الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
794. حديث عمرو بن عبسة رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 19432
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ابْنِ جَابِرٍ الْحُدَّانِيِّ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْخٌ كَبِيرٌ، يَدَّعِمُ عَلَى عَصًا لَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي غَدَرَاتٍ وَفَجَرَاتٍ، فَهَلْ يُغْفَرُ لِي؟ قَالَ: " أَلَسْتَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟"، قَالَ: بَلَى، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ:" قَدْ غُفِرَ لَكَ غَدَرَاتُكَ وَفَجَرَاتُكَ" .
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بہت بوڑھا آدمی لاٹھی کے سہارے چلتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے بڑے دھوکے دیئے ہیں اور بڑے گناہ کئے ہیں کیا میری بخشش ہوسکتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے سب دھوکے اور گناہ معاف ہوگئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19432]
حکم دارالسلام: صحيح بشواهده، وهذا الإسناد فيه مكحول، وهو كثير الإرسال، ولا يعرف له سماع من عمرو بن عبسة، وقد عنعن
الرواة الحديث:
مكحول بن أبي مسلم الشامي ← عمرو بن عبسة السلمي