صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب ما جاء ان الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر
باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2973 ترقیم شاملہ: -- 7451
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ، ذُو كَبِدٍ إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي، فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور میرے طاقچے میں کسی جگر رکھنے والے (ذی روح) کے کھانے کے لیے تھوڑے سے جو کے سوا کچھ نہ تھا، میں اس میں سے (پکا کر) کھاتی رہی یہاں تک کہ بہت دن گزر گئے (ایک دن) میں نے ان کو ماپ لیا تو وہ ختم ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7451]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئےاور میرے طاقچےمیں کسی جگر رکھنے والے(ذی روح) کے کھانے کے لیے تھوڑے سے جو کےسواکچھ نہ تھا میں اس میں سے(پکا کر) کھاتی رہی یہاں تک کہ بہت دن گزرگئے (ایک دن)میں نے ان کو ماپ لیاتو وہ ختم ہوگئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7451]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2973
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6451
| توفي النبي وما في رفي من شيء يأكله ذو كبد إلا شطر شعير في رف لي فأكلت منه حتى طال علي فكلته ففني |
صحيح مسلم |
7451
| توفي رسول الله وما في رفي من شيء يأكله ذو كبد إلا شطر شعير في رف لي فأكلت منه حتى طال علي فكلته ففني |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7451 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7451
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
طویل مدت کھانے کہ بعد،
جب باقی کو ماپ لیا،
تو دل میں اس کے خاتمہ کے لیے ایک اندازہ مقرر کرلیا،
جس سے اس کی برکت ختم ہوگئی۔
فوائد ومسائل:
طویل مدت کھانے کہ بعد،
جب باقی کو ماپ لیا،
تو دل میں اس کے خاتمہ کے لیے ایک اندازہ مقرر کرلیا،
جس سے اس کی برکت ختم ہوگئی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7451]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6451
6451. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میرے توشہ دان میں کوئی غلہ نہ تھا جو کسی جاندار کے کھانے کے قابل ہوتا البتہ تھوڑے سے جو میرے توشہ دان میں تھے۔ میں انھی سے کھاتی رہی۔ آخرکار جب بہت دن گزر گئے تو میں نے ان کا وزن کیا، چنانچہ وہ ختم ہوگئے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6451]
حدیث حاشیہ:
یہ جو دوسری حدیث میں ہے کہ اپنا اناج ناپو اس میں برکت ہوگی، اس سے مراد یہ ہے کہ بیع اور شرا کے وقت ناپ لینا بہتر ہے لیکن گھر میں خرچ کرتے وقت اللہ کا نام لے کر خرچ کیا جائے برکت ہوگی۔
یہ جو دوسری حدیث میں ہے کہ اپنا اناج ناپو اس میں برکت ہوگی، اس سے مراد یہ ہے کہ بیع اور شرا کے وقت ناپ لینا بہتر ہے لیکن گھر میں خرچ کرتے وقت اللہ کا نام لے کر خرچ کیا جائے برکت ہوگی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6451]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6451
6451. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میرے توشہ دان میں کوئی غلہ نہ تھا جو کسی جاندار کے کھانے کے قابل ہوتا البتہ تھوڑے سے جو میرے توشہ دان میں تھے۔ میں انھی سے کھاتی رہی۔ آخرکار جب بہت دن گزر گئے تو میں نے ان کا وزن کیا، چنانچہ وہ ختم ہوگئے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6451]
حدیث حاشیہ:
(1)
فتوحات کے بعد اگرچہ گھر کے اخراجات میں وسعت آ گئی تھی لیکن دوسرے حضرات پر ایثار اور ان سے ہمدردی کے پیش نظر گھریلو زندگی کا وہی حال تھا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے۔
(2)
اس حدیث میں ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے غلے کا ناپ تول کیا تو وہ ختم ہو گیا جبکہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اپنا غلہ ناپا کرو، اس میں برکت ہو گی۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2128)
اس کا مطلب یہ ہے کہ خریدوفروخت کے وقت ناپ تول کرنا باعث برکت ہے لیکن گھر میں خرچ کرتے وقت ناپ تول کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر خرچ کیا جائے تو برکت ہو گی۔
(فتح الباري: 339/11)
(1)
فتوحات کے بعد اگرچہ گھر کے اخراجات میں وسعت آ گئی تھی لیکن دوسرے حضرات پر ایثار اور ان سے ہمدردی کے پیش نظر گھریلو زندگی کا وہی حال تھا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے۔
(2)
اس حدیث میں ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے غلے کا ناپ تول کیا تو وہ ختم ہو گیا جبکہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اپنا غلہ ناپا کرو، اس میں برکت ہو گی۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2128)
اس کا مطلب یہ ہے کہ خریدوفروخت کے وقت ناپ تول کرنا باعث برکت ہے لیکن گھر میں خرچ کرتے وقت ناپ تول کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر خرچ کیا جائے تو برکت ہو گی۔
(فتح الباري: 339/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6451]
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق