🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
707. حديث المسور بن مخرمة الزهري ومروان بن الحكم رضي الله تعالى عنهما
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18921
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ؛ وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ: وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ، أَوَ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَوَقَالَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَتْ: هُوَ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَلِمَةً أَبَدًا، فَاسْتَشْفَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِ عَائِشَةَ: إِلَّا كَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ، وَيَقُولَانِ لَهَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْهَجْرِ: " إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے کوئی بیع کی یا کسی کو کوئی بخشش دی تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ (جو ان کے بھانجے تھے) نے کہا کہ بخدا! عائشہ رضی اللہ عنہ کو رکنا پڑے گا ورنہ میں انہیں اب کچھ نہیں دوں گا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو فرمایا کیا اس نے یہ بات کہی ہے؟ لوگوں نے بتایاجی ہاں! فرمایا میں اللہ کے نام پر منت مانتی ہوں کہ آج کے بعد ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے کبھی کوئی بات نہیں کروں گی پھر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن اسود رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو زہرہ سے تھا " سے سفارش کروائی۔۔۔۔۔۔ یہ دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے بات کرنے اور ان کی معذرت قبول کرنے کے لئے قسمیں دیتے رہے اور کہنے لگے کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قطع کلامی سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی جائز نہیں ہے۔ طفیل بن حارث " جو کہ ازدشنوہ کے ایک فرد تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے ماں شریک بھائی بھائی تھے " سے مروی ہے۔۔۔۔۔ پھر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن اسود رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو زہرہ سے تھا " سے سفارش کروائی۔۔۔۔۔۔ یہ دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے بات کرنے اور ان کی معذرت قبول کرنے کے لئے قسمیں دیتے رہے اور کہنے لگے کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قطع کلامی سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی جائز نہیں ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18921]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن الأسود القرشي، أبو محمدمختلف في صحبته
👤←👥المسور بن مخرمة القرشي، أبو عبد الرحمن
Newالمسور بن مخرمة القرشي ← عبد الرحمن بن الأسود القرشي
صحابي
👤←👥عوف بن الحارث الأزدي
Newعوف بن الحارث الأزدي ← المسور بن مخرمة القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عوف بن الحارث الأزدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
Musnad Ahmad Hadith 18921 in Urdu