مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2135
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي عَمِّي الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عِنْدَ زَمْزَمَ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، وَكَانَ نِعْمَ الْجَلِيسُ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ , قَالَ:" عَنْ أَيِّ بَالِهِ تَسْأَلُ؟" , قُلْتُ: عَنْ صَوْمِهِ، أَيّ يومٍ أصومُه؟ قَالَ:" إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعَةٍ، فَأَصْبِحْ مِنْهَا صَائِمًا" , قُلْتُ: أَكَذَاكَ كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ چاہ زمزم سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا: جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2135]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
الرواة الحديث:
الحكم بن عبد الله الثقفي ← عبد الله بن العباس القرشي