🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3.22. (بَيَانُ ذُرِّيَّةِ آدَمَ)
اولاد آدم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 118
118 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَسَقَطَ عَنْ ظَهْرِهِ كُلُّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرِّيَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَيْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبِيصًا مِنْ نُورٍ، ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ، فَقَالَ أَيْ رَبِّ! مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ ذُرِّيَّتُكَ. فَرَأَى رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهُ، وَبِيصُ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ، قَالَ: أَيْ رَبِّ! مَنْ هَذَا؟ قَالَ: دَاوُدُ. فَقَالَ: رَبِّ! كَمْ جَعَلْتَ عُمُرَهُ؟ قَالَ: سِتِّينَ سَنَةً. قَالَ: رَبِّ زِدْهُ مِنْ عُمُرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً) . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (فَلَمَّا انْقَضَى عُمْرُ آدَمَ إِلَّا أَرْبَعِينَ جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ، فَقَالَ آدَمُ) : أَوَلَمْ يَبْقَ مِنْ عُمُرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً؟ قَالَ: أَوَلَمْ تُعْطِهَا ابْنَكَ دَاوُدَ؟! فَجَحَدَ آدَمُ، فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ، وَنَسِيَ آدَمُ فَأَكَلَ مِنَ الشَّجَرَةِ، فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهُ، وَخَطَأَ وَخَطَأَتْ ذُرِّيَّتُهُ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو ان کی پشت سے وہ تمام روحیں، جنہیں اس نے ان کی اولاد سے روزِ قیامت تک پیدا کرنا تھا، نکل آئیں، اور ان میں سے ہر انسان کی پیشانی پر نور کا ایک نشان لگا دیا، پھر انہیں آدم علیہ السلام پر پیش کیا تو انہوں نے عرض کیا: میرے پروردگار! یہ کون ہیں؟ فرمایا: تمہاری اولاد، پس انہوں نے ان میں ایک شخص کو دیکھا تو اس کی پیشانی کا نشان انہیں بہت اچھا لگا، تو انہوں نے عرض کیا، میرے پروردگار! یہ کون ہیں؟ فرمایا: داؤد علیہ السلام، تو انہوں نے عرض کیا، میرے پروردگار! آپ نے اس کی کتنی عمر مقرر کی ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال، انہوں نے عرض کیا: پروردگار! میری عمر سے چالیس سال اسے مزید عطا فرما دے۔“ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب آدم علیہ السلام کی عمر کے چالیس برس باقی رہ گئے تو ملک الموت ان کے پاس آیا تو آدم علیہ السلام نے فرمایا: کیا میری عمر کے چالیس برس باقی نہیں رہتے؟ اس نے جواب دیا کیا آپ نے وہ اپنے بیٹے داؤد علیہ السلام کو نہیں دیے تھے؟ آدم علیہ السلام نے انکار کر دیا، اسی طرح اس کی اولاد نے بھی انکار کیا، آدم علیہ السلام بھول گئے اور اس درخت سے کچھ کھا لیا، تو اب اس کی اولاد بھی بھول جاتی ہے، اور آدم علیہ السلام نے خطا کی اور اس کی اولاد بھی خطا کار ہے۔“ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان/حدیث: 118]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3076 وقال: ھذا حديث حسن صحيح) [وصححه الحاکم 2/ 586] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن


تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3076
لما خلق الله آدم مسح ظهره فسقط من ظهره كل نسمة هو خالقها من ذريته إلى يوم القيامة وجعل بين عيني كل إنسان منهم وبيصا من نور ثم عرضهم على آدم فقال أي رب من هؤلاء قال هؤلاء ذريتك فرأى رجلا منهم فأعجبه وبيص ما بين عينيه فقال أي رب من هذا فقال هذا رجل من آخ
مشكوة المصابيح
118
لما خلق الله آدم مسح ظهره فسقط من ظهره كل نسمة هو خالقها من ذريته إلى يوم القيامة وجعل بين عيني كل إنسان منهم وبيصا من نور
مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 118 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 118
تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند حسن ہے۔ اسے حاکم نے بھی صحیح کہا ہے۔ [حاکم 586/2]

فقہ الحدیث:
➊ اس روایت میں نور سے مراد ایمان کا نور اور فطرت سلیمہ ہے۔
➋ بھول جانا انسانی فطرت میں شامل ہے۔
➌ یہ حدیث سورۃ الاعراف کی آیت: 172 کی شرح میں ہے۔
➍ سیدنا داؤد علیہ السلام بہت خوبصورت تھے۔
➎ ہر جاندار کی عمر اتنی ہوتی ہے جتنی اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہے اور جب موت کا مقرر وقت آتا ہے تو پھر اسے کوئی چیز ٹال نہیں سکتی۔
➏ لمبی زندگی سے محبت فطرت انسانی میں شامل ہے۔
➐ سیدنا آدم علیہ السلام کے زمانے سے لے کر قیامت تک جتنے بھی انسان ہیں وہ سب کے سب آدم علیہ السلام اور حوا علیہ السلام کی اولاد ہیں یعنی سیدنا آدم علیہ السلام تمام انسانوں کے باپ ہیں۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 118]

Mishkat al-Masabih Hadith 118 in Urdu