معجم صغير للطبراني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم فقہی
عربی
اردو
نماز میں آنکھیں بند کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 177
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ طُعْمَةَ الْحَلَبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاةِ فَلا يُغْمِضْ عَيْنَيْهِ"، لا يُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ الْجَزَرِيُّ الْحَرَّانِيُّ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی شخص نماز میں کھڑا ہو تو اپنی آنکھوں کو بند نہ کرے۔“ [معجم صغير للطبراني/كتاب الصلوٰة/حدیث: 177]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الطبراني فى «الكبير» برقم: 10956، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2218، والطبراني فى «الصغير» برقم: 24
قال ابن عدی: هذا عن ليث بهذا الإسناد وليس يرويه عنه غير موسى بن أعين وعنه مصعب بن سعيد والضعف على حديثه بين الكامل في الضعفاء: (8 / 89)»
قال ابن عدی: هذا عن ليث بهذا الإسناد وليس يرويه عنه غير موسى بن أعين وعنه مصعب بن سعيد والضعف على حديثه بين الكامل في الضعفاء: (8 / 89)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
معجم صغیر للطبرانی کی حدیث نمبر 177 کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله،معجم صغیر للطبرانی 177
نماز میں آنکھیں بند کرنا:
(ابن قیمؒ) نماز میں آنکھیں بند کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نہیں تھا جیسا کہ تشہد کے بیان میں یہ بات گزری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں نظر اپنی انگلی کے اشارے کی طرف رکھتے۔ [زاد المعاد: 248/1]
(فیروز آبادیؒ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنی آنکھیں کھول کر رکھتے تھے۔ [سفر السعادة: ص/20]
(ابن قیمؒ) نماز میں آنکھیں بند کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نہیں تھا جیسا کہ تشہد کے بیان میں یہ بات گزری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں نظر اپنی انگلی کے اشارے کی طرف رکھتے۔ [زاد المعاد: 248/1]
(فیروز آبادیؒ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنی آنکھیں کھول کر رکھتے تھے۔ [سفر السعادة: ص/20]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 441]
اردو فتاوی،
نماز میں دونوں آنکھیں بند کرنے کا کیا حکم ہے؟
ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے، اور درود و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:
اہل علم متفقہ طور پر نماز میں بلا ضرورت آنکھیں بند کرنے کو مکروہ کہتے ہیں، چنانچہ الروض کے مؤلف نے صراحت کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ یہ یہودیوں کا عمل ہے۔ [الروض المربع: 95/1]
اسی طرح [منار السبیل] اور [الکافی] کے مؤلف نے مزید یہ بھی لکھا ہے کہ اس سے نیند آنے کا خدشہ ہے۔ [منار السبيل: 66/1، الكافي: 285/1]
جبکہ [الاقناع] اور [المغنی] کے مؤلف نے اسے مکروہ کہا ہے لیکن اگر ضرورت ہو تو جائز ہے جیسے کہ نمازی کو خدشہ ہو کہ آنکھیں کھلی رکھنے سے شرعی مخالفت لازم آئے گی، مثال کے طور پر: اپنی لونڈی یا بیوی یا اجنبی عورت برہنہ حالت میں نظر آئے۔ [الإقناع: 127/1، المغني: 30/2]
اسی طرح [تحفۃ الملوک] کے مؤلف نے بھی اس کے مکروہ ہونے کی صراحت کی ہے لیکن انہوں نے کسی قسم کی ضرورت ہونے یا نہ ہونے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [تحفة الملوك: 84/1]
◈ کاسانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
«يُكْرَهُ لِأَنَّهُ خِلَافُ السُّنَّةِ؛ لِأَنَّ السُّنَّةَ أَنْ يَرْمِيَ بِبَصَرِهِ إلَى مَوْضِعِ سُجُودِهِ وَلِأَنَّ لِكُلِّ عُضْوٍ حَظًّا مِنْ الْعِبَادَةِ فَكَذَا الْعَيْنُ.»
