مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2189
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمَعَنَا بَدَنَتَانِ , فَأَزْحَفَتَا عَلَيْنَا فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ لِي سِنَان: هَلْ لَكَ فِي ابْنِ عَبَّاسٍ ؟ فَأَتَيْنَاهُ، فَسَأَلَهُ سِنَانٌ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُهَنِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ، لَمْ يَحُجَّج؟ قَالَ:" حُجَّ عَنْ أَبِيكَ".
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں اور سنان بن سلمہ ایک دفعہ اپنے گھر سے سفر پر نکلے، ہمارے پاس دو اونٹنیاں تھیں، راستے میں وہ تھک گئیں تو سنان نے مجھ سے کہا: کیا خیال ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلیں؟ ہم دونوں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی نے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ! میرے والد صاحب بہت بوڑھے ہو چکے ہیں، اور اب تک وہ حج بھی نہیں کر سکے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2189]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1325
الرواة الحديث:
عبد الله بن العباس القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي