مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 1990
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ:" أَنْتَ تُفْتِي الْحَائِضَ أَنْ تَصْدُرَ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَا تُفْتِي بِذَلِكَ، قَالَ: إِمَّا لَا، فَاسْأَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَرَجَعَ زَيْدٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَضْحَكُ، فَقَالَ: مَا أُرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ".
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے کہ کیا آپ حائضہ عورت کو اس بات کا فتوی دیتے ہیں کہ وہ طواف وداع کرنے سے پہلے واپس جا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ فتوی نہ دیا کریں، انہوں نے کہا کہ جہاں تک فتوی نہ دینے کی بات ہے تو آپ فلاں انصاریہ خاتون سے پوچھ لیجئے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کا حکم دیا تھا؟ بعد میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ ہنستے ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں آپ کو سچا ہی سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1990]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1328.
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمن طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة إمام فاضل | |
👤←👥الحسن بن مسلم الخزاعي الحسن بن مسلم الخزاعي ← طاوس بن كيسان اليماني | ثقة | |
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد ابن جريج المكي ← الحسن بن مسلم الخزاعي | ثقة | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← ابن جريج المكي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة |
Musnad Ahmad Hadith 1990 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي