ ان مواقع پر مسلمان حق کا ساتھ دیں اور باطل کے ظاہری غلبے سے مرعوب نہ ہوں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4091]

Sahih Muslim Hadith 7284 in Urdu