🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (معيار الولاء والعداوة)
دوستی اور دشمنی کا معیار
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 31
‏‏‏‏رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ مَعَ تَقْدِيمٍ وَتَأْخِير وَفِيه: «فقد اسْتكْمل إيمَانه»
اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے الفاظ کی تقدیم و تاخیر کے ساتھ اسے یوں روایت کیا ہے: اس شخص نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان/حدیث: 31]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2521 وقال: ھذا حديث منکر) [و صححه الحاکم علٰي شرط الشيخين (2/ 164) ووافقه الذهبي . الصواب أنه حسن، خلافًا لمن أعله .] »
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2521
من أعطى لله ومنع لله أحب لله وأبغض لله أنكح لله فقد استكمل إيمانه
مشكوة المصابيح
31
فقد استكمل إيمانه
مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 31 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 31
تخریج الحدیث:
[سنن ترمذي 2521] ،
[حاكم 164/2]

تحقیق الحدیث: اس حدیث کی سند حسن ہے۔
اسے حاکم [164/2] اور ذھبی نے شیخین کی شرط [!] پر صحیح کہا ہے۔
اسے «هذا حديث منكر» کہنا غلط ہے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 31]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2521
باب:۔۔۔
معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی رضا کے لیے دیا اور اللہ کی رضا کے لیے روکا اور جس نے اللہ کی رضا کے لیے محبت کی، اور اللہ کی رضا کے لیے عداوت و دشمنی کی اور اللہ کی رضا کے لیے نکاح کیا تو یقیناً اس کا ایمان مکمل ہو گیا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2521]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(امام ترمذی نے اسے منکر کہا ہے،
لیکن شواہد کی وجہ سے حسن ہے،
ملاحظہ ہو:
الصحیحة رقم: 380)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2521]