”یہ مکروہ ہے؛ کیونکہ یہ سنت سے متصادم ہے؛ کیونکہ نماز کی حالت میں سجدے کی جگہ پر دیکھنا شرعی عمل ہے، نیز یہ بھی کہ ہر عضو کا عبادت میں حصہ ہے چنانچہ اسی طرح آنکھوں کا بھی عبادت میں حصہ ہے۔“ [بدائع الصنائع: 503/1]
[مراقی الفلاح] کے مؤلف نے نماز کے دوران آنکھیں بند کرنے کو مکروہ کہا ہے تاہم کہیں مصلحت کا تقاضا ہو تو جائز ہے، بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ: بسا اوقات آنکھیں بند کرنا آنکھیں کھلی رکھنے سے بہتر ہو گا۔ [مراقي الفلاح: 343/1]
◈ امام عز بن عبدالسلام رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ میں ضرورت کے وقت آنکھیں بند کرنے کی اجازت دی ہے کہ اگر اس سے نماز میں خشوع زیادہ پیدا ہونے کا امکان ہو تو۔
◈ ابن قیم رحمہ اللہ نے [زاد المعاد] میں صراحت کے ساتھ لکھا ہے:
”اگر آنکھیں کھول کر رکھنے سے نماز میں خشوع زیادہ پیدا ہو گا تو آنکھیں کھول کر رکھنا ضروری ہے، اور اگر آنکھیں بند کر کے رکھنے سے زیادہ خشوع پیدا ہو گا کہ مثلاً کوئی ایسے نقش و نگار یا کوئی اور چیز موجود ہے جس سے خشوع میں خلل پیدا ہوتا ہے تو پھر قطعی طور پر مکروہ نہیں ہے، بلکہ ایسی صورت میں آنکھیں بند کرنے کو مستحب کہنا مقاصدِ شریعت سے مکروہ کہنے کی نسبت قریب تر ہے۔“ [زاد المعاد: 283/1]
ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے، اور درود و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:
اہل علم متفقہ طور پر نماز میں بلا ضرورت آنکھیں بند کرنے کو مکروہ کہتے ہیں، چنانچہ الروض کے مؤلف نے صراحت کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ یہ یہودیوں کا عمل ہے۔ [الروض المربع: 95/1]
اسی طرح [منار السبیل] اور [الکافی] کے مؤلف نے مزید یہ بھی لکھا ہے کہ اس سے نیند آنے کا خدشہ ہے۔ [منار السبيل: 66/1، الكافي: 285/1]
جبکہ [الاقناع] اور [المغنی] کے مؤلف نے اسے مکروہ کہا ہے لیکن اگر ضرورت ہو تو جائز ہے جیسے کہ نمازی کو خدشہ ہو کہ آنکھیں کھلی رکھنے سے شرعی مخالفت لازم آئے گی، مثال کے طور پر: اپنی لونڈی یا بیوی یا اجنبی عورت برہنہ حالت میں نظر آئے۔ [الإقناع: 127/1، المغني: 30/2]
اسی طرح [تحفۃ الملوک] کے مؤلف نے بھی اس کے مکروہ ہونے کی صراحت کی ہے لیکن انہوں نے کسی قسم کی ضرورت ہونے یا نہ ہونے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [تحفة الملوك: 84/1]
◈ کاسانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
«يُكْرَهُ لِأَنَّهُ خِلَافُ السُّنَّةِ؛ لِأَنَّ السُّنَّةَ أَنْ يَرْمِيَ بِبَصَرِهِ إلَى مَوْضِعِ سُجُودِهِ وَلِأَنَّ لِكُلِّ عُضْوٍ حَظًّا مِنْ الْعِبَادَةِ فَكَذَا الْعَيْنُ.»
”یہ مکروہ ہے؛ کیونکہ یہ سنت سے متصادم ہے؛ کیونکہ نماز کی حالت میں سجدے کی جگہ پر دیکھنا شرعی عمل ہے، نیز یہ بھی کہ ہر عضو کا عبادت میں حصہ ہے چنانچہ اسی طرح آنکھوں کا بھی عبادت میں حصہ ہے۔“ [بدائع الصنائع: 503/1]
[مراقی الفلاح] کے مؤلف نے نماز کے دوران آنکھیں بند کرنے کو مکروہ کہا ہے تاہم کہیں مصلحت کا تقاضا ہو تو جائز ہے، بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ: بسا اوقات آنکھیں بند کرنا آنکھیں کھلی رکھنے سے بہتر ہو گا۔ [مراقي الفلاح: 343/1]
◈ امام عز بن عبدالسلام رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ میں ضرورت کے وقت آنکھیں بند کرنے کی اجازت دی ہے کہ اگر اس سے نماز میں خشوع زیادہ پیدا ہونے کا امکان ہو تو۔
◈ ابن قیم رحمہ اللہ نے [زاد المعاد] میں صراحت کے ساتھ لکھا ہے:
”اگر آنکھیں کھول کر رکھنے سے نماز میں خشوع زیادہ پیدا ہو گا تو آنکھیں کھول کر رکھنا ضروری ہے، اور اگر آنکھیں بند کر کے رکھنے سے زیادہ خشوع پیدا ہو گا کہ مثلاً کوئی ایسے نقش و نگار یا کوئی اور چیز موجود ہے جس سے خشوع میں خلل پیدا ہوتا ہے تو پھر قطعی طور پر مکروہ نہیں ہے، بلکہ ایسی صورت میں آنکھیں بند کرنے کو مستحب کہنا مقاصدِ شریعت سے مکروہ کہنے کی نسبت قریب تر ہے۔“ [زاد المعاد: 283/1]
[اسلام کیو اے، حدیث/صفحہ نمبر: 22174]
Muajam E Sagheer Hadith 177 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي