یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2129
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، حِينَ أَتَاهُ، فَأَقَرَّ عِنْدَهُ بِالزِّنَا، قال:" لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ؟" , قَالَ: لَا , قَالَ:" فَنِكْتَهَا؟" , قَالَ: نَعَمْ , فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا؟ یا تم نے اسے صرف چھوا ہوگا؟“ انہوں نے کہا کہ نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر انہیں سنگسار کر دیا گیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2129]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6824.
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 2129 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي