مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 10013
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ , وَمِسْعَرٍ , عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ الْجُمَحِيِّ ، قََالَ: سُفْيَانُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، وَقَالَ مِسْعَرٌ: أَظُنُّهُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ:" وَجَبَت"، ثُمَّ مَرُّوا عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ:" وَجَبَت"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَجَبَتْ؟ قَالَ: " بَعْضُكُمْ شُهَدَاءُ عَلَى بَعْضٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک جنازہ گذرا لوگ اس کے عمدہ خصائل اور اس کی تعریف بیان کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی اسی اثناء میں ایک اور جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کے برے خصائل اور اس کی مذمت بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واجب ہونے سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10013]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عامر بن سعد البجلي عامر بن سعد البجلي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥إبراهيم بن عامر الجمحي إبراهيم بن عامر الجمحي ← عامر بن سعد البجلي | ثقة | |
👤←👥مسعر بن كدام العامري، أبو سلمة مسعر بن كدام العامري ← إبراهيم بن عامر الجمحي | ثقة ثبت | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← مسعر بن كدام العامري | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري | ثقة حافظ إمام |
Musnad Ahmad Hadith 10013 in Urdu
عامر بن سعد البجلي ← أبو هريرة الدوسي