مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
842. حديث أبى بكرة نفيع بن الحارث بن كلدة رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 20524
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، فَذَكَرَ قِصَّةً فِيهَا قَالَ:" فَلَمَّا قَدِمَ خُيِّرَ عَبْدُ اللَّهِ بَيْنَ ثَلَاثِينَ أَلْفًا وَبَيْنَ آنِيَةٍ مِنْ فِضَّةٍ، قَالَ: فَاخْتَارَ الْآنِيَةَ، قَالَ: فَقَدِمَ تُجَّارٌ مِنْ دَارِينَ، فَبَاعَهُمْ إِيَّاهَا الْعَشْرَةَ ثَلَاثَةَ عَشْرَةَ، ثُمَّ لَقِيَ أَبَا بَكْرَةَ، فَقَالَ: أَلَمْ تَرَ كَيْفَ خَدَعْتُهُمْ؟ قَالَ: كَيْفَ؟ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ أَوْ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتَرُدَّنَّهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا" .
محمد نامی راوی ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا جب وہ آئے تو عبداللہ کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ تیس ہزار روپے لے یا چاندی کے برتن لے لے اس نے برتن لینے کو ترجیح دی پھر " دارین " سے کچھ تاجر آئے اس نے اس کے دس حصے تیرہ تیرہ ہزار میں فروخت کردیئے پھر حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے اس کی ملاقات ہوئی کہنے لگا کہ دیکھا میں نے اسے کس طرح دھوکہ دیا انہوں نے واقعہ پوچھا تو اس نے سارا واقعہ بتادیا حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اسے واپس کردو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کی چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20524]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات، لعل أبا بكرة يقصد بنهي النبى صلى الله عليه وسلم عن هذا البيع نهيه عن بيع الفضة بالفضة إلا مثلا بمثل
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، أبو محمد عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ← أيوب السختياني | ثقة |
Musnad Ahmad Hadith 20524 in Urdu
أيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري