الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب ما جاء ان الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر
باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2967 ترقیم شاملہ: -- 7437
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ غَزْوَانَ يَقُولُ: " لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا طَعَامُنَا إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ حَتَّى، قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا ".
قرہ بن خالد نے حمید بلال سے اور انہوں نے خالد بن عمیر سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، میں نے دیکھا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایمان لانے والے) سات لوگوں میں سے ساتواں شخص تھا، خاردار درختوں کے پتوں کے سوا ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7437]
خالد بن عمیر بیان کرتے ہیں،میں نے حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا،میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سات ساتھیوں میں ساتواں فرددیکھا،ہمارا کھانا صرف حبلہ درخت کے پتے تھے،حتی کہ ہماری باچھیں چھل گئیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7437]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2967
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
7437
| لقد رأيتني سابع سبعة مع رسول الله ما طعامنا إلا ورق الحبلة حتى قرحت أشداقنا |
سنن ابن ماجه |
4156
| لقد رأيتني سابع سبعة مع رسول الله ما لنا طعام نأكله إلا ورق الشجر حتى قرحت أشداقنا |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7437 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7437
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
حبله:
کانٹوں والادرخت۔
مفردات الحدیث:
حبله:
کانٹوں والادرخت۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7437]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4156
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی معیشت کا بیان۔
خالد بن عمیر کہتے ہیں کہ عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں منبر پر خطبہ سنایا اور کہا: میں نے وہ وقت دیکھا ہے جب میں ان سات آدمیوں میں سے ایک تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کھانے کو کچھ نہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ (اس کے پتے کھانے سے) ہمارے مسوڑھے زخمی ہو جاتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4156]
خالد بن عمیر کہتے ہیں کہ عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں منبر پر خطبہ سنایا اور کہا: میں نے وہ وقت دیکھا ہے جب میں ان سات آدمیوں میں سے ایک تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کھانے کو کچھ نہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ (اس کے پتے کھانے سے) ہمارے مسوڑھے زخمی ہو جاتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4156]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر آنے پر سخت حالات ہمارے لیے صبر و استقامت کا سبق ہیں۔
(2)
منبر پر ایسے حالات بیان کرنے کا مقصد سامعین کو یہ سمجھانا ہے کہ اب جبکہ ہر قسم کی نعمتیں میسر ہیں۔
ان پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
اور ان سے معمولی سی کمی پر شکوہ شروع نہیں کردینا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر آنے پر سخت حالات ہمارے لیے صبر و استقامت کا سبق ہیں۔
(2)
منبر پر ایسے حالات بیان کرنے کا مقصد سامعین کو یہ سمجھانا ہے کہ اب جبکہ ہر قسم کی نعمتیں میسر ہیں۔
ان پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
اور ان سے معمولی سی کمی پر شکوہ شروع نہیں کردینا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4156]
خالد بن عمير العدوي ← عتبة بن غزوان المازني