🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (مقارنة النعمة والشر)
نیکی اور برائی کا تقابل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 44
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ‏‏‏‏إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلَامَهُ فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِعشر أَمْثَالهَا إِلَى سبع مائَة ضعف وكل سَيِّئَة يعملها تكْتب لَهُ بِمِثْلِهَا" ‏‏‏‏.  مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے اسلام کو سنوار لے تو اس کا ہر نیک عمل دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا کر لکھا جائے گا، جبکہ اس کی ہر برائی اتنی ہی لکھی جائے گی حتیٰ کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (42) و مسلم (129/ 205)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
42
أحسن أحدكم إسلامه فكل حسنة يعملها تكتب له بعشر أمثالها إلى سبع مائة ضعف وكل سيئة يعملها تكتب له بمثلها
صحيح مسلم
336
أحسن أحدكم إسلامه فكل حسنة يعملها تكتب بعشر أمثالها إلى سبع مائة ضعف وكل سيئة يعملها تكتب بمثلها حتى يلقى الله
مشكوة المصابيح
44
إذا احسن احدكم إسلامه فكل حسنة يعملها تكتب له بعشر امثالها إلى سبع مائة ضعف وكل سيئة يعملها تكتب له بمثلها
مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 44 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 44
تخریج:
[صحيح بخاري 42] ،
[صحيح مسلم 336]

فقہ الحدیث
➊ رب کریم اپنے بندوں پر کتنا مہربان ہے کہ وہ مسلمانوں کو ہر نیکی کے بدلے دس گنا ثواب عطا فرماتا ہے، بلکہ لوگوں کی نیتوں پر بعض نیکوکاروں کو سات سو گنا ثواب بھی عطا کر دیتا ہے۔
➋ گناہ گار کے نامہ اعمال میں گناہ کرنے کی وجہ سے صرف ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے۔
➌ جنت اور جہنم والے اعمال کا دارومدار موت تک ہے۔ موت کے بعد اعمال تکلیفیہ (وہ اعمال جنہیں سر انجام دینے پر انسان مکلف، مامور یا مجبور ہے) منقطع ہو جاتے ہیں۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 44]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 42
اسلام و ایمان کے ایک ہونے کے عقیدہ کا اثبات
«. . . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلَامَهُ، فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَكُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِمِثْلِهَارٌ . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص جب اپنے اسلام کو عمدہ بنا لے (یعنی نفاق اور ریا سے پاک کر لے) تو ہر نیک کام جو وہ کرتا ہے اس کے عوض دس سے لے کر سات سو گنا تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ہر برا کام جو کرتا ہے تو وہ اتنا ہی لکھا جاتا ہے . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 42]
تشریح:
حضرت امام المحدثین رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی خداداد بصیرت کی بنا پر یہاں بھی اسلام و ایمان کے ایک ہونے اور ان میں کمی و بیشی کے صحیح ہونے کے عقیدہ کا اثبات فرمایا ہے اور بطور دلیل ان احادیث پاک کو نقل فرمایا ہے جن سے صاف ظاہر ہے کہ ایک نیکی کا ثواب جب سات سو گنا تک لکھا جاتا ہے تو یقیناً اس سے ایمان میں زیادتی ہوتی ہے اور کتاب و سنت کی رو سے یہی عقیدہ درست ہے جو لوگ ایمان کی کمی و بیشی کے قائل نہیں ہیں اگر وہ بنظر غائر عمیق کتاب و سنت کا مطالعہ کریں گے تو ضرور ان کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا۔ اسلام کے بہتر ہونے کا مطلب یہ کہ اوامر و نواہی کو ہر وقت سامنے رکھا جائے۔ حلال حرام میں پورے طور پر تمیز کی جائے، اللہ کا خوف، آخرت کا طلب، دوزخ سے پناہ ہر وقت مانگی جائے اور اپنے اعتقاد و عمل و اخلاق سے اسلام کا سچا نمونہ پیش کیا جائے اس حالت میں یقیناً جو بھی نیکی ہو گی اس کا ثواب سات سو گنا تک زیادہ کیا جائے گا۔
اللہ پاک ہر مسلمان کو یہ سعادت عظمیٰ نصیب فرمائے۔ آمین
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 42]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 336
ہمام بن منبہؒ سے روایت ہے کہ یہ وہ حدیثیں ہیں جو ہمیں ابو ہریرہ ؓ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ دل میں کسی نیکی کے کرنے کی بات کرتا ہے تو میں اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہوں، اگرچہ وہ اس پر عمل نہ کرے، پھر اگر اس کو عمل میں لے آئے تو میں دس گُنا لکھ لیتا ہوں۔ اور جب دل میں برائی کرنے کی بات کرتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:336]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
مِنْ جَرَّايَ:
میری خاطر،
یا میرے واسطے۔
فوائد ومسائل:
نیکی کے اجر وثواب کےمراتب میں فرق کا مدار نیکی کرنے والے کے جذبہ،
اخلاص نیت،
اس کے حالات اور موقع محل پر ہے،
جس قدر انسان کے اندر نیکی کا ولولہ وجوش زیادہ اور اس کا اخلاص واحسان بلند درجہ کا ہوگا،
وہ جس قدر ایثار وقربانی کا مظاہرہ کرے گا اور جس قدر موقع ومحل زیادہ مناسب اورمستحق ہوگا اس قدر ثواب زیادہ ہوگا،
جو سات گنا بلکہ بلا حساب تک پہنچ جائے گا۔
اورجس قدر ان چیزوں میں کمی ہوگی اسی قدر ثواب کم ہوگا اور کم ہوتے ہوتے دس تک رہ جائے گا۔
اور بقول بعض:
ان مراتب کا تعلق مختلف اعمال سے ہے،
مثلا:
عبادات بدنیہ پر دس گنا،
صدقات وخیرات پر سات سو گنا اور صبر وثبات اور ضبط نفس پر بلا حساب ولامحدود۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 336]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:42
42. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے اسلام کو اچھا کرے تو وہ ہر اچھائی جس کو وہ بجا لائے گا، دس گنا سے سات سو گنا تک لکھی جائے گی اور ہر وہ برا کام جو وہ کرتا ہے تو وہ اتنا ہی لکھا جاتا ہے (جتنا اس نے کیا ہے)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:42]
حدیث حاشیہ:

اس سے معلوم ہوا کہ حسن اسلام کی ایک صفت ہے اور حسن میں مراتب قائم ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اسلام میں بھی مراتب قائم ہوں گے اس بنا پر اس میں کمی بیشی بھی ہوگی، نیز اس سے ان لوگوں کی تردید بھی مقصود ہے جو ایمان کے لیے اعمال کی ضرورت کا یکسر انکار کرتے ہیں کیونکہ اسلام کا حسن، اعمال کا مرہون منت ہے۔
جب ان کا اختیارکرنا وجہ حسن ہے تو ان کا ترک باعث نقصان ہوگا۔
پھر اس باب کی ماقبل سے مناسبت یہ ہے کہ پہلے باب میں"الصلاة من الإیمان" فرمایا اور اس باب سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام میں حسن بھی نماز سے آتا ہے۔
(عمدۃ القاری: 369/1)

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ کافر اگر سچے دل سے مسلمان ہو جائے تو ایام کفر کی نیکیاں بھی اس کے بطاقہ اعمال میں لکھ دی جائیں گی۔
(سنن النسائي، الإیمان، حدیث: 5001۔
والصحیحة للألباني، حدیث: 247)
اس سے معلوم ہوا کہ کافر اگر مسلمان ہو جائے تو زمانہ کفر کی نیکیوں کا بھی اسے ثواب ملے گا۔
اس کی تائید حضرت حکیم بن حزام کی روایت سے بھی ہوتی ہےانھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ مجھے ایام جاہلیت کے اچھے کاموں کا کچھ فائدہ ہو گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم اپنے سابقہ اعمال خیر کو ساتھ لیے ہوئے مسلمان ہوئے ہو۔
یعنی اسلام کی برکت سے تمھارے جملہ اعمال خیر قائم ہیں۔
(صحیح البخاري، الزکاة، حدیث: 1436)

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ جو طاعات زمانہ کفر میں کی گئی ہیں ان کی دو اقسام ہیں:
(1)
جن کے لیے نیت شرط ہے اور نیت کی شرط اسلام ہے، اس لیے کافر کا کوئی عمل عبادت نہیں بن سکتا۔
(2)
قربات:
عبادت کے علاوہ دیگر امور خیر قربات میں شامل ہیں۔
یہ دنیا میں اس کی نیک نامی کا باعث ہو سکتے ہیں اور آخرت میں تخفیف عذاب کا سبب بن سکتے ہیں کیونکہ عذاب سے نجات کے لیے تو ایمان شرط ہے جیسا کہ ابو طالب کے متعلق احادیث میں آیا ہے۔
بہر حال کافر کی طاعات وقربات عذاب میں تخفیف پیدا کردیتی ہیں جبکہ وہ کفر پر مرا ہو، اگر اسلام پر خاتمہ ہوتو اللہ تعالیٰ اسلام کی برکت سے بطور احسان ان اعمال خیر پر بھی ثواب عطا فرمائے گا۔
جو بحالت کفر کیے ہوں گے۔
(فتح الباري: 134/1)

اصول قصاص کا مطلب یہ ہے کہ اگر نیکی کا عمل ہے تو اس پر ثواب کم از کم دس گنا کردیا جائے گا اور یہ آخری حد نہیں بلکہ بقدر اخلاص درجات بڑھتے رہیں گے حتیٰ کہ یہ اضافہ سات سو تک پہنچ جاتا ہے بلکہ معاملہ اس سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔
اللہ تعالیٰ ایک نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو تک بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا فرماتا ہے۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 338(131)
اس میں شرط یہ ہے کہ نمائش مقصود نہ ہو بلکہ اخلاص کے ساتھ حسنات کی جائیں اور جہاں تک سيئات (برائیوں)
کا تعلق ہے تو انھیں بڑھا کر نہیں لکھا جاتا بلکہ جس درجے کی سیئہ (برائی)
ہوگی، اسی قدر اس کی جزا لکھی جاتی ہے۔

اسلام کے بہترہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اوامر و نواہی کو ہر وقت سامنے رکھا جائے حلال وحرام میں پورے طور پر تمیز کی جائے اللہ کا خوف رکھا جائے۔
جنت کی طلب کی جائےجہنم سے پناہ مانگی جائے اپنے اعتقاد وعمل اور اخلاق و کردار سے اسلام کا سچا نمونہ پیش کیا جائے۔
اس حالت میں جو نیکی کی جائے گی اس کا ثواب سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ تک دیا جائےگا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 42]