صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
20. باب ذكر الدجال :
باب: دجال کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2934 ترقیم شاملہ: -- 7367
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنْهُ مَعَهُ نَهْرَانِ يَجْرِيَانِ، أَحَدُهُمَا رَأْيَ الْعَيْنِ مَاءٌ أَبْيَضُ، وَالْآخَرُ رَأْيَ الْعَيْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ، فَإِمَّا أَدْرَكَنَّ أَحَدٌ فَلْيَأْتِ النَّهْرَ الَّذِي يَرَاهُ نَارًا وَلْيُغَمِّضْ، ثُمَّ لَيُطَأْطِئْ رَأْسَهُ، فَيَشْرَبَ مِنْهُ، فَإِنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ، وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ ".
ابومالک اشجعی نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ دجال کے ساتھ ہو گا اسے میں خود اس کی نسبت بھی زیادہ اچھی طرح جانتا ہوں۔ اس کے ساتھ دو چلتے ہوئے دریا ہوں گے۔ دونوں میں سے ایک بظاہر سفید رنگ کا پانی ہو گا اور دوسرا بظاہر بھڑکتی ہوئی آگ ہو گی۔ اگر کوئی شخص اس کو پالے تو اس دریا کی طرف آئے جسے وہ آگ (کی طرح) دیکھ رہا ہے اور اپنی آنکھ بند کرے۔ پھر اپنا سر جھکائے اور اس میں سے پیے تو وہ ٹھنڈا پانی ہو گا۔ اور دجال بے نور آنکھ والا ہے، اس کے اوپر موٹا ناخونہ (گوشت کا ٹکڑا جو آنکھ میں پیدا ہو جاتا ہے) ہو گا۔ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہو گا: كافر۔ اسے ہر مومن لکھنے (پڑھنے) والا ہو یا نہ لکھنے (پڑھنے) والا پڑھ لے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7367]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں خوب جانتا ہوں کہ دجال کے ساتھ کیا ہو گا (میں اس کی حقیقت اس سے بھی زیادہ جانتا ہوں)، اس کے ساتھ دو بہتی ہوئی نہریں ہوں گی، ان میں سے ایک بظاہر آنکھوں کے دیکھنے میں (بصیرت کی نظر سے نہیں) سفید پانی ہو گا اور دوسری آنکھ کے دیکھنے میں (حقیقت کی نظر سے نہیں) بھڑکتی ہوئی آگ ہو گی، اگر کوئی شخص یہ نظارہ دیکھے تو وہ اس نہر (دریا) میں چھلانگ لگائے جسے وہ آگ دیکھے اور اپنی آنکھیں بند کر لے، پھر اپنا سر جھکا کر اس سے پانی پی لے، کیونکہ وہ ٹھنڈا پانی ہو گا، اور دجال «مَمْسُوحُ الْعَيْنِ» (مٹی ہوئی آنکھ والا) ہو گا، اس کی آنکھ پر گوشت کی گلٹی ہو گی، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان «كَافِرٌ» (کافر) لکھا ہو گا جسے ہر مومن، پڑھا ہوا اور ان پڑھ، پڑھ لے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7367]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2934
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
7367
| الدجال أعور العين اليسرى جفال الشعر معه جنة ونار فناره جنة وجنته نار |
صحيح مسلم |
7368
| الدجال ممسوح العين عليها ظفرة غليظة مكتوب بين عينيه كافر يقرؤه كل |
سنن ابن ماجه |
4071
| الدجال أعور عين اليسرى جفال الشعر معه جنة ونار فناره جنة وجنته نار |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7367 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7367
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
تاحجج یعنی تتاجج،
بڑھکتی ہوئی،
2ليغمض:
آنکھیں بند کرلے،
تاکہ بڑھکتی ہوئی آگ سے خوف زدہ نہ ہو،
(2)
ظفرة غليظة:
گوشت کی گلٹی،
یاآنکھ کو ڈھانپنے والی موٹی کھال (3)
كاتب:
جس کو لکھنا آتا ہو۔
مفردات الحدیث:
(1)
تاحجج یعنی تتاجج،
بڑھکتی ہوئی،
2ليغمض:
آنکھیں بند کرلے،
تاکہ بڑھکتی ہوئی آگ سے خوف زدہ نہ ہو،
(2)
ظفرة غليظة:
گوشت کی گلٹی،
یاآنکھ کو ڈھانپنے والی موٹی کھال (3)
كاتب:
جس کو لکھنا آتا ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7367]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4071
فتنہ دجال، عیسیٰ بن مریم اور یاجوج و ماجوج کے ظہور کا بیان۔
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال بائیں آنکھ کا کانا، اور بہت بالوں والا ہو گا، اس کے ساتھ جنت اور جہنم ہو گی، لیکن اس کی جہنم جنت اور اس کی جنت جہنم ہو گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4071]
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال بائیں آنکھ کا کانا، اور بہت بالوں والا ہو گا، اس کے ساتھ جنت اور جہنم ہو گی، لیکن اس کی جہنم جنت اور اس کی جنت جہنم ہو گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4071]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دجال ایک مافوق الفطرت شخصیت ہے لیکن وہ کوئی افسانوی کردار نہیں بلکہ حقیقت میں موجود ہے۔
یہودی مذہب پر ہے، ایک خاص وقت پر ظاہر ہوگا۔
(2)
جب دجال ظاہر ہوگا تو ایسے شعبدے دکھائے گا جس سے کمزور ایمان والے دھوکا کھاجائیں گےاور اس کے دعوے کو تسلیم کرکے اسے معبود بنالیں گے صحیح عقیدہ انسان اس سے دھوکا نہیں کھائیں گے۔
(3)
اس کی جنت اور جہنم بھی ایک شعبدہ ہوگااس لیے مومن کو اس کی جہنم سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔
اور اس کی جنت کے لالچ میں نہیں آنا چاہیے۔
کیونکہ جنھیں وہ اپنی جہنم میں پھینکے گا وہ اس میں ٹھنڈا پانی دوسری نعمتیں اور راحت پائیں گے اور اس کی جنت میں جانے والے اللہ کی طرف سے سزا کے مستحق ہوں گے۔
فوائد و مسائل:
(1)
دجال ایک مافوق الفطرت شخصیت ہے لیکن وہ کوئی افسانوی کردار نہیں بلکہ حقیقت میں موجود ہے۔
یہودی مذہب پر ہے، ایک خاص وقت پر ظاہر ہوگا۔
(2)
جب دجال ظاہر ہوگا تو ایسے شعبدے دکھائے گا جس سے کمزور ایمان والے دھوکا کھاجائیں گےاور اس کے دعوے کو تسلیم کرکے اسے معبود بنالیں گے صحیح عقیدہ انسان اس سے دھوکا نہیں کھائیں گے۔
(3)
اس کی جنت اور جہنم بھی ایک شعبدہ ہوگااس لیے مومن کو اس کی جہنم سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔
اور اس کی جنت کے لالچ میں نہیں آنا چاہیے۔
کیونکہ جنھیں وہ اپنی جہنم میں پھینکے گا وہ اس میں ٹھنڈا پانی دوسری نعمتیں اور راحت پائیں گے اور اس کی جنت میں جانے والے اللہ کی طرف سے سزا کے مستحق ہوں گے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4071]
Sahih Muslim Hadith 7367 in Urdu
ربعي بن حراش العبسي ← حذيفة بن اليمان العبسي