صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب في قوله تعالى: {الم يان للذين آمنوا ان تخشع قلوبهم لذكر الله}:
باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”کیا وقت نہیں آیا ان کے لیے جو ایمان لائیں کہ گڑگڑائیں ان کے دل اللہ تعالیٰ کی یاد سے“ کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 3027 ترقیم شاملہ: -- 7550
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " مَا كَانَ بَيْنَ إِسْلَامِنَا وَبَيْنَ أَنْ عَاتَبَنَا اللَّهُ بِهَذِهِ الْآيَةِ أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ سورة الحديد آية 16 إِلَّا أَرْبَعُ سِنِينَ ".
عون بن عبداللہ کے والد سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے اسلام لانے اور ہم پر اس آیت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے عتاب کے درمیان چار سال سے زیادہ کا وقفہ نہ تھا: "کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یاد کرتے ہوئے گڑگڑائیں۔" [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7550]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے اسلام لانے اور ہمیں اس آیت ﴿أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ﴾ [سورة الحديد: 16] (کیا مومنوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے پسیج جائیں) کے ذریعے عتاب فرمانے کے درمیان صرف چار سال کا فاصلہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7550]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3027
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7550 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7550
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
الم يان:
کسی چیز کا وقت ہوجانا۔
فوائد ومسائل:
اس آیت کے اصل مخاطب وہ لوگ ہیں،
جنہوں نے موقع کی مناسبت سے اسلام کو تو قبول کرلیا تھا،
مگر ابھی تک اس کے لیے جان کو جوکھوں میں ڈالنے اور کسی قسم کی قربانی کے لیے تیار نہیں تھے۔
مفردات الحدیث:
الم يان:
کسی چیز کا وقت ہوجانا۔
فوائد ومسائل:
اس آیت کے اصل مخاطب وہ لوگ ہیں،
جنہوں نے موقع کی مناسبت سے اسلام کو تو قبول کرلیا تھا،
مگر ابھی تک اس کے لیے جان کو جوکھوں میں ڈالنے اور کسی قسم کی قربانی کے لیے تیار نہیں تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7550]
Sahih Muslim Hadith 7550 in Urdu
عبد الله بن عتبة الهذلي ← عبد الله بن مسعود