صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
25. باب النهي عن سبق الإمام بركوع او سجود ونحوهما:
باب: امام سے پہلے رکوع اور سجود وغیرہ کرنے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 426 ترقیم شاملہ: -- 961
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَاتَ يَوْمٍ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ، وَلَا بِالسُّجُودِ، وَلَا بِالْقِيَامِ، وَلَا بِالِانْصِرَافِ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ أَمَامِي، وَمِنْ خَلْفِي "، ثُمَّ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا "، قَالُوا: وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ "،
علی بن مسہر نے مختار بن فلفل سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، اور نماز سے فراغت کے بعد ہماری طرف رخ کیا اور فرمایا: ”لوگو! میں تمہارا امام ہوں، نہ قیام میں اور نہ سلام پھیرنے میں کیونکہ میں تمہیں اپنے سامنے اور اپنے پیچھے دیکھتا ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! اگر تم ان (تمام چیزوں) کو دیکھو جو میں نے دیکھیں تو تم کم ہنسو اور زیادہ رؤو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے جنت اور دوزخ کو دیکھا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 961]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تو نماز سے فارغت کے بعد ہماری طرف منہ کر کے فرمایا: ”اے لوگو! میں تمہارا امام ہوں، تم رکوع، سجود، قیام اور سلام پھیرنے میں مجھ سے سبقت (پہل) نہ کیا کرو، کیونکہ میں اپنے سامنے اور اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر تم ان تمام حقائق کا مشاہدہ کر لو جن کو میں دیکھتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت اور دوزخ کو دیکھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 961]
ترقیم فوادعبدالباقی: 426
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
718
| أقيموا الصفوف أراكم خلف ظهري |
صحيح البخاري |
725
| أقيموا صفوفكم أراكم من وراء ظهري |
صحيح البخاري |
719
| أقيموا صفوفكم وتراصوا أراكم من وراء ظهري |
صحيح البخاري |
6644
| أتموا الركوع والسجود أراكم من بعد ظهري إذا ما ركعتم وإذا ما سجدتم |
صحيح البخاري |
742
| أقيموا الركوع والسجود أراكم من بعدي إذا ركعتم وسجدتم |
صحيح البخاري |
419
| أراكم من ورائي كما أراكم |
صحيح مسلم |
959
| أقيموا الركوع والسجود أراكم من بعدي إذا ركعتم وسجدتم |
صحيح مسلم |
960
| أتموا الركوع والسجود أراكم من بعد ظهري إذا ما ركعتم وإذا ما سجدتم |
صحيح مسلم |
961
| لا تسبقوني بالركوع ولا بالسجود ولا بالقيام ولا بالانصراف أراكم أمامي ومن خلفي لو رأيتم ما رأيت لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا ما رأيت يا رسول الله قال رأيت الجنة والنار |
صحيح مسلم |
976
| أتموا الصفوف أراكم خلف ظهري |
سنن النسائى الصغرى |
1118
| أتموا الركوع والسجود أراكم من خلف ظهري في ركوعكم وسجودكم |
سنن النسائى الصغرى |
1364
| لا تبادروني بالركوع ولا بالسجود ولا بالقيام ولا بالانصراف أراكم من أمامي ومن خلفي لو رأيتم ما رأيت لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا قلنا ما رأيت يا رسول الله قال رأيت الجنة والنار |
سنن النسائى الصغرى |
846
| أقيموا صفوفكم وتراصوا أراكم من وراء ظهري |
سنن النسائى الصغرى |
815
| أقيموا صفوفكم وتراصوا أراكم من وراء ظهري |
سنن النسائى الصغرى |
814
| استووا أراكم من خلفي كما أراكم من بين يدي |
مختار بن فلفل القرشي ← أنس بن مالك الأنصاري