صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب نَسْخِ: «الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ» وَوُجُوبِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ:
باب: «الماء من الماء» کے منسوخ ہونے کا بیان، اور غسل صرف ختنوں کے مل جانے سے ہی واجب ہو گا۔
ترقیم عبدالباقی: 349 ترقیم شاملہ: -- 785
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " اخْتَلَفَ فِي ذَلِكَ رَهْطٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَالأَنْصَارِ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّونَ: لَا يَجِبُ الْغُسْلُ إِلَّا مِنَ الدَّفْقِ، أَوْ مِنَ الْمَاءِ، وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ: بَلْ إِذَا خَالَطَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى: فَأَنَا أَشْفِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ، فَقُمْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَأُذِنَ لِي، فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّاهْ، أَوْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ، وَإِنِّي أَسْتَحْيِيكِ، فَقَالَتْ: لَا تَسْتَحْيِي، أَنْ تَسْأَلَنِي عَمَّا كُنْتَ سَائِلًا عَنْهُ أُمَّكَ الَّتِي وَلَدَتْكَ، أَنَا أُمُّكَ، قُلْتُ: فَمَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ قَالَتْ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ، وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ".
دو مختلف سندوں کے ساتھ ابوبردہ کے حوالے سے (ان کے والد) حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس مسئلے میں مہاجرین اور انصار کے ایک گروہ نے اختلاف کیا۔ انصار نے کہا: غسل صرف (منی کے) زور سے نکلنے یا پانی (کے انزال) سے فرض ہوتا ہے اور مہاجرین نے کہا: بلکہ جب اختلاط ہو تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ (ابوبردہ نے) کہا: حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں اس مسئلے سے چھٹکارا دلاتا ہوں، میں اٹھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضری کی اجازت طلب کی، مجھے اجازت دے دی گئی تو میں نے کہا: میری ماں، یا کہا: ام المؤمنین! میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں اور مجھے آپ سے شرم (بھی) آ رہی ہے۔ تو انہوں نے کہا: جو بات تم اپنی اس ماں سے جس نے (اپنے پیٹ سے) تمہیں جنم دیا، پوچھ سکتے تھے، وہ مجھ سے پوچھنے میں شرم نہ کرو کیونکہ میں بھی تمہاری ماں ہوں۔ میں نے کہا: تو کون سا (کام) غسل کو واجب کرتا ہے؟ انہوں نے کہا: تم (اس مسئلے کے متعلق) اس سے ملے ہو جو (اس سے) اچھی طرح باخبر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ (مرد) اس (عورت) کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھا اور ختنے کی جگہ ختنے کی جگہ سے مس ہوئی تو غسل واجب ہو گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 785]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس مسئلے میں مہاجرین اور انصار کے ایک گروہ کا اختلاف ہوا، انصار نے کہا: غسل اس صورت میں فرض ہوتا ہے جب منی ٹپک کر نکلے یا انزال ہو اور مہاجرین نے کہا: جب مرد عورت سے صحبت کرے تو غسل واجب ہو جاتا ہے، ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس مسئلے میں تمہاری تسلی کیے دیتا ہوں، تو میں اٹھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے باریابی کی اجازت طلب کی، مجھے اجازت دے دی گئی تو میں نے کہا: اے امی جان! یا اے مومنوں کی ماں! میں آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں اور مجھے آپ سے شرم بھی آ رہی ہے، تو انہوں نے کہا: جو بات تم اپنی حقیقی ماں جس کے پیٹ سے تم پیدا ہوئے ہو سے پوچھ سکتے ہو وہ مجھ سے پوچھنے سے شرم نہ کرو، کیونکہ میں بھی تمہاری ماں ہوں، میں نے پوچھا: غسل کس صورت میں واجب ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: تو نے واقف کار سے ہی پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد عورت کے چاروں کونوں میں بیٹھ جائے، اور ختنے کی جگہ ختنے کی جگہ سے مس کر لے (ذکر، فرج میں داخل ہو جائے) تو غسل واجب ہو گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 785]
ترقیم فوادعبدالباقی: 349
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
785
| جلس بين شعبها الأربع ومس الختان الختان فقد وجب الغسل |
جامع الترمذي |
109
| إذا جاوز الختان الختان وجب الغسل |
جامع الترمذي |
108
| إذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل |
سنن ابن ماجه |
608
| إذا التقى الختانان فقد وجب الغسل |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 785 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 785
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
عَلَي الْخَيْرِ سَقَطْتَ:
محاورہ ہے،
جس کا معنی ہوتا ہے،
مسئلہ حقیقت سے جو آگاہ ہے تو نے اس سے پوچھا مس الختان:
الختان (کنایہ ہے میاں بیوی کی صحبت اور تعلقات سے،
محض چھونا مراد نہیں)
۔
مفردات الحدیث:
عَلَي الْخَيْرِ سَقَطْتَ:
محاورہ ہے،
جس کا معنی ہوتا ہے،
مسئلہ حقیقت سے جو آگاہ ہے تو نے اس سے پوچھا مس الختان:
الختان (کنایہ ہے میاں بیوی کی صحبت اور تعلقات سے،
محض چھونا مراد نہیں)
۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 785]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث608
مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جانے پر غسل کا وجوب۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا، تو ہم نے غسل کیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 608]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا، تو ہم نے غسل کیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 608]
اردو حاشہ:
ختنے ملنے سے مراد جنسی اعضاء کا ملنا، یعنی عمل مباشرت ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جب جنسی ملاپ کا عمل شروع کردیا جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے اگرچہ انزال نہ بھی ہو۔
ختنے ملنے سے مراد جنسی اعضاء کا ملنا، یعنی عمل مباشرت ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جب جنسی ملاپ کا عمل شروع کردیا جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے اگرچہ انزال نہ بھی ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 608]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 108
مرد اور عورت کی شرمگاہ مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد کے ختنہ کا مقام (عضو تناسل) عورت کے ختنے کے مقام (شرمگاہ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا ۱؎، میں نے اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کیا تو ہم نے غسل کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد کے ختنہ کا مقام (عضو تناسل) عورت کے ختنے کے مقام (شرمگاہ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا ۱؎، میں نے اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کیا تو ہم نے غسل کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
اردو حاشہ:
1؎:
گرچہ انزال نہ ہو تب بھی غسل واجب ہوگیا،
پہلے یہ مسئلہ تھا کہ جب انزال ہوتب غسل واجب ہوگا،
جو بعد میں اس حدیث سے منسوخ ہوگیا،
دیکھئے اگلی حدیث۔
1؎:
گرچہ انزال نہ ہو تب بھی غسل واجب ہوگیا،
پہلے یہ مسئلہ تھا کہ جب انزال ہوتب غسل واجب ہوگا،
جو بعد میں اس حدیث سے منسوخ ہوگیا،
دیکھئے اگلی حدیث۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 108]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 109
مرد اور عورت کی شرمگاہ مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد کے ختنے کا مقام عورت کے ختنے کے مقام (شرمگاہ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 109]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد کے ختنے کا مقام عورت کے ختنے کے مقام (شرمگاہ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 109]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں،
لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
نوٹ:
(سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں،
لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 109]
Sahih Muslim Hadith 785 in Urdu
عبد الله بن قيس الأشعري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق