مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 10957
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيَسْأَلَنَّكُمْ النَّاسُ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ , حَتَّى يَقُولُوا: اللَّهُ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَمَنْ خَلَقَهُ؟" . قَالَ قَالَ يَزِيدُ : فَحَدَّثَنِي نَجَبَةُ بْنُ صَبِيغٍ السُّلَمِيُّ ، أَنَّهُ رَأَى رَكْبًا أَتَوْا أَبَا هُرَيْرَةَ , فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ , فَقَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ , مَا حَدَّثَنِي خَلِيلِي بِشَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ , وَأَنَا أَنْتَظِرُهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے لوگ تم سے یقینا ہر چیز کے متعلق سوال کریں گے حتیٰ کہ وہ یہ بھی کہیں گے کہ ہر چیز کو تو اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ راوی حدیث یزید کہتے ہیں کہ مجھ سے نجبہ بن صبیغ سلمی نے بیان کیا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے کچھ سوار حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے یہی سوال پوچھا جس پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جو بھی چیزبیان فرمائی تھی یا تو میں اسے دیکھ چکا ہوں یا اس کا انتظار کر رہاہوں۔ راوی حدیث جعفر کہتے ہیں کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب لوگ تم سے یہ سوال پوچھیں تو تم یہ جواب دو کہ اللہ ہر چیز سے پہلے تھا اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اللہ ہی ہر چیز کے بعد ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10957]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3276، م: 135، وأما الثانية وهى الأثر، فإسنادها ضعيف لجهالة نجبة، وأما الثالثة: فإسنادها منقطع
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 10957 in Urdu
نجبة بن صبيغ السلمي ← أبو هريرة الدوسي