🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1.12. (فضيلة أهل العلم)
اہل علم کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 216
216 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْحَكِيمِ، فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ الرَّاوِي يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دانائی کی بات، دانا شخص کی گم شدہ چیز ہے، پس وہ اسے جہاں پائے تو وہاں وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔ اس حدیث کوترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے، اور ابراہیم بن فضل راوی حدیث کے معاملے میں ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 216]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه الترمذي (2687) و ابن ماجه (4169)
٭ إبراهيم بن الفضل المخزومي: متروک .
فائدة: وقال عبد الله بن عباس رضي الله عن: خذ الحکمة ممن سمعتھا فإن الرجل ينطق بالحکمة و ليس من أھلھا فتکون کالرمية خرجت من غير رام . (رواه الخرائطي في مساوئ الأخلاق: 390 وسنده حسن، باب ماجاء في سوء الجوار من الکراھة والذم)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا


تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2687
الكلمة الحكمة ضالة المؤمن فحيث وجدها فهو أحق بها
سنن ابن ماجه
4169
الكلمة الحكمة ضالة المؤمن حيثما وجدها فهو أحق بها
مشكوة المصابيح
216
الكلمة الحكمة ضالة الحكيم فحيث وجدها فهو احق بها
مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 216 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 216
تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند سخت ضعیف ہے۔
اس روایت کے راوی ابراہیم بن الفضل المخزومی، ابواسحاق المدنی کے بارے میں:
امام بخاری نے فرمایا:
«منكر الحديث»
وہ منکر حدیثیں بیان کرتا تھا۔ [كتاب الضعفاء مع تحفة الاقوياء ص1۔ ت6]
یہ جرح امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک شدید جرح تھی۔
دوسرے محدثین نے بھی اس راوی پر اسی طرح اور اسی مفہوم کی جرحیں کی ہیں۔
اور حافظ ابن حجر نے بطور خلاصہ فرمایا:
«متروك» وہ متروک ہے۔ [تقريب التهذيب: 228]
◄ جمہور محدثین کے نزدیک مجروح راوی کا منکر الحدیث یا متروک ہونا ثابت ہو جائے تو وہ سخت ضعیف ہوتا ہے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 216]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2687
عبادت پر علم و فقہ کی فضیلت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حکمت کی بات مومن کی گمشدہ چیز ہے جہاں کہیں بھی اسے پائے وہ اسے حاصل کر لینے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2687]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابرہیم بن الفضل المخزومی متروک راوی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2687]

Mishkat al-Masabih Hadith 216 in Urdu